مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی امراض میں خطرناک اضافہ

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل معاشی دباؤ عوام کی مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا فرق، روزگار کا عدم تحفظ، قرضوں کا بوجھ اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال ڈپریشن، اینزائٹی، بے خوابی، چڑچڑے پن، خاندانی تنازعات، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

معاشی دباؤ ذہنی صحت کے لیے بڑا خطرہ

کلینیکل سائیکالوجسٹ فاطمہ طاہر کے مطابق آمدن اور اخراجات میں عدم توازن مسلسل ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے، جو وقت کے ساتھ ڈپریشن، اینزائٹی، غصے، خوف اور مایوسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متاثرہ افراد کو بروقت نفسیاتی معاونت فراہم نہ کی جائے تو یہ مسائل مزید بڑھ کر جسمانی بیماریوں، سماجی تنہائی اور خاندانی اختلافات کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

غربت اور ذہنی بیماری کا گہرا تعلق

فاؤنٹین ہاؤس سے وابستہ ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ عمران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور افلاس ذہنی بیماریوں کے پھیلاؤ اور شدت میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کم آمدنی والے طبقے کو نہ صرف معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے بلکہ انہیں مناسب خاندانی تعاون بھی میسر نہیں ہوتا، جس کے باعث ذہنی مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ٹورنٹو میں منشیات کے زیادہ استعمال کے واقعات پر صحتِ عامہ کا شہریوں کیلئے انتباہ

انہوں نے کہا کہ غربت اور ذہنی بیماری ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسان غربت کی وجہ سے ذہنی مریض بنتا ہے یا ذہنی بیماری اسے مزید غربت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ ان کے مطابق ادویات خریدنے کی استطاعت نہ ہونے کے باعث مریض بار بار ذہنی بیماری کے حملوں کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ گھر کے واحد کفیل کی بیماری پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریوں کی تشویشناک صورتحال

پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کے نیشنل سائیکائٹرک موربیڈیٹی سروے (2019ء تا 2022ء) کے مطابق ملک کی 32.3 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جبکہ 37.9 فیصد افراد زندگی کے کسی مرحلے پر ذہنی عارضے کا سامنا کر چکے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اضطراب، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن سب سے زیادہ عام امراض ہیں، جبکہ خواتین، کم آمدنی والے افراد اور شہری آبادی نسبتاً زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کی شدید کمی، لاکھوں افراد علاج سے محروم

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کو ذہنی صحت کی خدمات درکار ہیں، لیکن ملک میں ماہرین کی شدید قلت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صرف 300 سے 340 ماہرینِ نفسیات موجود ہیں، جس کے باعث اوسطاً ہر سات سے آٹھ لاکھ افراد کے لیے صرف ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 478 ماہرینِ نفسیات، 3,145 سماجی کارکن اور صرف 22 پیشہ ورانہ بحالی کے معالج خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:

البرٹا میں سرکاری اور نجی صحت کے نظام کو یکجا کرنے کا نیا ماڈل متعارف، اپوزیشن کی شدید تنقید

پاکستان سائیکیٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد علی اخوندزادہ کے مطابق ہر چار میں سے ایک نوجوان اور ہر پانچ میں سے ایک بچہ کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے، جبکہ تقریباً 10 فیصد آبادی منشیات کے استعمال میں مبتلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت کو قومی صحت کی پالیسی میں ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

ذہنی صحت کی سہولیات میں توسیع کی کوششیں

دوسری جانب پنجاب حکومت نے ذہنی امراض کے شکار افراد کے علاج اور بحالی کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (پی آئی ایم ایچ) لاہور کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ ادارے میں نفسیاتی علاج، ایمرجنسی، منشیات سے بحالی، ری ہیبلی ٹیشن مراکز اور تربیتی پروگرام ایک ہی چھت تلے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق مستقبل میں ذہنی صحت کی سہولیات کو ضلعی اور تحصیل سطح کے سرکاری اسپتالوں تک بھی توسیع دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض اپنے علاقوں میں علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں