اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایک بار پھر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف انتہائی بڑے فوجی حملے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور پینٹاگون کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کی پوزیشن میں ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کرچکی ہے اور خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
بڑی کارروائی کا دعویٰ
امریکی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے پاس ایسی فوجی طاقت موجود ہے جس کے ذریعے ایران کے خلاف انتہائی بڑے پیمانے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج مکمل تیاری کی حالت میں ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر خبردار کرچکے ہیں کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکا ایران کے خلاف ایسی کارروائی کرسکتا ہے جس کی شدت دوسری جنگ عظیم کے بعد نمایاں ترین مثالوں میں شمار ہو۔
پینٹاگون کی تیاری
پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کو مکمل جنگی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے اور فوجی منصوبہ بندی مسلسل جاری ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے بیانات عام طور پر مخالف ملک پر دباؤ بڑھانے، اپنی فوجی صلاحیت ظاہر کرنے اور مذاکرات میں پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے بھی دیے جاتے ہیں۔
ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ
امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ایران بھی متعدد بار خبردار کرچکا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات، بحری راستوں اور توانائی کے مراکز کی اہمیت کے باعث کسی بھی بڑے تصادم کے عالمی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
خطے پر ممکنہ اثرات
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا بحران پیدا کرسکتی ہے۔
ایران خطے میں اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ خلیج فارس دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شامل ہے۔کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین متاثر ہونے اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔
سفارتی حل پر زور
عالمی برادری مسلسل امریکا اور ایران پر زور دے رہی ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔ماہرین کے مطابق فوجی دھمکیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا خطے کے امن اور عالمی استحکام کے لیے زیادہ بہتر راستہ ہوسکتا ہے۔
عالمی سیاست پر اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی طاقتوں کے تعلقات، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سکیورٹی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
موجودہ صورتحال میں واشنگٹن اور تہران کے آئندہ اقدامات انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ ایک غلط فیصلہ خطے کو بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔