اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)دنیا کے مقبول ترین گیمنگ پلیٹ فارمز میں شمار ہونے والے روبلوکس کی مالی کارکردگی کو شدید دھچکا لگا ہے، جس کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 97.5 ارب کینیڈین ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس عرصے میں روبلوکس کارپوریشن کے حصص کی قیمت تقریباً 70 فیصد گر چکی ہے۔ ایک سال قبل کمپنی کا اسٹاک تقریباً 129.63 امریکی ڈالر یعنی 180.67 کینیڈین ڈالر پر تھا، جو اب کم ہوکر 36.96 امریکی ڈالر یعنی تقریباً 51.51 کینیڈین ڈالر رہ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کمپنی کی موجودہ صورتحال کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں بلکہ متعدد عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، جن میں صارفین کی کھیلنے کی عادات میں تبدیلی، آمدنی پیدا کرنے والے مقبول گیمز میں کمی اور نوجوان صارفین سے آگے بڑھ کر بڑی عمر کے گیمرز کو متوجہ کرنے کی کوشش شامل ہے۔
آمدنی توقعات سے کم
روبلوکس کے حصص میں گزشتہ ہفتے اس وقت نمایاں کمی آئی جب کمپنی کی انتظامیہ نے مالی نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آمدنی کمپنی کی سابقہ توقعات سے کم رہی ہے۔
چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ باسزکی اور چیف فنانشل آفیسر نوین چوپڑا نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ رواں سال روبلوکس صارفین، خاص طور پر 13 سال سے کم عمر بچوں، سے متوقع اخراجات حاصل کرنے میں پیچھے رہ گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اس کی ایک وجہ پلیٹ فارم کے گیم ریکمنڈیشن الگورتھم میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں، جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں مقبول ہونے والے بعض گیمز گزشتہ سال کے بڑے ہٹ گیمز کے مقابلے میں کم آمدنی پیدا کررہے ہیں۔
15 کروڑ سے زائد روزانہ صارفین
2006 میں لانچ ہونے والا روبلوکس صرف ایک گیم نہیں بلکہ ایسا گیمنگ اور تخلیقی پلیٹ فارم ہے جہاں صارفین دوسرے صارفین کی تیار کردہ گیمز کھیل سکتے ہیں اور خود بھی گیمز تخلیق کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ہندوستان کے گیمنگ زون میں آگ لگ گئی بچوں سمیت 27 افراد ہلاک
کمپنی کے مطابق پلیٹ فارم پر روزانہ فعال صارفین کی تعداد 15 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ تقریباً 35 لاکھ گیم ڈویلپرز اس کے لیے گیمز تیار کررہے ہیں۔
روبلوکس پر ریسنگ، رکاوٹوں پر مشتمل گیمز، فرسٹ پرسن شوٹرز، پلیٹ فارم گیمز اور بورڈ گیمز سمیت مختلف اقسام کی تفریح دستیاب ہے۔ زیادہ تر گیمز ملٹی پلیئر ہیں جہاں صارفین ایک دوسرے کے ساتھ یا ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہیں۔
نوجوان صارفین سب سے زیادہ
روبلوکس کے صارفین میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ کمپنی کی جانب سے رواں سال شناخت اور عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد جاری اعدادوشمار کے مطابق تصدیق شدہ روزانہ فعال صارفین میں 35 فیصد کی عمر 13 سال سے کم جبکہ 38 فیصد کی عمر 13 سے 17 سال کے درمیان ہے۔اس طرح تصدیق شدہ فعال صارفین کی نصف سے زیادہ تعداد نابالغوں پر مشتمل ہے۔
حفاظتی خدشات بھی سامنے آگئے
روبلوکس کو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ نوجوان صارفین کی آن لائن حفاظت سے متعلق بڑھتے ہوئے سوالات کا بھی سامنا ہے۔
کینیڈین پولیس کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے نیشنل چائلڈ ایکسپلوٹیشن کرائم سینٹر کو 2024 اور 2025 کے دوران روبلوکس سے متعلق ایک ہزار سے زائد رپورٹس موصول ہوئیں۔
پلیٹ فارم پر صارفین کے درمیان ٹیکسٹ اور وائس کمیونیکیشن کی سہولت موجود ہے، جس کے باعث ماہرین اور حکام نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مزید سخت اقدامات پر زور دیا ہے۔
ان خدشات کے باعث روبلوکس نے کم عمر صارفین کے لیے عمر اور اکاؤنٹ کی تصدیق سمیت حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
حفاظتی پالیسیوں کا مالی اثر؟
کوئنز یونیورسٹی کی مارکیٹنگ ماہر یولیا نیوسکایا کے مطابق روبلوکس کی مالی مشکلات کی کوئی ایک وجہ طے کرنا آسان نہیں، تاہم حفاظتی معاملات بھی کمپنی کی کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق عمر اور شناخت کی تصدیق کے نئے ضوابط بعض صارفین کو مداخلت پر مبنی محسوس ہوسکتے ہیں، جس سے صارفین کی تعداد اور گیم ڈویلپرز کے پلیٹ فارم کے ساتھ تعلق پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
کمپنی کو مستقبل پر اعتماد
روبلوکس کی انتظامیہ موجودہ مالی نتائج کے باوجود مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ الگورتھم میں تبدیلیوں سے صارفین کو پلیٹ فارم پر برقرار رکھنے کی شرح بہتر ہوئی ہے۔
جاپان اور بھارت جیسی بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی کمپنی نے ترقی کا دعویٰ کیا ہے۔ روبلوکس کے مطابق پلیٹ فارم پر گیمز کی مقبولیت بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ متنوع ہوگئی ہے۔
تین سال قبل ٹاپ 10 گیمز پلیٹ فارم پر کھیلے جانے والے کل گیم ٹائم کا تقریباً 30 فیصد حاصل کرتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب کم ہوکر تقریباً 20 فیصد رہ گیا ہے۔
بڑی عمر کے گیمرز پر توجہ
روبلوکس اب اپنی روایتی کم عمر صارفین کی بنیاد سے آگے بڑھ کر بڑی عمر کے گیمرز کو متوجہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی طویل مدت میں کمپنی کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے، تاہم اس دوران اسے موجودہ صارفین کی پسند میں تبدیلی اور نئی نسل کو پلیٹ فارم سے جوڑنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
کیمبرین کالج کے گیم ڈیزائن ماہر ایرون لینگل کا کہنا ہے کہ روبلوکس تقریباً دو دہائیوں پرانا پلیٹ فارم ہے اور 20 سال گیمنگ کی دنیا میں ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔
ان کے مطابق کمپنی کو اب اس حقیقت کا سامنا ہے کہ اس کے ابتدائی صارفین بڑے ہورہے ہیں اور ان کی گیمز سے توقعات تبدیل ہورہی ہیں، جبکہ نئی نسل کے صارفین کو متوجہ کرنا پہلے کے مقابلے میں مشکل ہوسکتا ہے۔
مختصر مدت کا نقصان، طویل مدت کی حکمت عملی؟
اونٹاریو ٹیک یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ماہر کرسٹیانو پولیٹووسکی کے مطابق روبلوکس کا پلیٹ فارم پر مکمل کنٹرول اسے دیگر گیمنگ کمپنیوں سے منفرد بناتا ہے۔
ان کے خیال میں اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ شاید کمپنی کی طویل مدتی حکمت عملی کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق روبلوکس اس وقت ایسی تبدیلیاں کررہا ہے جن کا فائدہ فوری طور پر نظر نہیں آئے گا، لیکن مستقبل میں کمپنی کو زیادہ مضبوط بنا سکتا ہے۔
یوں روبلوکس اس وقت ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اسے اپنی کم عمر صارفین کی بنیاد برقرار رکھنے، بڑی عمر کے گیمرز کو متوجہ کرنے، گیم ڈویلپرز کو پلیٹ فارم پر قائم رکھنے اور آن لائن سیفٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات دور کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال کرنا ہوگا۔