اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سانحہ پمز کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ بھیجنے سے متعلق سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال چلانا وزارت صحت کی ذمہ داری نہیں۔
انہوں نے پمز واقعے پر سیاست کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر ’’ڈرامے بازی بند کریں‘‘۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے رش اور انتظامی معاملات پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں چار سے پانچ بڑے اسپتال موجود ہیں جہاں شہریوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ان اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ مسلسل موجود رہتا ہے، تاہم وزارت صحت کے دائرہ اختیار کے حوالے سے بعض باتوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔
اسپتال چلانا وزارت صحت کا کام نہیں
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ اسپتالوں کو براہِ راست چلانا وزارت صحت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کا کردار پالیسی سازی اور صحت کے وسیع تر معاملات سے متعلق ہے، جبکہ اسپتالوں کے انتظامی امور الگ نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتالوں میں انتظامی معاملات اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
استعفے کے سوال پر جواب سے گریز
پروگرام کے دوران جب وفاقی وزیر صحت سے پمز سانحے کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ بھیجنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
انہوں نے اس حوالے سے واضح مؤقف دینے کے بجائے گفتگو کا رخ وزارت صحت اور اسپتالوں کے انتظامی دائرہ اختیار کی جانب موڑ دیا۔
پمز واقعے پر سیاست نہ کرنے کی اپیل
مصطفیٰ کمال نے پمز واقعے کو سیاسی معاملہ بنانے والوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے پر سیاست کرنے والے ڈرامے بازی بند کریں اور معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے واقعات کے پس منظر میں حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ذمہ داری اور انتظامی معاملات کا درست تعین کیا جاسکے۔
اسلام آباد کے اسپتالوں پر دباؤ
وفاقی وزیر صحت کے مطابق اسلام آباد میں موجود بڑے اسپتال بڑی تعداد میں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث ان اداروں پر غیر معمولی دباؤ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مختلف انتظامی اور طبی چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں اسپتالوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
ذمہ داری کے تعین پر زور
پمز واقعے کے بعد سامنے آنے والے سوالات میں اسپتال کے انتظام، نگرانی اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کا معاملہ بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر صحت کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اسپتال کے براہِ راست انتظام کو وزارت صحت کی ذمہ داری قرار نہیں دے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو سیاسی بحث بنانے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر معاملے کو دیکھا جانا چاہیے۔
استعفے کا معاملہ زیر بحث
وزیر صحت سے استعفے کے حوالے سے سوال کیے جانے کے باوجود اس بارے میں ان کی جانب سے کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔ یوں پمز سانحے کے بعد ان کے استعفے سے متعلق سوال بدستور موجود ہے، جبکہ وفاقی وزیر نے اپنی گفتگو میں وزارت صحت کے دائرہ اختیار اور اسپتالوں کے انتظامی معاملات کو نمایاں کیا ہے۔
پمز واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری اسپتالوں کے انتظام، مریضوں کے دباؤ اور اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کے تعین سے متعلق سوالات کو اہم بنا دیا ہے۔
