اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی اور حساس فوجی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی۔ ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے "میزان” کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی شناخت امید بہزاد اور پوریا صفوت کے ناموں سے کی گئی ہے۔
فوجی اور سیکیورٹی مراکز کی معلومات فراہم کرنے کا الزام
میزان کے مطابق دونوں افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے اسرائیل کو ایرانی فوجی اور پاسدارانِ انقلاب کے سیکیورٹی مراکز کا محل وقوع، تصاویر اور دیگر حساس معلومات فراہم کیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات حالیہ جنگ اور گزشتہ موسمِ گرما کے دوران اسرائیلی حملوں میں استعمال کی گئیں، جن کے نتیجے میں متعدد عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی کارروائیوں میں زمینی انٹیلی جنس کے استعمال کا دعویٰ
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوجی حکمتِ عملی سے واقف ایک ذریعے نے مارچ میں بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے حالیہ جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بعض تنصیبات کو زمینی ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ، اہم تنصیبات پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دینے کا اعلان
انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش
ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ ماہ جاری اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے گزشتہ چار ماہ کے دوران قومی سلامتی سے متعلق مقدمات میں کم از کم 50 افراد کو سزائے موت دی۔ تنظیم کے مطابق ان میں 18 اور 19 سال عمر کے کئی نوجوان بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ رواں سال جنوری میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی حکام نے سخت کارروائیاں کیں، تاہم ایرانی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
جاسوسی مقدمات میں سختی برقرار
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں جاسوسی اور قومی سلامتی سے متعلق مقدمات میں کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مقدمات میں شفاف عدالتی عمل، منصفانہ ٹرائل اور سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔