کینیڈا، امریکا تجارتی ڈیل کی نئی کوشش، ٹرمپ کو پیر تک مشترکہ تجویز پیش کرنے کا امکان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے حکام آئندہ پیر تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ممکنہ تجارتی معاہدے کا راستہ پیش کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس پیش رفت کا مقصد 19 اگست سے سیکڑوں کینیڈین مصنوعات پر عائد ہونے والے ممکنہ 50 فیصد نئے امریکی محصولات کو روکنا یا ان میں کمی لانا ہے۔

ذرائع کے مطابق کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کی جانب سے تیار کی جانے والی مشترکہ تجویز صدر ٹرمپ کے سامنے نئی ٹیرف ڈیڈ لائن سے کم از کم ایک روز قبل پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے امریکی صدر کو تجویز کا جائزہ لینے اور نئے محصولات کے نفاذ سے پہلے حتمی فیصلہ کرنے کا وقت مل جائے گا۔

مذاکرات میں تیزی

ڈومینک لی بلانک نے منگل کو واشنگٹن میں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقات کی، جو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران دونوں حکام کی تیسری براہ راست ملاقات تھی۔

ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ لی بلانک اور کینیڈا کی چیف ٹریڈ نیگوشی ایٹر جینس شریٹ گریئر کے دفتر سے روانہ ہوئے تاہم انہوں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

بعد ازاں لی بلانک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور وہ اور جینس شریٹ تجارتی مذاکرات کی میز پر امریکا کے ساتھ رابطہ جاری رکھیں گے۔

50 فیصد ٹیرف کا خطرہ

امریکی انتظامیہ نے 19 اگست سے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ممکنہ ٹیرف کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی برآمدات کے تقریباً پانچ فیصد حصے کو متاثر کریں گے۔

متاثر ہونے والی مصنوعات میں شراب، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ اور دیگر مختلف اشیا شامل ہیں۔ کینیڈین کاروباری حلقے پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اضافی محصولات سے صنعتوں، برآمدات اور روزگار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

کینیڈین حکومت کی کوشش ہے کہ نئی محصولات کے نفاذ سے قبل واشنگٹن کے ساتھ ایسا سمجھوتا کیا جائے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں معمول پر رہیں۔

CUSMA بھی مذاکرات کا اہم حصہ

موجودہ مذاکرات کا مقصد صرف نئے امریکی ٹیرف کو روکنا نہیں بلکہ کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان موجود تجارتی معاہدے CUSMA کے مستقبل کو بھی محفوظ بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کا دباؤ، کینیڈا امریکی مطالبات ماننے پر تیار

کینیڈا چاہتا ہے کہ امریکا اس معاہدے کی توسیع پر رضامند ہو۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جولائی میں CUSMA کی تجدید سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔

کینیڈین حکام کے مطابق موجودہ مذاکرات میں طویل مدتی تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے CUSMA کی توسیع یا نئے انتظام پر بھی بات چیت کی جارہی ہے۔

اسٹیل اور ایلومینیم پر ریلیف

کینیڈا امریکا سے صرف نئے 50 فیصد محصولات واپس لینے کا مطالبہ نہیں کررہا بلکہ اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور گاڑیوں پر پہلے سے عائد شعبہ جاتی محصولات میں بھی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

کینیڈا کا مؤقف ہے کہ ان شعبوں پر اضافی محصولات سے دونوں ممالک کی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ کینیڈین صنعتیں امریکی مارکیٹ کے ساتھ گہرے تجارتی روابط رکھتی ہیں۔

امریکی تحفظات کیا ہیں؟

واشنگٹن نے نئے محصولات کے اعلان کے وقت کینیڈا کے خلاف کئی تجارتی تحفظات کا حوالہ دیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے کینیڈا کی جانب سے امریکی تجارتی پالیسی کے جواب میں کیے گئے اقدامات، مختلف صوبوں میں امریکی شراب کی فروخت سے متعلق پابندیوں اور امریکی گاڑیوں و ڈیری مصنوعات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کو بھی اپنے اعتراضات میں شامل کیا۔

امریکی اعدادوشمار کے مطابق کینیڈا کے بیشتر صوبوں میں امریکی شراب کی فروخت پر پابندیوں کے نتیجے میں 2025 کے دوران کینیڈا کو امریکی شراب کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی۔

کینیڈین حکومت پر سیاسی دباؤ

تجارتی مذاکرات کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم مارک کارنی کی حکومت کو اندرون ملک سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کینیڈین مفادات پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔

کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ مشیل ریمپل گارنر نے کہا کہ وزیر اعظم مارک کارنی کو اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے کینیڈا کے لیے بہتر تجارتی معاہدہ حاصل کرنا ہوگا۔

کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور نے بھی کارنی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا کو ایسا معاہدہ حاصل کرنا چاہیے جس میں سافٹ ووڈ لمبر پر صفر ٹیرف، اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد شعبہ جاتی محصولات کا خاتمہ اور گاڑیوں کے لیے ٹیرف فری انتظام شامل ہو۔

ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار

کینیڈا اور امریکا کے درمیان آئندہ چند روز کی بات چیت دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دی جارہی ہے۔ اگر ڈومینک لی بلانک اور جیمیسن گریئر پیر تک مشترکہ تجویز صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو امریکی صدر کے پاس 19 اگست سے قبل اس پر غور کرنے کا موقع ہوگا۔

تاہم حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے اور ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکی انتظامیہ کینیڈا کی تجاویز کو کس حد تک قبول کرے گی۔ موجودہ مذاکرات نہ صرف نئے 50 فیصد محصولات کے نفاذ کا فیصلہ کریں گے بلکہ CUSMA کے مستقبل اور شمالی امریکا کے طویل مدتی تجارتی تعلقات کی سمت بھی متعین کرسکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں