اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں دونوں ممالک ممکنہ نئے امریکی ٹیرف سے قبل اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ حکومت امریکا کے ساتھ تمام اہم تجارتی شعبوں، خصوصاً آٹو موبائل، اسٹیل اور ایلومینیم کے معاملات پر بھرپور مذاکرات کر رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر نہ ہوں۔
مارک کارنی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی بعض برآمدات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی مجوزہ تاریخ قریب آ رہی ہے، جس سے کینیڈین برآمد کنندگان اور صنعتکاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
تمام اہم شعبے مذاکرات کا حصہ
ٹورنٹو میں ہاؤسنگ سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں تمام اسٹریٹجک شعبوں کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر امریکی قانون سیکشن 232 کے تحت عائد کیے گئے یا مجوزہ ٹیرف پر بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
سیکشن 232 کیا ہے؟
امریکی قانون کے سیکشن 232 کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی درآمدی مصنوعات کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو اس پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کانیا ٹیرف عدالت میں چیلنج، 25 ڈیموکریٹک ریاستیں حکومت کے خلاف میدان میں آگئیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسی قانون کے تحت اسٹیل، ایلومینیم، آٹو پارٹس اور دیگر صنعتی مصنوعات پر مختلف ممالک کے خلاف ٹیرف نافذ کرتے رہے ہیں، جبکہ اب کینیڈا کی بعض برآمدات بھی اس دائرے میں آ سکتی ہیں۔
واشنگٹن میں مذاکرات جاری
کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور چیف تجارتی مذاکرات کار جینس شاریٹ اس ہفتے دوبارہ واشنگٹن پہنچے ہیں، جہاں وہ امریکی حکام، صنعتی نمائندوں اور سیاست دانوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ وہ خود بھی ان مذاکرات میں مسلسل شریک ہیں اور تمام پیش رفت پر براہ راست نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاملات پر تعمیری انداز میں بات چیت جاری ہے اور ابھی مذاکرات کے لیے وقت موجود ہے۔
نئے ٹیرف کا خطرہ
امریکا نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو 19 اگست سے کینیڈا کی بعض برآمدات پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف نافذ کیا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ٹیرف کینیڈا کی تقریباً پانچ فیصد برآمدات پر لاگو ہو سکتا ہے، جن میں الکحل، سیمنٹ، ہاکی اسٹکس اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
تجارتی خسارہ امریکی مؤقف
امریکی تجارتی نمائندے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ایک قومی ہنگامی صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
امریکی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 1.2 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جسے کم کرنے کے لیے مختلف ممالک پر نئے تجارتی اقدامات زیر غور ہیں۔
کینیڈا کا مؤقف
مارک کارنی نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے اضافی ٹیرف نافذ کیے تو کینیڈا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات پر غور کرے گا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتی ہے اور یہی دونوں ممالک کے لیے بہتر راستہ ہے۔
کارنی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کینیڈا اپنی توانائی کی برآمدات کو مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
بعض اقدامات کے باوجود پیش رفت محدود
کینیڈا پہلے ہی امریکا کے چند اہم تحفظات دور کرنے کے لیے بعض اقدامات کر چکا ہے، جن میں مجوزہ ڈیجیٹل سروسز ٹیکس واپس لینا اور اسٹریمنگ کمپنیوں سے متعلق بعض قواعد میں نرمی شامل ہے۔اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے مذاکرات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
کینیڈ
ماہرین کے مطابق آئندہ چند دن کینیڈا اور امریکا کے تجارتی تعلقات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ اگر دونوں ممالک کسی قابل قبول سمجھوتے تک پہنچ جاتے ہیں تو نئے ٹیرف سے بچا جا سکتا ہے، لیکن مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں کینیڈین برآمدات، صنعتی شعبے اور دونوں ممالک کی تجارت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو قریبی تجارتی شراکت دار معیشتوں کے درمیان کسی بھی نئی تجارتی کشیدگی کے اثرات صرف شمالی امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔