کینیڈا کی جھیل میں اچانک پراسرار جزیرہ نمودار، چند دن بعد غائب ہو گیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک بڑے مصنوعی آبی ذخیرے میں اچانک نمودار ہونے والا پراسرار تیرتا جزیرہ لوگوں اور ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ درختوں سے ڈھکا یہ وسیع قطعہ زمین کچھ عرصے تک پانی میں تیرتا دکھائی دیا تاہم چند روز بعد سیٹلائٹ تصاویر سے بھی غائب ہوگیا۔

یہ عجیب و غریب منظر شمالی برٹش کولمبیا کے ولیسٹن ذخیرے میں دیکھنے کو ملا۔ مقامی افراد کے مطابق پانی میں تیرتے ہوئے درختوں سے بھرے جزیرے جیسی چیز کو دیکھنا انتہائی غیر معمولی تجربہ تھا۔

مقامی شخص نے تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردیں

مقامی رہائشی راکی ایوری کو ایک کشتی پر سوار شخص نے تیرتے ہوئے جزیرے کی تصاویر اور ویڈیو فراہم کیں۔ ایوری نے اگست کے آغاز میں یہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں۔

ایوری کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 40 برس کے دوران ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں ایک بڑی ماہی گیری کی سرگرمی ہونے والی تھی، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کو اس تیرتے ہوئے جزیرے کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور برٹش کولمبیا ہائیڈرو کو بھی اطلاع دی جائے تاکہ اگر یہ جزیرہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ ان کے علاقے کی جانب بڑھے تو ادارہ پہلے سے باخبر ہو۔

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کو بھی ابتدا میں شک ہوا

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے ترجمان باب گامر نے بتایا کہ جب انہیں پہلی مرتبہ اس جزیرے کی ویڈیو کے بارے میں معلوم ہوا تو انہیں اس کی حقیقت پر کچھ شبہ تھا۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی جعلی تصاویر اور ویڈیوز کی تعداد میں اضافے کے باعث انٹرنیٹ پر سامنے آنے والے ہر مواد کو فوری طور پر درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم بعد میں سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کردی کہ یہ جزیرہ حقیقت میں موجود تھا اور ولیسٹن ذخیرے کے کھلے پانی میں تیر رہا تھا۔

140 میٹر لمبا اور 70 میٹر چوڑا جزیرہ

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ تیرتا ہوا جزیرہ فِنلے بے کے مغرب میں موجود تھا اور ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع تھا۔

یہ بھی پڑھیں :

دنیا کا دلچسپ اور عجیب ترین قصبہ جہاں زیادہ تر گھر 2 ممالک میں واقع ،لوگ کھانا پکاتے ایک ملک اورکھاتے دوسرے ملک میں ہیں

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے اندازے کے مطابق جزیرہ تقریباً 140 میٹر لمبا اور 70 میٹر چوڑا تھا۔ اس کا مجموعی رقبہ تقریباً 9 ہزار 800 مربع میٹر بنتا ہے، جو تقریباً دو امریکی فٹ بال میدانوں کے برابر ہے۔

چند دن بعد جزیرہ غائب ہوگیا

21 جولائی کی سیٹلائٹ تصاویر میں جزیرہ واضح طور پر موجود تھا لیکن 5 اگست تک حاصل کی گئی تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں اس کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے ترجمان کے مطابق اس کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ جزیرہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ ممکن ہے کہ ہوا یا پانی کے بہاؤ کے نتیجے میں وہ ذخیرے کے کسی نسبتاً محفوظ ساحلی علاقے میں واپس چلا گیا ہو۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس تیرتے جزیرے سے بجلی کی پیداوار یا ڈیم کے آپریشن پر کسی اثر کی توقع نہیں، تاہم اس کی ممکنہ دوبارہ نمودار ہونے کی نگرانی کی جارہی ہے۔

14 سال بعد ولیسٹن ذخیرہ مکمل سطح تک پہنچ گیا

ماہرین کے مطابق اس پراسرار جزیرے کے وجود میں آنے کی ایک ممکنہ وجہ ولیسٹن ذخیرے میں اس سال غیر معمولی طور پر بلند پانی کی سطح ہوسکتی ہے۔

ولیستن ذخیرہ ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم کی تعمیر کے بعد 1968 میں وجود میں آیا تھا۔ یہ دنیا کے بڑے آبی ذخیروں میں شمار ہوتا ہے اور خلا سے بھی دکھائی دیتا ہے۔

اس سال موسم سرما میں برف باری کی مقدار زیادہ رہی جبکہ موسم گرما میں مسلسل بارشوں کے باعث ذخیرے میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک بلند ہوگئی۔ جون اور جولائی میں پانی کا دباؤ کم رکھنے کیلئے ڈیم کے اضافی راستے بھی کھولنے پڑے۔

درختوں اور ملبے سے جزیرہ بننے کا امکان

برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے مطابق ممکنہ طور پر یہ جزیرہ کئی برس کے دوران ذخیرے کے کسی ساحلی علاقے میں تشکیل پایا ہوگا۔ ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ ساحل پر جمع ہونے والی لکڑی اور دیگر قدرتی ملبے کے اندر پودوں اور درختوں نے جڑیں پکڑ لیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ایک مضبوط تیرتا ہوا زمینی ٹکڑا بن گیا۔

پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد یہ زمینی ٹکڑا ساحل سے الگ ہوگیا اور تیز ہواؤں نے اسے کھلے پانی کی جانب دھکیل دیا۔

باب گامر کے مطابق گزشتہ 14 برس کے دوران ولیسٹن ذخیرہ مکمل سطح تک نہیں پہنچا تھا، اس لیے اس سال بلند پانی نے ایسی صورتحال پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہوسکتا ہے۔

مقامی رہائشی راکی ایوری کے مطابق اس سال پانی کی بلند سطح کے باعث ساحلی علاقوں میں ریت کے ٹیلے بھی متاثر ہوئے ہیں اور معمول سے کہیں زیادہ درخت اور قدرتی ملبہ جھیل میں بہہ کر آیا ہے۔

دنیا کے دیگر حصوں میں بھی تیرتے جزیرے موجود ہیں

ماہرین کے مطابق ولیسٹن ذخیرے میں تیرتے جزیرے کا نظر آنا نایاب ضرور ہے لیکن دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی یہ قدرتی مظہر دیکھا جاچکا ہے۔

امریکی ریاست وسکونسن میں ایک مصنوعی جھیل کے قیام کے بعد دلدلی زمین کے بڑے ٹکڑے الگ ہوکر پانی پر تیرنے لگے تھے۔ ان میں سے ایک بڑے تیرتے ٹکڑے کو ہر سال کشتی کے ذریعے دھکیلنا پڑتا ہے تاکہ وہ ایک پل کی جانب نہ بڑھے۔

افریقہ میں جھیل وکٹوریہ میں موجود تیرتے جزیروں پر بھی محققین تحقیق کررہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ جزیرے آبی نقل و حمل، ماہی گیری اور پانی کے معیار کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔

ولیستن ذخیرے میں نمودار ہونے والا جزیرہ اگرچہ اب سیٹلائٹ تصاویر سے غائب ہوچکا ہے لیکن برٹش کولمبیا ہائیڈرو اس کی دوبارہ ممکنہ نمودار ہونے کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہمیں فالو کریں