اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوششوں پر امریکا میں بھی ردعمل سامنے آنے لگا ہے۔
امریکی ریاست مین سے تعلق رکھنے والی طویل عرصے سے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے خبردار کیا ہے کہ کینیڈا کا یورپی یونین کے ساتھ معاشی اور سیاسی روابط بڑھانا واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کی بحالی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
یورپ سے قربت پر تشویش
سینیٹر سوزن کولنز نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں سی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات کے ردعمل میں کینیڈا یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کولنز کے مطابق اس طرح کے اقدامات امریکا اور کینیڈا کے درمیان ماضی کے اچھے تعلقات کی بحالی میں مددگار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مضبوط اور بہتر تعلقات دیکھنا چاہتی ہیں۔
یورپی یونین کی نئی پیشکش
کینیڈا کے یورپ کی جانب بڑھتے رجحان کو اس وقت مزید اہمیت حاصل ہوئی جب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں ایک خطاب کے دوران کینیڈا کے لیے یورپی یونین کے ساتھ ایک نئی نوعیت کی شراکت داری کا دروازہ کھولنے کی بات کی۔
وان ڈیر لیین نے تجویز دی کہ کینیڈا کو یورپی یونین کا ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ بننے کی راہ فراہم کی جا سکتی ہے۔ تاہم یورپی یونین کے موجودہ قانونی ڈھانچے میں اس نوعیت کی رکنیت کا کوئی باقاعدہ درجہ موجود نہیں۔
کینیڈا کے یورپی یونین میں سفیر کے مطابق دونوں فریق ابھی کسی باضابطہ انتظام کو حتمی شکل دینے سے کافی دور ہیں، جبکہ وزیراعظم مارک کارنی پہلے ہی یورپ کے ساتھ ایک ’’منفرد اتحاد‘‘ قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کا سخت ردعمل
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان ممکنہ گہرے اتحاد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کینیڈا کے یورپی یونین کے ساتھ ممکنہ اتحاد کو ’’ہنسی کے قابل‘‘ قرار دیتے ہوئے یورپ کو نئے تجارتی اقدامات کی دھمکی دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہیں یہ اقدام کسی مخالفانہ عمل کے طور پر محسوس ہوا تو امریکا یورپ پر بہت زیادہ محصولات عائد کر سکتا ہے یا بعض اشیا کی تجارت روکنے تک جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس اقدام کے پیچھے نیک نیتی ہو تو صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔
تجارتی جنگ پر ریپبلکن اختلاف
سوزن کولنز کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی کانگریس میں بعض ریپبلکن ارکان بھی کینیڈا کے خلاف جاری تجارتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
کولنز نے واضح کیا کہ وہ امریکا اور کینیڈا دونوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ٹیرف جنگ کی حمایت نہیں کرتیں اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مذاکرات ہی کشیدگی کم کرنے کا راستہ ہیں۔
مین ریاست کا بڑا مفاد
کولنز کا مؤقف ان کے اپنے حلقے کے معاشی مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کینیڈا مین ریاست کے ساتھ انتہائی اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ ریاست کی درآمدات میں کینیڈا کا حصہ تقریباً دو تہائی جبکہ برآمدات میں تقریباً 40 فیصد بتایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کا ریفرنڈم، مارک کارنی کی موجودگی نے مہم میں نئی بحث چھیڑ دی
کولنز نے حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کا بھی کریڈٹ لیا تھا جس کے تحت کینیڈا سے آنے والی سیمنٹ اور سڑکوں پر استعمال ہونے والے نمک کو ان کینیڈین مصنوعات کی فہرست سے نکال دیا گیا جن پر 50 فیصد نئے محصولات عائد کیے گئے تھے۔
کانگریس میں مخالفت بڑھنے لگی
لوزیانا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر بل کیسڈی نے بھی سی بی سی سے گفتگو میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے مفاد میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنا درست نہیں۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ سینیٹر کرس کونز نے کہا کہ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کر بھی لیں تو ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کو فوری طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
کونز کے مطابق وہ امریکی قانون سازوں کے ایک دو طرفہ وفد کے کینیڈا کے دورے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ کینیڈین حکام کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ امریکا میں ایسے ارکان بھی موجود ہیں جو موجودہ کشیدگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ٹیرف واپس لینے کی کوشش
امریکی ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسی کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش بھی شروع کر دی ہے۔ سینیٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مخصوص قانونی اختیار کے تحت عائد کیے گئے محصولات کو ختم کرنا اور ان کے تحت وصول کی گئی رقم واپس کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تاہم اس بل کے قانون بننے کے امکانات اس وقت واضح نہیں، کیونکہ صدر ٹرمپ کے پاس صدارتی ویٹو کا اختیار موجود ہے۔ ایسے میں کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مستقبل کے سیاسی اور معاشی تعلقات بھی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
