برٹش کولمبیا میں جنگلات کی آگ بے قابو، 20 ہزار سے زائد افراد گھروں سے بے دخل

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلات کی آگ نے ایک بار پھر خطرناک صورتحال اختیار کرلی ہے، جہاں شدید اور غیر معمولی تیزی سے پھیلنے والی آگ کے باعث 20 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ تقریباً 10 ہزار مزید افراد کو الرٹ پر رکھا گیا ہے اور انہیں کسی بھی وقت انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صوبے میں اس وقت 106 فعال جنگلاتی آگ بھڑک رہی ہیں، تاہم حکام کے مطابق ان میں چار بڑی آگ خاص طور پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سمرلینڈ کے قریب لگی بالڈ رینج فائر بھی شامل ہے جو تاحال قابو سے باہر ہے۔

چند گھنٹوں میں آگ کا پھیلاؤ

بالڈ رینج فائر نے چند ہی گھنٹوں میں انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کی۔ ماہرین کے مطابق خشک ایندھن، انتہائی گرم اور خشک حالات، مخصوص بادلوں کی تشکیل اور شام کے وقت ہوا کے رخ میں تبدیلی نے آگ کے پھیلاؤ کو غیر معمولی طور پر تیز کردیا۔

ماہرین موسمیات کے مطابق آگ سے بننے والے پائروکیومولونمبس بادل بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ یہ بادل آگ کی شدت میں اضافہ کرسکتے ہیں اور آگ کے رویے کو غیر متوقع بنا دیتے ہیں۔

سمرلینڈ کے شہری گھروں سے دور

سمرلینڈ کے وہ شہری جو بالڈ رینج فائر کے باعث نقل مکانی کرچکے ہیں، ایک اور رات اپنے گھروں سے باہر گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقامی حکام نے شہریوں کی پریشانی اور اپنے گھروں کو واپس جانے کی خواہش کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہیں، لیکن آگ پر قابو پانے تک انخلا کے احکامات ختم نہیں کیے جاسکتے۔سمرلینڈ کے میئر ڈگ ہومز نے کہا کہ وہ بھی خود متاثرہ افراد میں شامل ہیں اور گھر واپس جانا چاہتے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں واپس جانا محفوظ نہیں۔

واپسی کا فیصلہ کب ہوگا؟

حکام کے مطابق شہریوں کی جانب سے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے دو سوالات یہ ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو کب واپس جاسکیں گے اور عارضی رسائی کے اجازت نامے کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔سمرلینڈ کے میئر نے واضح کیا کہ لوگوں کی واپسی میں وقت لگے گا کیونکہ آگ تاحال قابو میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک صورتحال کنٹرول میں نہیں آتی، حکام گھروں میں واپسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، کیونکہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

عارضی اجازت ناموں کا معاملہ

حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ عارضی رسائی کے اجازت ناموں کے لیے بار بار درخواستیں جمع نہ کرائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد درخواستیں جمع کرانے سے منظوری کا عمل تیز نہیں ہوگا۔

ریجنل ڈسٹرکٹ کی حفاظتی خدمات کی مینیجر ڈیبورا جونز مڈلٹن نے بتایا کہ اجازت ناموں کی درخواستوں کو ترجیح کے حساب سے دیکھا جارہا ہے۔

یوٹیلیٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بحال رکھنے کے انتظامات کیے جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں :سمرلینڈ میں تباہ کن جنگلاتی آگ، 156 مربع کلومیٹر علاقہ لپیٹ میں، ہزاروں افراد تاحال بے گھر

تاہم کسی بھی شخص کو اس وقت تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک بی سی وائلڈ فائر سروس علاقے میں داخلے کو محفوظ قرار نہ دے۔

خشک سالی نے خطرہ بڑھا دیا

حکام کے مطابق برٹش کولمبیا کے مختلف علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں کم برف باری اور موسم بہار و موسم گرما کے دوران معمول سے کم بارشیں شامل ہیں۔

اگرچہ بعض علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی جارہی ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ صرف موسمی پیش گوئی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

 

ان کے مطابق بارش اس وقت تک مسئلے کا حل نہیں سمجھی جائے گی جب تک اسے عملی طور پر بارش کے پیمانوں میں ریکارڈ نہ کرلیا جائے۔

زرعی شعبہ بھی متاثر

جنگلاتی آگ کے باعث صوبے کا زرعی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً 50 ہزار مویشی ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انخلا کے احکامات یا الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔

متعدد علاقوں میں فصلوں اور زرعی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس سے پہلے ہی مشکل حالات کا سامنا کرنے والے کسانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

سیاحوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت

حکام نے سیاحوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اوکاناگن اور دیگر متاثرہ علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کریں اور اپنی تعطیلات کے لیے نسبتاً محفوظ علاقوں کا انتخاب کریں۔

مقامی افراد کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں آف روڈ گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد ہے، کیونکہ ایک معمولی چنگاری بھی نئی جنگلاتی آگ کا سبب بن سکتی ہے۔

حکام نے شہریوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی لاپرواہی کے نتیجے میں ایک اور آگ بھڑک سکتی ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار فائر فائٹنگ آپریشن مزید مشکل ہوجائے گا۔

فائر فائٹرز کو سخت حالات کا سامنا

بالڈ رینج فائر پر قابو پانے والے فائر فائٹرز کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ آگ کے اچانک پھیلاؤ اور ہوا کے بدلتے رخ نے فائر فائٹنگ آپریشن کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں نسبتاً کم درجہ حرارت اور ہلکی ہوائیں فائر فائٹرز کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، تاہم فی الحال صورتحال کو خطرناک قرار دیا جارہا ہے۔

گھروں کو واپسی میں مزید وقت لگے گا

مقامی حکام نے سمرلینڈ کے متاثرہ شہریوں سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی واپسی محفوظ قرار پائے گی، عوام کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ترجیح آگ کو قابو کرنا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور بنیادی سہولیات کو برقرار رکھنا ہے۔ اس دوران متاثرہ علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کے لیے اپنے گھروں سے دور مزید وقت گزارنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں