ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا چین کے تعاون کے بغیر امریکا کے لیے مشکل، نیویارک ٹائمز

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر مؤثر طور پر کامیاب ہونا مشکل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی خام تیل کا اہم ترین خریدار ہے، جس کے باعث واشنگٹن کے لیے تہران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے بیجنگ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات گزشتہ برسوں میں مزید اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 41.2 ارب ڈالر رہا، جبکہ اسی سال چین نے ایران سے تقریباً 31.2 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض اوقات چینی خریدار ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد تک حصہ حاصل کرتے ہیں۔

چین ایران کے لیے اہم اقتصادی سہارا

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے تیل کے بڑے چینی خریداروں میں چین کی چھوٹی نجی ریفائنریاں شامل ہیں، جنہیں عام طور پر ’’ٹی پاٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریفائنریاں عالمی مالیاتی نظام سے بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے مقابلے میں کم منسلک ہیں، اس لیے امریکی پابندیوں کے اثرات سے نسبتاً زیادہ محفوظ رہ سکتی ہیں۔

امریکا ایران کے بینکوں، کمپنیوں، تیل کے تاجروں اور بحری جہازوں کو پابندیوں کا نشانہ بنا سکتا ہے، لیکن اگر چین ایرانی تیل خریدتا رہے اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھے تو ایران کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ موجود رہے گا۔

یہ صورتحال امریکی پابندیوں کی پالیسی کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ایران کی معیشت کو مکمل طور پر عالمی تجارت سے کاٹنے کے لیے صرف ایرانی اداروں کو نشانہ بنانا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ان ممالک اور کمپنیوں پر بھی دباؤ ڈالنا پڑے گا جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں، اور چین اس معاملے میں سب سے اہم ملک ہے۔

واشنگٹن کے لیے چین بڑا چیلنج

رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ چین کے پاس بھی امریکا پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے مؤثر ذرائع موجود ہیں۔ بیجنگ اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے امریکی صنعتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

چین پہلے بھی امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے دوران اہم معدنیات کی برآمدات محدود کرکے اپنے معاشی اثر و رسوخ کا مظاہرہ کرچکا ہے۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، دفاعی مصنوعات اور دیگر اہم صنعتی شعبوں کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔

اس لیے واشنگٹن کے لیے ایران کے معاملے میں بیجنگ کے خلاف سخت اقتصادی اقدامات اٹھانا ایک پیچیدہ فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اگر امریکا چین پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے تو بیجنگ بھی ایسے اقدامات کرسکتا ہے جن کے اثرات امریکی معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران پر دباؤ، مگر چین کے بغیر مشکل

تجزیے کے مطابق امریکا ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کرسکتا ہے، ایرانی تیل کی تجارت سے منسلک کمپنیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام تک ایران کی رسائی محدود کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ تاہم ان اقدامات کا مکمل اثر اسی وقت سامنے آسکتا ہے جب ایران کے بڑے خریدار بھی پابندیوں پر عمل کریں۔

چین اگر ایرانی تیل خریدتا رہتا ہے تو تہران کو اپنی معیشت کے لیے ضروری زرمبادلہ حاصل کرنے کا راستہ ملتا رہے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان دیگر تجارتی روابط بھی ایران کو امریکی دباؤ برداشت کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی حکمت عملی میں چین کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ واشنگٹن کے لیے ایک طرف ایران پر زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ ڈالنا مطلوب ہے، جبکہ دوسری طرف چین کے ساتھ پہلے ہی موجود تجارتی، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھانا ایک الگ خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھاری ٹیرف کا خطرہ ٹل گیا،چین امریکہ تجارتی جنگ 90 روز کےلیے موخر

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دباؤ

نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں امریکی فوجی حکمت عملی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث واشنگٹن نے بحرالکاہل کے خطے سے بعض فوجی اثاثے منتقل کیے ہیں۔

چینی مبصرین ان اقدامات کو ایشیا میں امریکی فوجی پوزیشن کے حوالے سے ممکنہ کمزوری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا کو مشرق وسطیٰ میں زیادہ فوجی وسائل مختص کرنا پڑتے ہیں تو اس کا اثر بحرالکاہل اور چین کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

یہ صورتحال امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے موجود جغرافیائی سیاسی مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ واشنگٹن بیک وقت ایران، مشرق وسطیٰ، چین اور دیگر عالمی معاملات پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ بیجنگ اپنے معاشی وسائل اور تجارتی تعلقات کو سفارتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چین کا فیصلہ فیصلہ کن ہوسکتا ہے

مجموعی طور پر نیویارک ٹائمز کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی کامیابی بڑی حد تک چین کے رویے پر منحصر ہوسکتی ہے۔ اگر چین ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھتا ہے تو ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا کرنا امریکا کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔

دوسری جانب اگر واشنگٹن چین کو ایران کے خلاف اپنی پابندیوں میں شامل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو تہران پر اقتصادی دباؤ کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم چین کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون حاصل کرنا آسان نہیں، کیونکہ بیجنگ کے اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات ایران کے ساتھ وابستہ ہیں۔

یوں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی جنگ محض واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاملہ نہیں رہی بلکہ اس میں چین کا کردار بھی فیصلہ کن حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ آنے والے عرصے میں امریکا کے لیے اصل چیلنج یہی ہوگا کہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے چین کے ساتھ کشیدگی کو کس حد تک قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

ہمیں فالو کریں