تجارتی جنگ کے بیچ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کا دورۂ امریکا، سفارتی رابطوں کا دفاع

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے دوران اپنے آئندہ دورۂ امریکی ریاست ٹینیسی پر اٹھنے والے سوالات اور تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں مختلف سطحوں پر بااثر شخصیات سے رابطہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

ڈینیئل اسمتھ رواں ہفتے امریکی شہر نیشویل کا دورہ کریں گی، جہاں وہ اگرچہ ذاتی حیثیت میں جا رہی ہیں، تاہم اپنے قیام کے دوران شہر اور ریاست کی اہم کاروباری و سیاحتی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گی۔

تنقید مسترد

منگل کو کیلگری میں ایک غیر متعلقہ نیوز کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے البرٹا کی پریمیئر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ کسی کو اس بات پر حیرت نہیں ہوگی کہ وہ امریکا میں مختلف سطحوں پر لوگوں سے رابطے جاری رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان ایک غیر معمولی اور مضبوط شراکت داری موجود ہے، جسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

ڈینیئل اسمتھ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور دفاعی شعبوں میں گہرا تعاون پایا جاتا ہے اور البرٹا چاہتا ہے کہ یہ تعلقات مستقبل میں بھی مضبوط رہیں۔

نیشویل کا دورہ

پریمیئر ڈینیئل اسمتھ رواں ہفتے ذاتی دورے پر امریکی شہر نیشویل جائیں گی۔ان کے دفتر کے مطابق وہ اپنے دورے کے دوران نیشویل چیمبر آف کامرس کے سربراہ، ریاست کے سیاحت کمشنر مارک ایزل اور نیشویل کی سیاحتی مارکیٹنگ سے وابستہ ایک اہم ادارے کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کریں گی۔ان ملاقاتوں میں البرٹا کے امریکا میں سینئر نمائندے نیتھن کوپر بھی شامل ہوں گے۔

ذاتی دورہ مگر ملاقاتیں بھی

ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا کہ نیشویل کا دورہ ذاتی نوعیت کا ہے، تاہم امریکا میں موجودگی کے دوران وہ وہاں موجود تجربہ اور مہارت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ پہلے ہی نیشویل جا رہی ہیں تو وہاں کے ماہرین اور اہم شخصیات سے ملاقات کرکے ان کے تجربات سے سیکھنا فائدہ مند ہوگا۔

پریمیئر کے مطابق یہ دورہ البرٹا اور کیلگری کے لیے نئے اقتصادی اور ثقافتی مواقع تلاش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

نیشویل نارتھ کا منصوبہ

ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں سے ایک یہ جاننا ہے کہ کیلگری کو کس طرح "نیشویل نارتھ” کے طور پر ترقی دی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر موسیقی کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے اور اس شعبے کو البرٹا کی معیشت کے ایک مضبوط حصے کے طور پر فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لینا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشویل نے تقریباً 25 سال قبل ایسے اقدامات کیے تھے جنہوں نے اسے موسیقی کی صنعت کا ایک اہم مرکز اور اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔

تجربات سے فائدہ

پریمیئر البرٹا کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ نیشویل نے موسیقی کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے کون سی پالیسیاں اور حکمت عملیاں اختیار کیں۔

ان کے مطابق البرٹا اور نیشویل کی موسیقی کی صنعتوں کے درمیان باصلاحیت افراد اور مہارتوں کے تبادلے کے امکانات بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان ایسی شراکت داریاں قائم ہوں جن سے فنکاروں، موسیقی سے وابستہ کاروباروں اور دیگر پیشہ ور افراد کو فائدہ پہنچے۔

سیاحت پر بھی توجہ

پریمیئر نے کہا کہ البرٹا اپنی سیاحتی معیشت کو بھی وسعت دینا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت کیلگری اور البرٹا کے قدرتی، ثقافتی اور دیگر اہم اثاثوں کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے امکانات پر بات کرنے کے لیے موزوں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کا امریکا سے تجارتی جنگ ختم کرنے پر زور

ان کے مطابق نیشویل نے سیاحت اور تفریحی صنعت کو معاشی ترقی کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے اور البرٹا اس تجربے سے سیکھ سکتا ہے۔

تجارتی جنگ کا پس منظر

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔

ڈینیئل اسمتھ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکی حکام اور مختلف بااثر حلقوں سے رابطے ختم کرنے کے بجائے سفارتی کوششوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس سے قبل بھی کینیڈین حکام پر زور دیا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

مذاکرات کی ضرورت

البرٹا کی پریمیئر کا موقف ہے کہ کینیڈا کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع کو کم کرنے اور اقتصادی تعلقات کو مزید نقصان سے بچانے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ طویل المدتی تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر ہر ممکن سطح پر بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے۔

جوابی ٹیرف

کینیڈا کی وفاقی حکومت کی جانب سے 8 ستمبر سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف نافذ کیے جانے ہیں۔اوٹاوا کی جانب سے یہ اقدام امریکا کے ان نئے ٹیرف کے جواب میں کیا جا رہا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کینیڈین مصنوعات پر عائد کیے۔

امریکی حکومت نے 22 اگست سے 27 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

مذاکرات ناکام

امریکی ٹیرف نافذ ہونے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری تھے، تاہم آخری لمحات میں یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کہا تھا کہ امریکا مذاکرات میں بہت زیادہ مطالبات کر رہا تھا جبکہ اس کے بدلے میں کینیڈا کو بہت کم پیشکش کی جا رہی تھی۔

تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور کینیڈا نے امریکی اقدامات کے جواب میں جوابی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسمتھ کا مؤقف

ڈینیئل اسمتھ کے دورۂ نیشویل کو تجارتی جنگ کے دوران سفارتی رابطوں کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے بجائے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے۔

البرٹا کی پریمیئر کے مطابق ان کا نیشویل کا دورہ ذاتی نوعیت کا ضرور ہے، لیکن وہ اس موقع کو البرٹا کی موسیقی، سیاحت اور سرمایہ کاری کے شعبوں کے لیے نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے بھی استعمال کریں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان موجود اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات دونوں ممالک کے لیے اہم ہیں، اس لیے موجودہ تجارتی تنازع کے باوجود رابطوں اور سفارت کاری کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

ہمیں فالو کریں