کیلگری شاو ضمنی انتخاب،کینیڈا کے حق میں آوازیں اور البرٹا کی بدلتی سیاسی فضا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کے شہر کیلگری میں ہونے والے شاو کے ضمنی انتخاب نے صوبے کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ روایتی طور پر یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (یو سی پی) کے مضبوط حلقے سمجھے جانے والے اس انتخابی حلقے میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے امیدوار کائل کیمبل کی کامیابی نے سیاسی جماعتوں کو آئندہ انتخابات، البرٹا کی علیحدگی کے ریفرنڈم اور صوبے میں بڑھتی وفاقی یکجہتی کی بحث پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

گھروں پر کینیڈین پرچم

ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران کیلگری شاو کی گلیوں میں یو سی پی کے نیلے اور این ڈی پی کے نارنجی انتخابی نشانات کے ساتھ بڑی تعداد میں کینیڈین پرچم بھی دکھائی دیے۔

کئی گھروں کے باہر ’’فور ایور کینیڈین‘‘ سمیت ایسے سائن بورڈز بھی نصب کیے گئے جنہیں ملک کی وحدت کی حمایت اور البرٹا کی علیحدگی کی مخالفت کے پیغام کے طور پر دیکھا گیا۔

این ڈی پی کے رہنما ناہید نینشی نے انتخابی نتائج کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتخابی مہم کے کارکنان ان گھروں کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے تھے جہاں پارٹی کو حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔

یو سی پی سے این ڈی پی تک تبدیلی

کیلگری شاو میں ہونے والی سیاسی تبدیلی اس لیے بھی نمایاں ہے کیونکہ گزشتہ عام انتخابات میں یو سی پی نے اس حلقے میں تقریباً 14 فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

حالیہ ضمنی انتخاب میں صورتحال تبدیل ہوگئی اور این ڈی پی نے تقریباً چار فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کرلی۔ یوں گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں ووٹوں میں تقریباً 18 فیصد پوائنٹس کی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

کیلگری کے ان حلقوں میں شاو یو سی پی کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ 2023 کے صوبائی انتخابات میں پارٹی نے کیلگری کے 12 حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی اور شاو ان میں تیسرا ایسا حلقہ تھا جہاں کامیابی کا فرق سب سے زیادہ تھا۔

علیحدگی کا ریفرنڈم اہم موضوع

سیاسی تجزیے میں اس ضمنی انتخاب کو براہ راست اگلے عام انتخابات کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے البرٹا میں ہونے والے آئندہ علیحدگی کے ریفرنڈم کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کے سوال پر ریفرنڈم 19 اکتوبر کو شیڈول ہے۔ اس بحث نے صوبے کی سیاست میں نمایاں جگہ بنائی ہے اور کیلگری شاو کے انتخابی نتائج کو اسی تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ البرٹا کو کینیڈا کا حصہ برقرار رکھنے کی حمایت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ریفرنڈم کا معاملہ اس لیے آگے بڑھایا گیا کیونکہ علیحدگی کے حامی درخواست گزاروں کی جانب سے اس کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

این ڈی پی کی انتخابی حکمت عملی

ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ناہید نینشی اور کائل کیمبل نے مسلسل یہ مؤقف اجاگر کیا کہ علیحدگی کا ریفرنڈم یو سی پی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

این ڈی پی نے اپنی انتخابی مہم میں کینیڈا کے ساتھ البرٹا کی وابستگی کو ایک مرکزی موضوع کے طور پر استعمال کیا۔ کائل کیمبل کی کامیابی کے بعد کیلگری کے ایک بار میں ان کے حامیوں نے اچانک کینیڈا کا قومی ترانہ ’’او کینیڈا‘‘ بھی گایا۔

نینشی نے کامیابی کو ’’زلزلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس نتیجے نے البرٹا کی سیاست میں ایک اہم پیغام دیا ہے۔

نینشی کے دعوے

کامیابی کے بعد ناہید نینشی نے کہا کہ ضمنی انتخاب کے نتائج آنے والے ریفرنڈم سے قبل ڈینیئل اسمتھ اور ان کے سیاسی ساتھیوں کے لیے پیغام ہیں۔ انہوں نے مستقبل کے عام انتخابات کے حوالے سے بھی این ڈی پی حکومت کے قیام کی بات کی۔

تاہم ایک ضمنی انتخاب کے نتائج کو پورے صوبے کے آئندہ عام انتخابات پر لاگو کرنا براہ راست ممکن نہیں۔ مختلف حلقوں میں سیاسی رجحانات، امیدوار، انتخابی مہم، مقامی مسائل اور ووٹر ٹرن آؤٹ مختلف ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان تحریک انصاف نے اپوزیشن لیڈرز کے تقرر کا فیصلہ مؤخر کر دیا،ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ

ماضی کی مثال

کینیڈا کی وفاقی سیاست میں بھی حالیہ برسوں کے دوران ایسے ضمنی انتخابات سامنے آئے جن کے نتائج کو بعد میں وسیع سیاسی تبدیلیوں سے جوڑ کر دیکھا گیا، لیکن ہر ضمنی انتخاب مستقبل کے عام انتخابات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

اسی لیے کیلگری شاو کے نتائج البرٹا کی سیاست میں ایک اہم واقعہ ضرور ہیں، لیکن آئندہ عام انتخابات کے حتمی نقشے کے بارے میں ان سے براہ راست نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ڈینیئل اسمتھ کے لیے پیغام

ضمنی انتخاب کے نتائج سے البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی حکومت کے سامنے یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہے کہ شہری اور مضافاتی علاقوں میں وفاقی یکجہتی کے معاملے کو کس انداز میں سیاسی طور پر پیش کیا جائے۔

اسمتھ کی حکومت مستقبل میں علیحدگی کے سوال سے زیادہ دوری اختیار کرنے، اقتصادی اور صوبائی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے یا اپنی موجودہ حکمت عملی جاری رکھنے جیسے مختلف راستے اختیار کرسکتی ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات

یو سی پی کے اندر بھی علیحدگی کے معاملے پر مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض پارٹی کارکنان وفاقی اتحاد کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بعض علیحدگی کے حامی موقف رکھتے ہیں۔

آئندہ نومبر میں پارٹی کنونشن کے دوران قیادت کے سامنے اس معاملے پر مزید سیاسی دباؤ یا بحث سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔

حلقہ بندی بھی اہم

البرٹا میں آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی حلقوں کی نئی حلقہ بندی بھی سیاسی نقشے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ عمل میں بعض شہری اور مضافاتی حلقوں کو ایسے دیہی علاقوں کے ساتھ جوڑنے کی تجاویز زیر بحث ہیں جہاں یو سی پی کو نسبتاً زیادہ حمایت حاصل رہی ہے۔

یوں کیلگری شاو کا ضمنی انتخاب، اکتوبر کے ریفرنڈم، پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نئی انتخابی حلقہ بندی—یہ سب عوامل مل کر البرٹا کی آئندہ سیاسی صورتحال تشکیل دے سکتے ہیں۔ تاہم اگلے عام انتخابات تک صوبے کی سیاست میں مزید کئی تبدیلیاں متوقع ہیں، اس لیے موجودہ نتیجے کو حتمی سیاسی نقشہ سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔

ہمیں فالو کریں