امریکا کے بڑے اقتصادی دباؤ کے اعلان پر ایران کا سخت ردعمل سامنے آگیا

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور اس بار دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی دباؤ اور پابندیاں اہم محاذ بن گئے ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی کارروائی کے اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن کے دعووں پر سوال اٹھا دیا ہے۔

کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ اگر واشنگٹن کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت، دفاعی پیداوار اور جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے تو پھر ایران کے خلاف اتنی بڑی اقتصادی مہم شروع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

ایران کے خلاف امریکا کی بڑی معاشی کارروائی کا اعلان، واشنگٹن نے فیصلہ کن دباؤ بڑھانے کا عندیہ دے دیا

ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے تہران پر مالی اور اقتصادی دباؤ بڑھانے کی بات کی جارہی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو ایک نئے محاذ پر پہنچا دیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کا طنزیہ سوال

کاظم غریب آبادی نے امریکی بیانیے پر طنزیہ انداز اپناتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتیں واقعی مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہیں تو پھر واشنگٹن کو تاریخ کی سب سے بڑی مالی کارروائی شروع کرنے اور اپنے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہورہی ہے۔

انہوں نے امریکی دعووں کو چیلنج کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا یہ صورتحال امریکا کی فتح کی علامت ہے یا پھر اس کے برعکس کسی ناکامی کا اعتراف ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے اس قسم کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران امریکی دعووں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اپنی فوجی و دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے واشنگٹن کے مؤقف کو مسترد کررہا ہے۔

امریکی اقتصادی دباؤ کی نئی مہم

ایرانی ردعمل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی کارروائی کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے اہم ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔

امریکی حکمت عملی میں ایران کے مالیاتی نظام، تیل کی آمدنی اور دیگر اہم اقتصادی شعبوں پر دباؤ بڑھانا شامل رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تہران کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ کرکے اس کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونا بتایا جاتا ہے۔

تاہم ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتا آیا ہے اور تہران کا مؤقف رہا ہے کہ اقتصادی دباؤ اسے اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

ایران کی فوجی صلاحیتوں پر امریکی دعوے

تازہ کشیدگی میں ایک اہم نکتہ ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق امریکی دعوے ہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں واشنگٹن کی جانب سے ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچانے اور دفاعی و فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کے دعووں کا حوالہ دیا۔

مزید پڑھیں :

ایران مکمل جنگ کی حالت میں ہے، معاشی مسائل پر حکومت شرمندہ ہے: صدر پیزشکیان

ایرانی مؤقف یہ ہے کہ اگر امریکی دعوے درست ہیں اور ایران کی عسکری صلاحیتیں واقعی اس حد تک متاثر ہوچکی ہیں تو پھر تہران کے خلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی ضرورت خود امریکی بیانیے پر سوال پیدا کرتی ہے۔

یہی تضاد کاظم غریب آبادی کے بیان کا بنیادی نکتہ تھا۔ انہوں نے امریکی اقدامات اور واشنگٹن کے فتح کے دعووں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سوال اٹھایا کہ اگر جنگی مقاصد حاصل ہوچکے ہیں تو پھر اقتصادی محاذ پر مزید اتنے بڑے اقدامات کیوں کیے جارہے ہیں۔

اقتصادی پابندیاں کشیدگی کا اہم محاذ

ایران اور امریکا کے درمیان کئی دہائیوں سے مختلف نوعیت کے اختلافات موجود ہیں، تاہم اقتصادی پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا ایک اہم پہلو رہی ہیں۔

امریکا کی جانب سے ایران پر مختلف ادوار میں پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، جن کا اثر تیل کی برآمدات، مالیاتی لین دین اور بین الاقوامی تجارت سمیت مختلف شعبوں پر پڑتا ہے۔ ایران ان پابندیوں کو معاشی جنگ قرار دیتا ہے اور ان کے مقابلے کے لیے مختلف متبادل اقتصادی راستے اختیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

حالیہ صورتحال میں اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھانے کی بات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ ایران کی جانب سے سخت بیانات اور امریکا کی جانب سے مزید پابندیوں کے اعلانات اس بات کی علامت ہیں کہ فی الحال دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

تیل اور مالیاتی نظام پر دباؤ

ایران کی معیشت میں تیل کا شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے ایرانی تیل کی برآمدات امریکی پابندیوں کے اہم اہداف میں شامل رہی ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تیل کی آمدنی کو محدود کرنے کی کوششوں کا مقصد تہران کی مالی صلاحیت کو متاثر کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات کسی ملک کی درآمدات، برآمدات اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ایران دوسری جانب ان پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے اور متبادل مالیاتی راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

تہران کا مزاحمت جاری رکھنے کا عندیہ

کاظم غریب آبادی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران امریکی اقتصادی دباؤ کے سامنے جھکنے کا تاثر نہیں دینا چاہتا۔ تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بیرونی دباؤ کے باوجود وہ اپنے قومی مفادات اور پالیسیوں کا دفاع جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں :

ٹرمپ کا ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘، نئی معاشی جنگ کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

حالیہ بیان بھی اسی سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی اقدامات کو صرف اقتصادی فیصلہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر کشمکش کا حصہ قرار دیا ہے۔

کشیدگی کے عالمی اثرات بھی اہم

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتی۔ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتیں اور خطے میں موجود دیگر ممالک کے تعلقات بھی اس تنازع سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

خصوصاً اگر اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ عسکری کشیدگی بھی برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ ایران خطے میں ایک اہم ملک ہے اور اس کی توانائی کی برآمدات اور علاقائی روابط عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان بیان بازی کے ساتھ اقتصادی محاذ پر بھی دباؤ برقرار ہے۔ امریکا ایران پر مزید مالی پابندیاں عائد کرنے کی بات کررہا ہے جبکہ تہران واشنگٹن کے دعووں کو چیلنج کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔

کاظم غریب آبادی کا طنزیہ سوال اسی وسیع تر تنازع کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران یہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر امریکا واقعی اپنے بیان کردہ فوجی اہداف حاصل کرچکا ہے تو پھر اقتصادی محاذ پر مزید بڑے اقدامات کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کے لیے اقتصادی پابندیاں ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

یوں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف فوجی یا سفارتی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اقتصادی جنگ بھی اس تنازع کا ایک مرکزی حصہ بن چکی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست اور عالمی معیشت دونوں پر نمایاں ہوسکتے ہیں

ہمیں فالو کریں