حملے کی تیاری یا خفیہ مشن؟ امریکی فوجی طیارے کی اچانک ماسکو آمد نے دنیا کو حیران کردیا

  اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  امریکی فضائیہ کے ایک فوجی طیارے کی غیر متوقع اور پُراسرار انداز میں روس کے دارالحکومت ماسکو آمد نے عالمی سطح پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکا ایران جنگ کے باعث عالمی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس ہے۔ امریکی فضائیہ کے سی 17 گلوب ماسٹر طیارے کی ماسکو آمد کے مقصد کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آسکی، جس کے باعث مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق امریکی فضائیہ کا سی 17 گلوب ماسٹر طیارہ منگل کی صبح تقریباً سات بجے جی ایم ٹی پر لٹویا کے دارالحکومت ریگا سے ماسکو پہنچا۔ طیارے پر امریکی رجسٹرڈ ٹیل نمبر موجود تھا جس سے اس کی شناخت امریکی طیارے کے طور پر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں :

امریکہ کا ایران کے خلاف اپنے حملوں میں پہلی بار ایک نئے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف

یہ پرواز معمول کی فوجی سرگرمی سے ہٹ کر اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنی ہے کہ امریکی اور روسی تعلقات پہلے ہی یوکرین جنگ اور دیگر عالمی معاملات کے باعث انتہائی حساس نوعیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ماسکو تک خفیہ سفر
فلائٹ ریڈار24 کی معلومات کے مطابق امریکی طیارہ 23 اگست کو واشنگٹن کے قریب واقع امریکی فضائی اڈے کیمپ اسپرنگز پہنچا تھا۔ اس کے بعد اتوار کی سہ پہر طیارے نے میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز سے ماسکو کے لیے پرواز کی۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز کو امریکی صدر اور اعلیٰ حکام کے سرکاری فضائی سفر کے لیے اہم فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی صدارتی اور اعلیٰ حکومتی سفر کے حوالے سے اس فوجی اڈے کی خصوصی اہمیت ہے۔

تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ طیارے میں کون موجود تھا اور اسے ماسکو بھیجنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ دستیاب معلومات میں اس حوالے سے کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ طیارہ کسی اعلیٰ امریکی شخصیت کو لے کر روس گیا تھا یا اس میں فوجی سامان، سفارتی عملہ یا کوئی اور مخصوص مواد موجود تھا۔

کریملن بھی لاعلم
امریکی طیارے کی ماسکو آمد کے حوالے سے روسی حکومت نے بھی کسی باقاعدہ ملاقات یا رابطے کی تصدیق نہیں کی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی طیارے کی آمد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں ہفتے کسی امریکی حکام کے ساتھ کوئی ملاقات طے نہیں تھی۔

کریملن کی جانب سے اس طرح کے کسی طیارے کی آمد سے لاعلمی کے اظہار نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔ اگر واقعی طیارہ کسی اہم سرکاری یا سفارتی مشن کے تحت ماسکو پہنچا تھا تو اس کی سرگرمیوں کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہوگی۔

مزید پڑھیں :

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ، عالمی برادری تشویش میں

تاہم فی الحال یہ محض ایک امکان ہے اور امریکی حکومت یا روسی حکام کی جانب سے ایسی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آخری امریکی پرواز بھی اہم مشن کے لیے گئی تھی

رپورٹ کے مطابق یورپ سے براہ راست روس جانے والی آخری امریکی رجسٹرڈ پرواز جنوری میں ہوئی تھی۔ اس وقت امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر یوکرین جنگ کے حوالے سے امن مذاکرات کے سلسلے میں روس پہنچے تھے۔

اسی پس منظر کی وجہ سے موجودہ پرواز نے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکی اور روسی حکام کے درمیان کسی ممکنہ سفارتی رابطے کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں مختلف سطحوں پر جاری رہتی ہیں۔

تاہم موجودہ پرواز اور جنوری کی سفارتی پرواز کے درمیان براہ راست تعلق قائم کرنے کے لیے فی الحال کوئی قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں۔

قیدیوں کے تبادلے سے متعلق قیاس آرائیاں

برطانوی اخبار دی آئی پیپر کے مطابق امریکی فوجی طیارے کی ماسکو آمد ممکنہ طور پر کسی سفارتی سرگرمی یا قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہوسکتی ہے۔یہ قیاس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور روس کے درمیان ماضی قریب میں قیدیوں کے تبادلے ہوچکے ہیں۔ اگست میں سابق امریکی میرین رابرٹ گلمن کی رہائی بھی اس سلسلے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔

امریکا اور روس کے درمیان قیدیوں کی رہائی اور تبادلوں کے معاملات عموماً انتہائی حساس سفارتی رابطوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں معلومات کو آخری وقت تک خفیہ رکھنا بھی غیر معمولی بات نہیں۔

تاہم موجودہ طیارے کی ماسکو آمد کو قیدیوں کے تبادلے سے جوڑنے کی اطلاعات فی الحال قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور اس کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

سی 17 گلوب ماسٹر کی اہمیت کیا ہے؟

سی 17 گلوب ماسٹر امریکی فضائیہ کا ایک بھاری بھرکم فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے۔ اسے فوجیوں، فوجی سازوسامان اور دیگر بھاری سامان کو طویل فاصلے تک منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے ،ٹرمپ

اس نوعیت کے طیارے کا عام تجارتی پروازوں سے مختلف مقصد ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماسکو جیسے حساس دارالحکومت میں امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کی اچانک آمد نے عالمی سطح پر تجسس پیدا کردیا ہے۔

اگرچہ سی 17 کا بنیادی کردار فوجی نقل و حمل ہے، لیکن کسی مخصوص پرواز کا مقصد صرف طیارے کی قسم دیکھ کر طے نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ معاملے میں بھی یہ معلوم نہیں کہ طیارے میں کیا منتقل کیا گیا یا اس پرواز کے پیچھے اصل مشن کیا تھا۔

روس یوکرین مذاکرات بھی تعطل کا شکار

امریکی فوجی طیارے کی ماسکو آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی اور بات چیت مختلف معاملات پر تعطل کا شکار ہے۔

روس اور امریکا کے درمیان براہ راست رابطے بھی یوکرین جنگ کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی بھی ممکنہ غیر اعلانیہ سفارتی رابطے کی صورت میں ایسی سرگرمی عالمی سیاست پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں کسی خفیہ مذاکرات یا اہم سفارتی مشن کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ طیارے کی آمد سے متعلق معلومات محدود ہیں اور امریکی حکام نے بھی ابھی تک اس حوالے سے کوئی تفصیلی وضاحت فراہم نہیں کی۔

امریکی حکام کی خاموشی نے تجسس بڑھا دیا

امریکی فوجی طیارے کی ماسکو آمد کے بعد سب سے اہم سوال اس کے مشن سے متعلق ہے۔ آیا یہ طیارہ کسی سفارتی سرگرمی کے لیے روس پہنچا، قیدیوں کے ممکنہ تبادلے کا حصہ تھا، کسی مخصوص شخص یا سامان کو منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوا یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد تھا، اس بارے میں فی الحال واضح معلومات موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :

امریکہ کا ایران کے خلاف اپنے حملوں میں پہلی بار ایک نئے ہتھیار کے استعمال کا انکشاف

امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہ آنے کے باعث قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب کریملن نے بھی کسی طے شدہ امریکی ملاقات یا طیارے کی آمد سے متعلق معلومات سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ ایک امریکی سی 17 گلوب ماسٹر طیارے کا جوائنٹ بیس اینڈریوز سے روانہ ہوکر ماسکو پہنچنا معمول کی نوعیت کی پرواز نہیں سمجھی جارہی۔ اس غیر متوقع سرگرمی نے عالمی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے اور اب سب کی نظریں اس سوال کے جواب پر ہیں کہ امریکی فوجی طیارہ آخر ماسکو کیوں پہنچا تھا

ہمیں فالو کریں