کینیڈا میں نئی سیاسی صف بندی، امریکا سے کشیدگی، یورپ سے قربت اور معاشی دباؤ بڑھنے لگا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ملکی سیاست، معیشت اور خارجہ تعلقات ایک دوسرے سے تیزی سے جڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کو ایک طرف امریکا کے ساتھ بڑھتی تجارتی کشیدگی کا سامنا ہے تو دوسری جانب یورپ کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ مہنگائی، روزگار اور کاروباری سرمایہ کاری جیسے داخلی مسائل بھی حکومت کے لیے اہم امتحان بن گئے ہیں۔

پارلیمنٹ دوبارہ فعال

تین ماہ کے وقفے کے بعد کینیڈا کی پارلیمنٹ دوبارہ فعال ہوچکی ہے اور خزاں کے اجلاس میں معیشت، تجارت اور عوامی اخراجات اہم موضوعات بن گئے ہیں۔ حکومت نے آنے والے عرصے میں اہم معاشی اور قانون سازی کے اقدامات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ اپوزیشن حکومت کو مہنگائی اور عوامی اخراجات کے معاملے پر گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکا سے بڑا تنازع

کینیڈا کے لیے سب سے بڑا بیرونی چیلنج امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نئی ٹیرف پالیسیوں اور جوابی اقدامات نے کئی کاروباری شعبوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔

بینک آف کینیڈا کے گورنر ٹیف میکلم نے خبردار کیا ہے کہ نئے امریکی ٹیرف برقرار رہے تو 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں کینیڈا کی اقتصادی شرح نمو ایک فیصد سے بھی نیچے جاسکتی ہے۔ بینک کے مطابق تجارتی غیر یقینی صورتحال کاروباری سرمایہ کاری اور نئی بھرتیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

معیشت میں دو متضاد رجحانات

کینیڈین معیشت نے دوسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 3.3 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جبکہ پہلی سہ ماہی میں صورتحال کمزور رہی تھی۔ روزگار کی صورتحال میں بھی کچھ بہتری دیکھی گئی اور جولائی میں بے روزگاری کی شرح 6.4 فیصد تک آگئی۔

لیکن دوسری طرف مہنگائی اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ بینک آف کینیڈا کے مطابق افراط زر تقریباً 3 فیصد کے قریب ہے، جو بینک کے 2 فیصد ہدف سے زیادہ ہے۔ یعنی معیشت میں بہتری کے آثار موجود ہیں لیکن تجارتی جنگ اور توانائی کی قیمتیں مستقبل کے لیے غیر یقینی پیدا کررہی ہیں۔

یورپ کی طرف نئی نظر

امریکا پر معاشی انحصار کم کرنے کے لیے کینیڈا یورپ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ حال ہی میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ’ایسوسی ایٹ ممبر‘ بنانے کے امکان کی بات کی، تاہم ایسا کوئی باقاعدہ رکنیت کا درجہ فی الحال یورپی یونین میں موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اوٹاوا میں پاکستانی انجینئرنگ پروفیشنلز سے ہائی کمشنر محمد سلیم کی ملاقات، پاکستان کینیڈا تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

کارنی نے یورپ کے ساتھ قریبی تعاون کی حمایت کی ہے اور کینیڈا کی خارجہ و تجارتی حکمت عملی میں شراکت داریوں کو متنوع بنانے پر زور دیا ہے۔

امریکا کے لیے پیغام

کارنی حکومت کا موجودہ راستہ صرف فوری تجارتی تنازع کا جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ طویل مدت میں کینیڈا کی معاشی انحصاری کم کرنے کی کوشش بھی دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعظم نے سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور ملکی پیداواری صلاحیت بڑھانے کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے ہدف کے ساتھ ملکی معیشت کو زیادہ مضبوط اور متنوع بنانا چاہتی ہے۔

عوام کی جیب پر دباؤ

تاہم حکومت کے لیے اصل داخلی امتحان عوامی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں اور تجارتی ٹیرف کاروباری لاگت میں اضافہ کرسکتے ہیں، جس کا اثر اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں صرف خارجہ پالیسی یا امریکا سے تعلقات نہیں بلکہ مہنگائی، روزگار اور عوامی اخراجات بھی سیاسی بحث کا مرکز بن رہے ہیں۔

البرٹا کا الگ راستہ

وفاقی سطح کے ساتھ صوبائی سیاست میں بھی ایک اہم بحث جاری ہے۔ البرٹا میں 19 اکتوبر کو علیحدگی کے حوالے سے ریفرنڈم کا سوال ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس معاملے نے وفاق اور صوبے کے تعلقات، توانائی پالیسی اور البرٹا کے مستقبل پر بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں یہ بحث بھی ہوئی کہ حکومت علیحدگی کے خلاف مہم کو کس حد تک آگے بڑھا رہی ہے۔ اسمتھ نے اپنی پارٹی کے صدر کی جانب سے عائد ایک الزام کو مسترد کیا ہے۔

سیاسی منظرنامہ

وفاقی سطح پر لبرل حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت موجود ہے، جس سے اسے قانون سازی کے لیے نسبتاً زیادہ گنجائش حاصل ہوئی ہے۔ تاہم اپوزیشن مہنگائی، معیشت اور حکومت کی پالیسیوں کو سیاسی بحث کا مرکز بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

آگے کا امتحان

مجموعی طور پر کینیڈا کی موجودہ صورتحال میں تین بڑے سوال نمایاں ہیں: امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع کس حد تک جائے گا، یورپ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ نئے معاشی روابط کتنی تیزی سے عملی شکل اختیار کریں گے، اور حکومت داخلی سطح پر مہنگائی اور روزگار کے دباؤ سے کیسے نمٹے گی۔

اگر امریکی ٹیرف برقرار رہتے ہیں تو کینیڈین کاروبار اور سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ یورپ کی طرف نئی شراکت داری کینیڈا کو متبادل راستے فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم ان اقدامات کے نتائج فوری طور پر سامنے آنے کے بجائے وقت کے ساتھ واضح ہوں گے۔

اس لیے موجودہ کینیڈین منظرنامہ محض حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کشمکش تک محدود نہیں۔ یہ دراصل ایک ایسے ملک کی سمت متعین کرنے کا مرحلہ ہے جو اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار امریکا کے ساتھ تعلقات میں نئی حقیقت کا سامنا کررہا ہے اور بیک وقت اپنی معیشت، عالمی شراکت داریوں اور وفاقی ڈھانچے کو نئی سمت دینے کی کوشش میں ہے۔

ہمیں فالو کریں