پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کا پارلیمان میں مشترکہ اپوزیشن کی حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پارلیمان کے اندر حکومت کے خلاف مشترکہ اپوزیشن کا کردار مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا۔

دونوں جماعتوں نے پارلیمانی معاملات میں مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ کمیٹی میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے ارکان شامل ہوں گے اور دونوں سیاسی جماعتیں کمیٹی کے لیے اپنے نمائندوں کے نام مرکزی قیادت کو فراہم کریں گی۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد دونوں جماعتوں کے درمیان پارلیمانی سطح پر رابطہ مضبوط بنانا اور حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی و پارلیمانی لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔

مشترکہ کمیٹی کی تشکیل

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی پارلیمان میں اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیوں کو مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کمیٹی میں شامل ارکان پارلیمانی امور، قانون سازی، حکومتی اقدامات اور ایوان میں اپوزیشن کے ردعمل سے متعلق معاملات پر مشاورت کریں گے۔

کمیٹی کی ذمہ داریوں میں حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانونی مسودوں اور دیگر اہم پارلیمانی امور کا جائزہ لینا بھی شامل ہوگا۔ دونوں جماعتیں اس فورم کے ذریعے کسی بھی اہم قانون سازی یا حکومتی فیصلے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کریں گی۔

حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی

ذرائع کے مطابق خصوصی کمیٹی حکومت کو پارلیمان کے اندر مؤثر انداز میں ٹف ٹائم دینے کے لیے تجاویز بھی مرتب کرے گی۔ اس مقصد کے لیے ایوان کی کارروائی، قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن کے ممکنہ ردعمل پر غور کیا جائے گا۔

کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ کن معاملات پر دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر احتجاج کریں گی اور کن مواقع پر پارلیمانی فورمز کو استعمال کرتے ہوئے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سرگرمیوں کو زیادہ منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے، تاکہ پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار زیادہ مؤثر بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں :خواجہ آصف کا پی ٹی آئی پر طنز، عمران خان کے معاملے پر این آر او کی خواہش کا الزام

بائیکاٹ کے فیصلے کا اختیار

مجوزہ کمیٹی کو اہم پارلیمانی فیصلوں کے حوالے سے بھی اختیارات دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے بائیکاٹ، احتجاج یا دیگر پارلیمانی اقدامات کے بارے میں کمیٹی مشترکہ فیصلہ کرسکے گی۔

اس اقدام کا مقصد ہر معاملے پر دونوں جماعتوں کی قیادت اور ارکان کے درمیان فوری رابطہ یقینی بنانا ہے۔ اس طرح کسی اہم پارلیمانی صورتحال کے دوران الگ الگ فیصلوں کے بجائے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ارکان فیصلوں کے پابند ہوں گے

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی ارکان کمیٹی کی جانب سے طے کی جانے والی حکمت عملی اور جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔

اس حوالے سے دونوں جماعتوں کی قیادت اپنے اپنے ارکان کو مشترکہ فیصلوں کی پابندی کرنے کی ہدایت کرے گی۔ یوں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے ارکان کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس

ذرائع کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ گزشتہ شب اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پارلیمان کے اندر حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمانی سطح پر اپنے رابطے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کی قانون سازی، پالیسیوں اور دیگر اقدامات پر مؤثر انداز میں ردعمل دیا جاسکے۔

سیاسی رابطوں میں اضافے کا امکان

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان پارلیمانی تعاون کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اپنا سیاسی اور پارلیمانی کردار مضبوط بنانے کی کوششیں کررہی ہیں۔

خصوصی کمیٹی کے قیام سے دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ کمیٹی نہ صرف پارلیمانی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی وضع کرے گی بلکہ مستقبل میں اہم سیاسی معاملات پر بھی دونوں جماعتوں کے درمیان مشاورت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ارکان کے نام طے ہونے کے بعد اس کے باقاعدہ اجلاس شروع کیے جائیں گے، جہاں آئندہ پارلیمانی اجلاسوں اور قانون سازی سے متعلق معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا قیام حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن کے اندر زیادہ منظم اور مربوط پارلیمانی حکمت عملی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔

ہمیں فالو کریں