اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کے نائب صدر J. D. Vance نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور اب اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی شرائط اور مؤقف واضح کر چکا ہے اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امید کی جا رہی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر مثبت پیشرفت کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور اس حوالے سے امریکا اپنی سرخ لکیر واضح کر چکا ہے۔
نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملک سے جوہری مواد کو ہٹائے، کیونکہ عالمی امن کے لیے یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے اپنی پالیسی اور حدود کھل کر بیان کر دی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے J. D. Vance نے کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے اور امریکا کو توقع ہے کہ ایران اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔
انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بحری راستوں کو خطرے میں ڈال کر معاشی دباؤ پیدا کر رہا ہے۔ ان کے بقول امریکا ان اقدامات کا جواب دے رہا ہے، جبکہ سابق صدر Donald Trump پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران اسی طرزِ عمل کو جاری رکھتا ہے تو امریکا بھی جوابی اقدامات کرے گا، جن میں ایرانی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو محدود کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور آئندہ دنوں میں مذاکرات کا دوسرا دور خطے کی صورتحال پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔