اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)
کینیڈا میں کاروباری سرمایہ کاری کے لیے بڑا ٹیکس ریلیف، کارنی حکومت کا میگا ڈیڈکشن متعارف
کینیڈا کی وفاقی حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے اور کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے بڑے ٹیکس ریفارم کا اعلان کردیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ کے دوران پروڈکٹیوٹی میگا ڈیڈکشن متعارف کراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد کینیڈا کو جی7 ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے زیادہ پرکشش ملک بنانا ہے۔
نئی ٹیکس سہولت
نئے پروگرام کے تحت کاروباری ادارے مختلف شعبوں میں کی جانے والی نئی سرمایہ کاری کی مکمل لاگت کو ٹیکس میں فوری طور پر منہا کرسکیں گے۔ اس سہولت کا دائرہ مشینری، آلات، صاف توانائی، زیرو ایمیشن گاڑیوں اور دیگر شعبوں میں ہونے والی سرمایہ کاری تک بڑھایا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق اس اقدام سے کمپنیوں کو نئی سرمایہ کاری پر خرچ کی گئی رقم واپس حاصل کرنے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سہولت ملے گی، جس سے انہیں مزید منصوبوں میں سرمایہ لگانے کی ترغیب مل سکتی ہے۔
پرانے پروگرام میں توسیع
یہ اقدام گزشتہ بجٹ میں متعارف کرائی گئی پروڈکٹیوٹی سپر ڈیڈکشن کا وسیع تر ورژن ہے۔ ابتدائی پروگرام میں صرف محدود اقسام کے اثاثوں، خصوصاً مشینری، آلات اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو شامل کیا گیا تھا۔
اس کے نتیجے میں مجموعی ممکنہ سرمایہ کاری کے تقریباً 15 فیصد اثاثے ہی اس سہولت کے دائرے میں آتے تھے۔ وزیراعظم کارنی کے مطابق نئی توسیع کے بعد تقریباً دو تہائی اثاثے اس ٹیکس سہولت کے لیے اہل ہوجائیں گے۔
سرمایہ کاری کی آزادی
مارک کارنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ شعبوں کو پروگرام میں شامل کرنے سے کاروباری رہنماؤں کو یہ آزادی ملے گی کہ وہ اپنی ضرورت اور منافع کے امکانات کے مطابق سرمایہ کاری کے شعبے کا انتخاب کرسکیں۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ کینیڈا میں پیداواری صلاحیت طویل عرصے سے ایک اہم معاشی مسئلہ رہی ہے، اسی لیے حکومت نئی سرمایہ کاری کو اس مسئلے کے حل کا ایک ذریعہ سمجھتی ہے۔
سرمایہ کاری فوری واپس ملے گی
ڈیس جارڈنز کے ڈپٹی چیف اکانومسٹ رینڈل بارٹلیٹ کے مطابق ماضی میں کینیڈین کمپنیوں کو کسی منصوبے پر خرچ کی گئی رقم کی ٹیکس ایڈجسٹمنٹ منصوبے کی پوری مدت کے دوران بتدریج حاصل ہوتی تھی۔
نئے نظام میں سرمایہ کاری کی لاگت کا ٹیکس فائدہ زیادہ تیزی سے حاصل ہوسکے گا۔ ان کے مطابق اس سے کمپنیوں کے پاس فوری طور پر زیادہ رقم دستیاب ہوسکتی ہے جسے وہ مزید نئے منصوبوں اور پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کا یورپی یونین سے ’منفرد اتحاد‘ کا منصوبہ، کارنی نے 28ویں رکن بننے کی تردید کردی
بارٹلیٹ کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کمپنیوں کو زیادہ سرمایہ کاری کرنے اور یہ سرمایہ کاری جلد کرنے کے لیے نمایاں ترغیب فراہم کرنا ہے۔
جی7 میں ٹیکس مسابقت
کینیڈین حکومت کے مطابق نئی ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں ملک کی مارجنل ایفیکٹو ٹیکس ریٹ 13 فیصد سے کم ہوکر 6.4 فیصد تک آسکتی ہے۔ یہ شرح کاروباری ٹیکس مسابقت کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی کے بعد کینیڈا جی7 ممالک میں کاروباری سرمایہ کاری کے حوالے سے کم ترین مارجنل ایفیکٹو ٹیکس ریٹ والا ملک بن جائے گا۔
تجارتی جنگ کے دوران اہم اقدام
ماہر اقتصادیات رینڈل بارٹلیٹ کے مطابق موجودہ تجارتی جنگ کے ماحول میں یہ ٹیکس سہولت کینیڈا کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے کمپنیوں کو کینیڈا میں پیداوار برقرار رکھنے اور امریکا منتقل کرنے کے بجائے مقامی سطح پر سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔
ان کے مطابق کئی کاروباری ادارے معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی سرمایہ کاری مؤخر کررہے ہیں۔ نئی ٹیکس سہولت ایسی کمپنیوں کو دوبارہ سرمایہ کاری شروع کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔
حکومت پر 36 ارب ڈالر کا بوجھ
نئی ٹیکس پالیسی کے ساتھ حکومت کو مالی لاگت بھی برداشت کرنا ہوگی۔ اندازے کے مطابق اس پروگرام سے آئندہ پانچ برس کے دوران حکومت کو تقریباً 36 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات یا کم ٹیکس آمدن کا سامنا ہوسکتا ہے۔
بارٹلیٹ کے مطابق مختصر مدت میں تیل کی بلند قیمتوں سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن حکومت کے لیے اس مالی بوجھ کو برداشت کرنا نسبتاً آسان بنا سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس پروگرام کے اخراجات برقرار رکھنے کے لیے سرکاری خزانے میں مناسب وسائل موجود رہیں۔
ماہرین کی مختلف رائے
سینٹر فار فیوچر ورک کے ماہر اقتصادیات جم اسٹینفورڈ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ پہلے سے موجود ٹیکس پروگرام کی توسیع ہے۔ تاہم ان کے خیال میں اس کا ڈھانچہ عمومی طور پر تمام کمپنیوں کے ٹیکس کم کرنے کے بجائے سرمایہ کاری سے جوڑنے کی وجہ سے مختلف ہے۔
ان کے مطابق اگر حکومت تمام کاروباری اداروں کے ٹیکس یکساں طور پر کم کردیتی تو ضروری نہیں تھا کہ کمپنیاں حاصل ہونے والی اضافی رقم دوبارہ کینیڈا میں سرمایہ کاری کرتیں۔ موجودہ پروگرام میں ٹیکس فائدہ حاصل کرنے کے لیے نئی سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے۔
یوں حکومت کو امید ہے کہ نئی ٹیکس سہولت صرف کاروباری ٹیکس کم کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مشینری، ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری، روزگار اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کا ذریعہ بھی بنے گی۔
