عمر رسیدہ جلد کے زخم اب جلد بھرنے کی امید، نئی دوا کے حیران کن نتائج

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں ہونے والی مختلف تبدیلیاں زخم بھرنے کے قدرتی عمل کو سست کرسکتی ہیں۔

اب سائنس دانوں نے ایک ایسی دوا کے حوالے سے ابتدائی طور پر حوصلہ افزا نتائج پیش کیے ہیں جو عمر رسیدہ جسم میں جمع ہونے والے ناکارہ اور نقصان زدہ خلیوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

تحقیق میں ABT-263 نامی دوا کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، جسے عمر رسیدہ چوہوں کی جلد پر استعمال کیا گیا۔ محققین نے دوا کے استعمال کے بعد زخم بھرنے کے عمل کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ جلد میں عمر بڑھنے سے وابستہ نقصان زدہ خلیوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ زخم کی بحالی میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Aging (Aging-US) میں شائع ہوئی ہے اور عمر رسیدہ جلد کے دیر سے بھرنے والے زخموں کے حوالے سے مستقبل کے ممکنہ علاج کی ایک نئی سمت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

عمر کے ساتھ زخم دیر سے کیوں بھرتے ہیں؟

محققین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں ایسے خلیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے جنہیں سینسنٹ سیلز کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے خلیے ہوتے ہیں جو معمول کے مطابق تقسیم نہیں ہوتے اور جسم کے مختلف ٹشوز میں جمع ہوسکتے ہیں۔

سینسنٹ خلیے مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوتے بلکہ وہ اردگرد کے ماحول پر اثر انداز ہونے والے مختلف کیمیائی سگنلز خارج کرسکتے ہیں۔ عمر رسیدہ جسم میں ان خلیوں کا جمع ہونا ٹشوز کے معمول کے کام اور زخم کی بحالی کے عمل کو متاثر کرنے والے عوامل میں شامل سمجھا جاتا ہے۔

عام حالات میں زخم بھرنے کے دوران جسم مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ متاثرہ حصے میں سوزش، نئے ٹشو کی تشکیل اور جلد کی بحالی جیسے مراحل ایک دوسرے کے بعد وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ان مراحل کی رفتار اور مؤثریت متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں معمولی زخم کو بھی مکمل طور پر بھرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

ABT-263 نے کیا کیا؟

تحقیق میں محققین نے عمر رسیدہ چوہوں کی جلد پر ABT-263 کا استعمال کیا اور اس کے بعد زخم بھرنے کے عمل کا جائزہ لیا۔

نتائج کے مطابق دوا کے استعمال کے بعد جلد میں عمر رسیدگی سے وابستہ نقصان زدہ یا سینسنٹ خلیوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے ساتھ ہی زخم کی بحالی کے عمل میں بھی نمایاں بہتری سامنے آئی۔

محققین کے مطابق ان نتائج سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمر رسیدہ جلد میں ایسے خلیوں کی تعداد کم کردی جائے جو ٹشوز کی بحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں تو زخم بھرنے کا قدرتی عمل بہتر ہوسکتا ہے۔

یہی تصور سائنسی تحقیق کے ایک ایسے شعبے سے جڑا ہے جس میں عمر رسیدگی سے وابستہ سینسنٹ خلیوں کو کم کرنے والی ادویات پر تحقیق کی جارہی ہے۔ ایسی ادویات کو عمومی طور پر سینولیٹکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق

تحقیق سے وابستہ بوسٹن یونیورسٹی کے محققین نے عمر رسیدہ جانوروں میں دوا کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تجربے کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ سینسنٹ خلیوں کو کم کرنے سے عمر رسیدہ جلد کے زخموں کی بحالی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

دوا کے استعمال کے بعد محققین نے عمر رسیدہ جلد میں زخم بھرنے کے عمل کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مطابق سینسنٹ خلیوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ زخم کی بحالی میں بھی بہتری نظر آئی۔

یہ نتائج اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ عمر رسیدہ افراد میں زخم دیر سے بھرنے کے مسئلے کے علاج کے لیے صرف زخم کے بیرونی حصے پر توجہ دینے کے بجائے عمر رسیدگی سے وابستہ خلیاتی تبدیلیوں کو ہدف بنانا بھی مستقبل میں ایک ممکنہ حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

کن مریضوں کے لیے امید؟

اگر ابتدائی نتائج آئندہ تحقیقات میں بھی برقرار رہتے ہیں تو اس طریقہ علاج سے عمر رسیدہ افراد میں دیر سے بھرنے والے زخموں کے لیے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

خاص طور پر ایسے زخم جو عمر، سرجری یا بعض دائمی بیماریوں کے باعث معمول سے زیادہ وقت لیتے ہیں، مستقبل میں اس نوعیت کی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تاہم موجودہ نتائج کو انسانی علاج کی کامیابی کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اب تک اس تجربے کے بنیادی نتائج جانوروں میں حاصل کیے گئے ہیں۔

ابھی انسانی علاج سے دور

تحقیق کے حوصلہ افزا نتائج کے باوجود ABT-263 کو فی الحال انسانوں میں عمر رسیدہ جلد کے زخم بھرنے کی ثابت شدہ دوا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چوہوں میں کسی دوا کا مثبت اثر ظاہر ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ انسانوں میں بھی وہ دوا اسی طرح کام کرے گی۔ انسانی جسم میں دوا کے جذب، اثرات، خوراک، ممکنہ مضر اثرات اور دیگر طبی عوامل مختلف ہوسکتے ہیں۔

اس لیے انسانوں میں استعمال سے قبل مزید تجربات کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد مناسب کلینیکل مطالعات کے ذریعے یہ جانچنا ہوگا کہ دوا انسانوں میں کتنی محفوظ اور مؤثر ہے۔

مزید تحقیق کیوں ضروری ہے؟

کسی بھی نئی دوا کو طبی استعمال کے لیے منظور کرنے سے پہلے اس کی حفاظت اور مؤثریت کے بارے میں مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔ ABT-263 کے معاملے میں بھی یہ جاننا ضروری ہوگا کہ انسانوں میں دوا کی مناسب خوراک کیا ہونی چاہیے، اس کے ممکنہ مضر اثرات کیا ہوسکتے ہیں اور کن مریضوں کو اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی تحقیق کرنا ضروری ہوگا کہ آیا دوا کو براہ راست جلد پر استعمال کرنا بہتر ہے یا کسی دوسرے طریقے سے، اور اس کا اثر مختلف اقسام کے زخموں پر کس حد تک برقرار رہتا ہے۔

عمر رسیدہ افراد کے لیے نئی امید

دنیا بھر میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ایسے طبی مسائل پر تحقیق کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ عام ہوجاتے ہیں۔ دیر سے بھرنے والے زخم بھی انہی مسائل میں شامل ہیں اور بعض صورتوں میں طویل مدتی طبی نگہداشت کی ضرورت پیدا کرسکتے ہیں۔

ABT-263 سے متعلق موجودہ تحقیق نے اس مسئلے کے ممکنہ خلیاتی سبب کو ہدف بنانے کی ایک راہ ضرور دکھائی ہے۔ تاہم یہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے اور انسانوں میں اس طریقہ علاج کی افادیت ثابت ہونا باقی ہے۔

محققین کے نتائج اس حوالے سے ضرور امید پیدا کرتے ہیں کہ مستقبل میں عمر رسیدہ جلد کے زخموں کے علاج کے لیے ایسے طریقے سامنے آسکتے ہیں جو زخم بھرنے کے عمل میں رکاوٹ بننے والے عمر رسیدہ خلیوں کو براہ راست ہدف بنائیں۔ فی الحال اس دوا کے حوالے سے حتمی طبی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے مزید تحقیق کے نتائج کا انتظار کرنا ضروری ہوگا۔

ہمیں فالو کریں