اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مصباح ارشد کو ملک کی چوتھی مس یونیورس پاکستان منتخب کرلیا گیا ہے، جس کے بعد وہ عالمی سطح پر ہونے والے مس یونیورس کے مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی چوتھی پاکستانی بن گئی ہیں۔ ان کی کامیابی کا اعلان فلپائن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں انہیں مس یونیورس پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔
تقریب میں مس یونیورس پاکستان کے فرنچائز مالک جوش یوگن نے مصباح ارشد کو اعزاز کی پٹی پہنائی، جبکہ سابق مس یونیورس پاکستان روما ریاض نے انہیں تاج پہنایا۔ اس موقع پر مصباح ارشد نے اپنی کامیابی کے بعد خطاب کرتے ہوئے زندگی، ناکامی اور مسلسل جدوجہد کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔
آخری سوال نے فیصلہ بدل دیا
مصباح ارشد کا انتخاب مقابلے کے آخری مرحلے میں پوچھے گئے سوال کے بعد کیا گیا۔ فلپائن کے معروف موسیقار اور اداکار بیلی مے نے ان سے ایک دلچسپ سوال کیا کہ اگر انہیں اپنی 10 سالہ عمر والی شخصیت اور 80 سالہ عمر والی شخصیت کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھنے کا موقع ملے تو ان دونوں میں سے کون سی شخصیت ان سے زیادہ مشکل سوالات کرے گی؟
مصباح ارشد نے جواب دیا کہ ان کی 10 سالہ شخصیت ان سے زیادہ مشکل سوال کرے گی، کیونکہ وہ ان سے یہ جاننا چاہے گی کہ زندگی آخر کس طرح گزری۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کم عمر شخصیت کو بتائیں گی کہ زندگی کے سفر میں کئی مرتبہ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ہر بار گرنے کے بعد دوبارہ کھڑا ہو اور آگے بڑھنے کا حوصلہ برقرار رکھے۔
زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کا پیغام
مصباح ارشد نے اپنی گفتگو میں زندگی کو ایک خوبصورت چکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو زندگی کو صرف قبول کرنے کے بجائے اسے بھرپور انداز میں جینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی میں آنے والی مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور ناکامی کسی شخص کی حتمی شناخت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق انسان کی اصل پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ مشکلات کے بعد کس طرح خود کو سنبھالتا اور اپنی منزل کی جانب دوبارہ سفر شروع کرتا ہے۔
مصباح ارشد نے اس موقع پر ایک خوبصورت مثال دیتے ہوئے کہا کہ آگ جتنی تیز ہوتی ہے، سونا اتنا ہی خالص ہوتا ہے۔ ان کے اس پیغام کو ان کی جدوجہد اور عالمی حسن کے مقابلوں میں مسلسل شرکت کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
عالمی مقابلوں کا تجربہ
مصباح ارشد کو عالمی حسن کے مقابلوں میں شرکت کا پہلے سے تجربہ حاصل ہے۔ وہ 2023 میں جاپان میں منعقد ہونے والے مس انٹرنیشنل مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :مس یونیورس کینیڈا مقابلے میں ثقافتی تضحیک پر تنازع، ایشلے کالنگ بُل نے اسٹیج پر آواز اٹھا دی
اس کے علاوہ وہ 2024 میں پولینڈ میں ہونے والے مس سپرا نیشنل مقابلے میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ ان مقابلوں میں شرکت نے انہیں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی امیدواروں کے ساتھ مقابلے کا تجربہ فراہم کیا۔
مصباح ارشد کا تعلق نفسیات کے شعبے سے ہے اور وہ نفسیات کی طالبہ ہیں۔ ان کی تعلیمی دلچسپی اور حسن کے عالمی مقابلوں میں سابقہ تجربہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے۔
اب مس یونیورس کا عالمی مرحلہ
مس یونیورس پاکستان منتخب ہونے کے بعد مصباح ارشد اب پورٹو ریکو روانہ ہوں گی، جہاں وہ مس یونیورس کے 75ویں عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔
اس عالمی مقابلے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی امیدواریں شریک ہوں گی۔ مصباح ارشد کی شرکت پاکستان کے لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے کیونکہ وہ عالمی سطح پر پاکستانی امیدوار کے طور پر ملک کی نمائندگی کریں گی۔
ان کی کامیابی کے بعد پاکستان کی جانب سے عالمی حسن کے مقابلے میں شرکت کا سلسلہ مزید آگے بڑھ گیا ہے۔ مصباح ارشد کے سامنے اب اگلا چیلنج عالمی مقابلے میں اپنی صلاحیتوں، اعتماد اور شخصیت کو نمایاں کرنا ہوگا۔
ناکامی کو شکست نہیں سمجھتیں
اپنی کامیابی کے بعد جاری کیے گئے پیغام میں مصباح ارشد نے کہا کہ ناکامی اس بات کا تعین نہیں کرتی کہ کوئی انسان فاتح ہے یا نہیں۔ان کے مطابق اصل کامیابی امید کو زندہ رکھنے، مسلسل کوشش کرتے رہنے اور ہر قدم کے ساتھ خود کو بہتر بنانے میں ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کو صرف تاج حاصل کرنے تک محدود نہیں کیا بلکہ اسے ایک طویل سفر کا نتیجہ قرار دیا۔
مصباح ارشد نے کہا کہ اگرچہ انہیں تاج مل گیا ہے، لیکن ان کے لیے اصل انعام اس پورے سفر میں حاصل ہونے والے تجربات، سیکھے گئے اسباق اور ان لوگوں کی صورت میں ہے جو اس دوران ان کی زندگی کا حصہ بنے۔
پاکستان کی نمائندگی کا نیا موقع
مصباح ارشد کی مس یونیورس پاکستان کے طور پر کامیابی انہیں ایک ایسے عالمی پلیٹ فارم پر لے جارہی ہے جہاں انہیں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔ ان کے لیے یہ سفر صرف حسن کے مقابلے تک محدود نہیں بلکہ اپنی شخصیت، خیالات اور تجربات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بھی موقع ہوگا۔
مصباح ارشد نے اپنی گفتگو میں جس طرح ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے، امید برقرار رکھنے اور زندگی کو بھرپور انداز میں جینے پر زور دیا، وہ ان کی مہم کا اہم پیغام بھی بن سکتا ہے۔
اب نظریں پورٹو ریکو میں ہونے والے مس یونیورس کے عالمی مقابلے پر ہیں، جہاں مصباح ارشد پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کی کوشش کریں گی۔
