اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار اور حکومتی نظام میں ان کے اثر و رسوخ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی موجودہ حکومت کے طاقتور ترین وزیروں میں شامل ہیں اور کئی معاملات میں وہ وزیراعظم کو بھی جواب دہ نہیں ہیں۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی وزیر داخلہ ہونے کے باوجود حکومتی نظام کا مکمل حصہ نظر نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاسوں میں انہوں نے محسن نقوی کو صرف دو یا تین مرتبہ دیکھا ہے، جبکہ وہ پارلیمنٹ میں بھی بہت کم آئے ہیں۔
شکایت ہے تو گھر چلے جانا چاہیے
خواجہ آصف نے محسن نقوی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ موجودہ نظام سے شکایت کر رہے ہیں تو پھر حکومت میں موجود لوگوں کو سوچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود اہم شخصیات نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کر رہی ہیں تو یہ ایک بڑا سوال ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر محسن نقوی سمجھتے ہیں کہ نظام کام نہیں کر رہا تو پھر ہمیں اپنے کردار پر بھی غور کرنا چاہیے۔
نظام پر سوال
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیان میں موجودہ انتظامی ڈھانچے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام اس حد تک کمزور ہوچکا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دس سال بعد بھی ملک انہی مسائل کا شکار رہے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ضروری ہوچکا ہے کیونکہ موجودہ نظام مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
نئے صوبوں کی بحث
محسن نقوی کے بیان کے بعد ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں میں انتظامی مسائل کے باعث عوام تک سہولیات کی فراہمی مشکل ہوجاتی ہے، اس لیے چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر حکمرانی میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی، آئینی اور مالی پہلو بھی رکھتا ہے، جس کے لیے وسیع اتفاق رائے ضروری ہے۔
حکومت کے اندر اختلافات کا تاثر
خواجہ آصف کے بیان کو حکومتی صفوں کے اندر موجود اختلافی آرا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق جب حکومت کے اہم وزرا ایک دوسرے کے بیانات پر ردعمل دیتے ہیں تو اس سے عوام میں حکومتی پالیسیوں اور ترجیحات کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔تاہم حکومت کے دیگر حلقے اکثر ایسے بیانات کو معمول کی سیاسی بحث قرار دیتے ہیں۔
محسن نقوی کا بڑھتا کردار
محسن نقوی نے بطور وزیر داخلہ مختلف اہم معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ان کی ذمہ داریوں میں امن و امان، داخلی سکیورٹی، انتظامی امور اور دیگر اہم معاملات شامل ہیں۔
سیاسی حلقوں میں ان کے حکومتی کردار اور اثر و رسوخ پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، جبکہ خواجہ آصف کے حالیہ بیان نے اس بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
سیاسی منظرنامہ
حکومت کے اندر سے آنے والے اس بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ موجودہ نظام میں طاقت اور فیصلوں کا اصل مرکز کہاں ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں نئے انتظامی یونٹس، حکومتی کارکردگی اور وزرا کے کردار سے متعلق بحث سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔