اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ممکنہ معاہدے میں ایک بڑا معاشی منصوبہ شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے تحت 300 ارب ڈالر کا ایک نجی سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ فنڈ ایران کی معیشت کی بحالی، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ اس میں توانائی، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبے شامل ہوں گے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ فنڈ براہِ راست حکومتی امداد نہیں ہوگا بلکہ نجی سرمایہ کاروں کی شراکت سے تشکیل دیا جائے گا، اور مختلف ممالک کی کمپنیوں کی اس میں سرمایہ کاری متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے بعد اس کی معیشت کو عالمی مارکیٹ سے دوبارہ جوڑنا ہے، خاص طور پر تیل اور گیس کی برآمدات کو بحال کرنا اس معاہدے کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی آسانیوں کی اطلاعات ہیں، تاہم یہ سہولیات ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے سے مشروط ہوں گی۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں سے متعلق بعض شرائط پوری کرنا ہوں گی، جس کے بعد ہی مکمل معاشی فوائد اور سرمایہ کاری فنڈ تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اگرچہ اس معاہدے کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن ابھی تک اسے حتمی معاہدہ قرار نہیں دیا گیا اور اس پر مزید مذاکرات اور سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔