اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے مینی ٹوبا کے شہر چرچل کے رہائشی ہڈسن بے میں سال بھر بحری جہازوں کی آمدورفت کے امکان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔ نئی مطالعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سمندری برف میں کمی کے باعث ہڈسن بے کے راستے سال بھر شپنگ ممکن ہوسکتی ہے، تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ کسی بھی توسیع سے پہلے اس کے سیاحت، ماحول اور جنگلی حیات پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پورٹ آف چرچل کے مالک آرکٹک گیٹ وے گروپ کی جانب سے کرائی گئی متعدد مطالعات کے مطابق ہڈسن بے میں سال بھر بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن ہوسکتی ہے اور اس کے لیے انتہائی مہنگے آئس بریکرز کی ضرورت بھی نہ پڑے، جو عام طور پر آرکٹک کے انتہائی برفانی پانیوں میں سفر کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہ امکان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری برف میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے، جس سے شمالی علاقوں میں بحری تجارت کے لیے زیادہ طویل مدت تک راستے کھلے رہنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
مینی ٹوبا کو نئی معاشی امید
مینی ٹوبا کے پریمیئر واب کینیو نے جمعے کو کہا کہ نئی مطالعات نے صوبے میں ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس کی برآمد کے امکانات کو تقویت دی ہے۔
چرچل کینیڈا کا واحد ایسا گہرے پانی کا بندرگاہی مقام ہے جو ریل کے ذریعے ملک کے اندرونی علاقوں سے منسلک ہے اور آرکٹک پانیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے صوبائی حکومت اسے مستقبل میں توانائی اور عالمی تجارت کے لیے اہم مرکز بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔
کینیو کے مطابق اگر بندرگاہ کی سرگرمیوں میں توسیع کی جاتی ہے تو چرچل کو نئی سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری مواقع مل سکتے ہیں۔ تاہم مجوزہ منصوبہ انتہائی بڑے پیمانے کا ہے۔ ان کے مطابق ہڈسن بے میں آف شور ایل این جی ٹرمینل سمیت پورٹ کی توسیع پر تقریباً 70 سے 80 ارب کینیڈین ڈالر لاگت آسکتی ہے۔
پریمیئر نے بتایا کہ وہ ستمبر میں ٹورنٹو کا دورہ کرکے عالمی سطح کے سرمایہ کاروں کے سامنے چرچل کی بندرگاہ کی توسیع کا منصوبہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مقامی آبادی میں امید اور خدشات
چرچل کے رہائشیوں کے لیے بندرگاہ کی توسیع کوئی بالکل نیا خیال نہیں۔ شہر کی تاریخ میں بندرگاہ اور شپنگ کا اہم کردار رہا ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں سیاحت بھی مقامی معیشت کا بڑا حصہ بن چکی ہے۔ٹور آپریٹر وپوسک ایڈونچرز سے وابستہ ڈیو ڈیلی کا کہنا ہے کہ سال بھر شپنگ شروع ہونے سے چرچل کی کم ہوتی آبادی کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ زیادہ بحری سرگرمیوں کا مطلب شہر میں مزید لوگوں کی آمد، نئی ملازمتیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ہوسکتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ماحول اور سیاحت کو کس طرح محفوظ رکھا جائے گا۔چرچل دنیا بھر میں قطبی ریچھوں، سیل، وہیل اور دیگر جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے مشہور ہے۔ شہر کی ایک بڑی سیاحتی صنعت انہی قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔
ڈیلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ زیادہ بحری سرگرمیوں سے سیل کی افزائش گاہیں متاثر ہوسکتی ہیں یا سمندری برف پر موجود قطبی ریچھوں کے معمولات میں خلل پڑ سکتا ہے۔
سیاحت اور شپنگ میں توازن کا مسئلہ
چرچل کے ایک اور ٹور آپریٹر جیریمی ایلن کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی شپنگ اور سیاحت کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ان کے مطابق تجربے میں دیکھا گیا ہے کہ جب بڑے بحری جہاز بندرگاہ میں آتے ہیں تو بعض اوقات وہیل علاقے سے دور چلی جاتی ہیں۔ اگر سال بھر بحری سرگرمیاں بڑھتی ہیں تو اس کا مقامی جنگلی حیات اور سیاحتی سرگرمیوں پر کیا اثر پڑے گا، یہ ایک اہم سوال ہے۔
تاہم ایلن کے مطابق چرچل کے بہت سے رہائشی بندرگاہ کی توسیع کے حامی بھی ہیں۔ کچھ مقامی خاندان ایسے ہیں جن کا تعلق تاریخی طور پر بندرگاہ سے رہا ہے اور وہ سیاحت کے بجائے بندرگاہی سرگرمیوں کو شہر کے مستقبل کے لیے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے لوگوں کی خواہش ہے کہ چرچل میں ان افراد کے لیے بھی روزگار کے مواقع موجود ہوں جو سیاحتی شعبے میں کام نہیں کرنا چاہتے۔
ماہرین نے ماحولیاتی خطرات سے خبردار کردیا
یونیورسٹی آف سسکیچیوان کے پروفیسر اور ہڈسن بے کے زیریں علاقوں کی ماحولیات کے ماہر ریان بروک نے خبردار کیا ہے کہ چرچل اور اس کے اطراف کا قدرتی ماحول انتہائی حساس ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی صنعتی حادثے کے اثرات اس علاقے میں تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ ایل این جی کے ماحولیاتی اثرات تیل سے مختلف ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایل این جی کی نقل و حمل مکمل طور پر بے خطر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں :چرچل بندرگاہ کی توسیع پر 80 ارب ڈالر تک لاگت کا تخمینہ، سال بھر ایل این جی شپنگ کا منصوبہ زیر غور
بروک کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی شپنگ اور صنعتی توسیع اپنے ساتھ حقیقی خطرات لے کر آتی ہے، اس لیے ان خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
میرین میمل ماہر اور سمندری تحفظ کی تنظیم اوشنز نارتھ سے وابستہ کرسٹن ویسٹڈل نے بھی کہا کہ منصوبے پر آگے بڑھنے سے پہلے مقامی جنگلی حیات پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔
ان کے مطابق بیلوگا، ناروال اور قطبی ریچھ سمیت متعدد اہم انواع کے مسکن اور نقل و حرکت پر اثرات کا مطالعہ کیا جانا چاہیے اور یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ ممکنہ نقصان کو کس طرح کم کیا جائے گا۔
سال بھر شپنگ ابھی صرف امکان
ویسٹڈل نے اس منصوبے کو فی الحال انتہائی قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا۔ ان کے مطابق سال بھر شپنگ کا تصور ابھی عملی منصوبے کے بجائے مستقبل کے ایک ممکنہ خیال کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اس حساس ماحول کے ساتھ کیا کرنا ہے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے، اس کے بعد ہی بڑے پیمانے پر صنعتی سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ ہونا چاہیے۔
دوسری جانب مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ سال بھر شپنگ کے لیے درکار خصوصی جہازوں کی قیمت سیکڑوں ملین ڈالر ہوسکتی ہے، جو آرکٹک اوقیانوس کی انتہائی موٹی برف توڑنے والے اربوں ڈالر مالیت کے بڑے آئس بریکرز کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
تاہم ایک تکنیکی مسئلہ بھی موجود ہے۔ مطالعے کے مطابق ایل این جی لے جانے والے بعض بڑے ٹینکرز برفانی پانی سے گزرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہوں گے، لیکن جب وہ مکمل طور پر ایل این جی سے لدے ہوں تو ممکن ہے کہ موجودہ بندرگاہ کے نسبتاً تنگ داخلی راستے میں مؤثر طریقے سے حرکت نہ کرسکیں۔
معیشت کو متنوع بنانے کی کوشش
چرچل میں بندرگاہ کی توسیع کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شہر کو صرف سیاحت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اسٹور، سابق پورٹ ملازم اور اب سیاحت سے وابستہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ متنوع معیشت چرچل کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی دنیا بھر میں نمایاں ہیں اور چرچل بھی ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر اقتصادی ترقی کا کوئی موقع سامنے آتا ہے تو اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے پر غور ہونا چاہیے۔
مجموعی طور پر چرچل کے لیے سال بھر شپنگ کا امکان ایک طرف معاشی ترقی، نئی ملازمتوں اور عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرنے کی امید پیدا کررہا ہے، جبکہ دوسری طرف ماحولیاتی تحفظ، جنگلی حیات اور سیاحت کے مستقبل سے متعلق سنجیدہ سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔
اب اصل چیلنج یہ ہوگا کہ اگر بندرگاہ کی توسیع کا منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو کیا حکومت، سرمایہ کار اور مقامی آبادی ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جس میں چرچل کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہو اور اس کے منفرد قدرتی ماحول اور عالمی شہرت یافتہ سیاحتی صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بھی محفوظ رکھا جاسکے۔
