مسی ساگا میں میئر کے امیدواروں کے درمیان آزاد آڈیٹر جنرل کا معاملہ اہم انتخابی موضوع بن گیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں بلدیاتی انتخابات قریب آتے ہی میئر کے امیدواروں کے درمیان شہر کے مالی معاملات اور نگرانی کے نظام پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ میئر کی امیدوار دیپیکا ڈیمرلا نے شہر میں ایک آزاد آڈیٹر جنرل مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دیگر امیدواروں نے بھی اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف سامنے رکھ دیے ہیں۔

آزاد آڈیٹر جنرل کا مطالبہ

دیپیکا ڈیمرلا کا کہنا ہے کہ مسی ساگا کو طویل عرصے سے ایک آزاد آڈیٹر جنرل کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اونٹاریو کے کئی بڑے شہروں میں آزاد آڈیٹر جنرل کا نظام موجود ہے، جس کے ذریعے بلدیاتی اداروں کے اخراجات، انتظامی فیصلوں اور شکایات کی آزادانہ جانچ کی جاسکتی ہے۔

ڈیمرلا نے پیر کو اپنی انتخابی مہم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگر شہر کے اپنے ملازمین ہی شہر سے متعلق آنے والی شکایات کی تحقیقات کریں گے تو نگرانی کے نظام میں مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

کونسل کا سابق فیصلہ

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ رواں سال مارچ میں مسی ساگا سٹی کونسل کے تقریباً تمام ارکان نے آزاد آڈیٹر جنرل کی تقرری کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اس وقت ڈیمرلا کے علاوہ تمام کونسلرز نے اس عہدے کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز مسترد کردی تھی۔

کونسل نے اس کے بجائے شہر کے موجودہ آڈٹ ڈپارٹمنٹ کو مزید مضبوط بنانے اور شہریوں کے لیے فراڈ ہاٹ لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ڈیمرلا کا مؤقف

ڈیمرلا اب اپنی انتخابی مہم میں آزاد آڈیٹر جنرل کو اہم مسئلہ بنا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے مالی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی کے لیے ایسی نگرانی ضروری ہے جو انتظامیہ سے آزاد ہو۔

ان کے مطابق شہریوں کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اگر کسی منصوبے، اخراجات یا انتظامی فیصلے کے بارے میں سوال اٹھتا ہے تو اس کی تحقیقات ایسے ادارے کے ذریعے ہوسکیں گی جو شہر کے انتظامی ڈھانچے سے آزاد ہو۔

ٹیڈجو کی مہم کا جواب

ڈیمرلا کے مطالبے پر میئر کے امیدوار ایلوِن ٹیڈجو کی انتخابی مہم نے بھی ردعمل دیا ہے۔ ان کی مہم کا کہنا ہے کہ ٹیڈجو طویل عرصے سے آزاد آڈیٹر جنرل کے قیام کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

تاہم ٹیڈجو کی مہم نے ڈیمرلا کے موجودہ مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماضی میں اس عہدے سے متعلق معاملے کا مطالعہ کرنے کی تجویز کے خلاف ووٹ دے چکی ہیں۔

یوں انتخابی مہم میں صرف آزاد آڈیٹر جنرل کے قیام کا معاملہ ہی زیر بحث نہیں بلکہ امیدواروں کے سابقہ ووٹنگ ریکارڈ بھی سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔

بونی کرومبی کی حمایت

میئر کے انتخاب میں امیدوار بونی کرومبی نے بھی مسی ساگا میں آزاد آڈیٹر جنرل کی حمایت کردی ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام شہر کے اخراجات پر ضروری نگرانی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :برٹش کولمبیا میں سفید فام قوم پرستوں کا اجتماع،کینیڈا میں شدید ردعمل

کرومبی نے آزاد آڈیٹر جنرل کو مالی معاملات پر ایک ضروری نگرانی قرار دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کے بجٹ، اخراجات اور انتظامی فیصلوں کی جانچ انتخابی مہم کے اہم موضوعات میں شامل ہوگئی ہے۔

موجودہ میئر کا مختلف مؤقف

مسی ساگا کی موجودہ میئر کیرولین پیرش نے آزاد آڈیٹر جنرل کے مطالبے کے بجائے موجودہ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی بات کی ہے۔

پیرش کے مطابق سٹی کونسل پہلے ہی نگرانی کے نظام میں بہتری لاچکی ہے۔ ان اقدامات میں نئے آڈیٹرز کی تقرری، شہریوں کے لیے فراڈ ہاٹ لائن تک رسائی اور آڈٹ کمیٹی میں شہری نمائندوں کی شمولیت شامل ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے شہریوں کو مالی معاملات اور انتظامی امور کی نگرانی میں مزید کردار دیا گیا ہے۔

انتخابی مہم میں شفافیت کا سوال

مسی ساگا میں میئر کا انتخاب جیسے جیسے قریب آرہا ہے، شہر کے مالی انتظام، احتساب اور شفافیت سے متعلق سوالات زیادہ نمایاں ہورہے ہیں۔ آزاد آڈیٹر جنرل کی بحث بنیادی طور پر اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ بلدیاتی ادارے اپنے اخراجات اور فیصلوں کی نگرانی کس حد تک آزادانہ انداز میں کریں۔

ایک طرف ڈیمرلا اور کرومبی آزاد آڈیٹر جنرل کی حمایت کررہی ہیں، جبکہ پیرش موجودہ آڈٹ اور نگرانی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کی بات کررہی ہیں۔ ٹیڈجو کی مہم بھی آزاد آڈیٹر جنرل کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم ڈیمرلا کے سابقہ ووٹ پر سوال اٹھاتی ہے۔

ووٹرز کے سامنے اہم معاملہ

مسی ساگا کے ووٹرز کے لیے یہ بحث صرف ایک نئے عہدے کے قیام تک محدود نہیں بلکہ اس سے شہر کے مالی نظم و نسق، شفافیت اور عوامی جواب دہی کا وسیع سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ انتخابی مہم میں امیدوار اپنے اپنے منصوبوں اور سابقہ مؤقف کی بنیاد پر شہریوں کے سامنے مؤقف پیش کر رہے ہیں۔

انتخابات سے قبل آزاد آڈیٹر جنرل کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہوگیا ہے کہ مختلف امیدوار نگرانی کے نظام کے لیے مختلف راستے تجویز کررہے ہیں۔ حتمی فیصلہ بہرحال مسی ساگا کے ووٹرز کریں گے، جو انتخابات میں میئر اور کونسل کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

ہمیں فالو کریں