الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان ہوشیار،نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

برطانیہ میں 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد MOT ٹیسٹوں کے تجزیے میں الیکٹرک گاڑیوں کے پہیوں سے متعلق خرابیوں کی شرح زیادہ سامنے آئی

برقی گاڑیوں کو ماحول دوست اور جدید ٹرانسپورٹ کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک تازہ تحقیق میں ان گاڑیوں کی دیکھ بھال سے متعلق ایک ایسا پہلو سامنے آیا ہے جس پر مالکان کو خاص توجہ دینا پڑ سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا امکان پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ پایا گیا ہے۔

یہ نتائج برطانیہ میں ہونے والے لاکھوں گاڑیوں کے معائنے کے اعداد و شمار کے تجزیے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ تحقیق میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد MOT ٹیسٹوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس کے ذریعے مختلف اقسام کی گاڑیوں میں سامنے آنے والی خرابیوں کا موازنہ کیا گیا۔

پہیوں پر اضافی دباؤ

تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں میں پہیوں اور ٹائروں سے متعلق خرابیوں کی زیادہ شرح کی ایک اہم وجہ ان گاڑیوں کا اضافی وزن اور الیکٹرک موٹر کا فوری ٹارک ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

چین میں ٹیسلا سمیت بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی واپسی، حفاظتی خدشات نے نئی بحث چھیڑ دی

روایتی پٹرول انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں میں بڑی بیٹری نصب ہوتی ہے۔ بعض برقی گاڑیوں کے بیٹری پیک کا وزن تقریباً 299 سے 499 کلوگرام تک ہوسکتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں بیٹری گاڑی کے مجموعی وزن کا تقریباً 25 فیصد تک بنتی ہے۔

یہ اضافی وزن گاڑی کے پہیوں، ٹائروں اور دیگر متعلقہ اجزا پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ گاڑی جتنی بھاری ہوگی، اسے سڑک پر حرکت دینے، روکنے اور موڑنے کے دوران ٹائروں اور پہیوں کو اتنی ہی زیادہ قوت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔

فوری ٹارک بھی اہم وجہ

تحقیق میں الیکٹرک موٹر کے فوری ٹارک کو بھی ٹائروں پر اضافی دباؤ کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔

پٹرول انجن والی گاڑی میں انجن کی طاقت اور ٹارک مختلف رفتاروں اور انجن کی گردش کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، جبکہ الیکٹرک موٹر ایکسلریشن شروع ہوتے ہی نمایاں ٹارک فراہم کرسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں گاڑی تیزی سے حرکت پکڑتی ہے اور ڈرائیونگ کے دوران ٹائروں پر زیادہ قوت پڑ سکتی ہے۔

اگر ڈرائیور بار بار تیز ایکسلریشن کا استعمال کرے تو ٹائروں کے سڑک کے ساتھ رابطے کے دوران ان پر پڑنے والا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ تحقیق نے اسی اضافی وزن اور فوری کم رفتار ٹارک کو ٹائروں سے متعلق مسائل کی زیادہ شرح سے جوڑا ہے۔

پرانے ماڈلز میں مسئلہ زیادہ

تحقیق میں گاڑیوں کی عمر اور ماڈل کے حوالے سے بھی فرق سامنے آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق پرانے الیکٹرک گاڑیوں کے ماڈلز میں ٹائروں سے متعلق مسائل زیادہ نمایاں تھے۔

یہ صورتحال اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ برقی گاڑیوں کے ابتدائی ماڈلز اور جدید ماڈلز میں ڈیزائن، وزن، ٹائر ٹیکنالوجی اور گاڑی کے دیگر اجزا کے حوالے سے فرق ہوسکتا ہے۔

تاہم صرف گاڑی کے الیکٹرک ہونے کی بنیاد پر ہر ماڈل میں یکساں مسئلے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ گاڑی کا وزن، ٹائر کا معیار، ڈرائیونگ کا انداز، سڑکوں کی حالت اور بروقت دیکھ بھال بھی ٹائروں کی عمر اور کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

بریکس سے متعلق خرابیاں بھی سامنے آئیں

تحقیق میں صرف ٹائروں اور پہیوں سے متعلق مسائل ہی نہیں بلکہ بعض برقی گاڑیوں میں رگڑ سے کام کرنے والے روایتی بریکس سے متعلق خرابیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔

الیکٹرک گاڑیوں میں عام طور پر توانائی دوبارہ حاصل کرنے والا بریکنگ نظام، جسے ری جنریٹو بریکنگ کہا جاتا ہے، استعمال ہوتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے گاڑی کی رفتار کم کرتے وقت کچھ توانائی دوبارہ بیٹری میں منتقل کی جاسکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں بعض حالات میں روایتی رگڑ والے بریکس کا استعمال کم ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں بعض گاڑیوں میں ایسے بریکس سے متعلق مسائل بھی سامنے آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

مالکان کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں

تحقیق کے نتائج کا ایک اہم پہلو الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کے ممکنہ اضافی اخراجات سے متعلق ہے۔

متعلقہ ایسوسی ایشن کے مطابق بعض برقی گاڑیوں کے مالکان کو ٹائروں کی تبدیلی اور دیگر مرمت پر اضافی رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر مہنگے یا پریمیم ٹائروں کی تبدیلی کی صورت میں اخراجات سینکڑوں پاؤنڈز تک پہنچ سکتے ہیں۔

چونکہ برقی گاڑیوں میں وزن زیادہ ہوسکتا ہے اور ان کی موٹر فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، اس لیے مناسب ٹائر کا انتخاب اور ان کی حالت پر نظر رکھنا گاڑی کی دیکھ بھال کا اہم حصہ بن جاتا ہے۔

ٹائر چیک کرنا کیوں ضروری؟

ماہرین کی جانب سے عام طور پر گاڑی کے ٹائروں میں ہوا کا دباؤ، ٹریڈ کی گہرائی، غیر معمولی گھساؤ اور کسی بھی ظاہری نقصان کو باقاعدگی سے چیک کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ برقی گاڑیوں کے مالکان کے لیے یہ احتیاط اس لیے بھی اہم ہوسکتی ہے کہ بھاری گاڑی اور فوری ٹارک ٹائروں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

خاص طور پر اگر ٹائر غیر معمولی رفتار سے گھس رہے ہوں، گاڑی چلاتے وقت اسٹیئرنگ میں غیر معمولی کیفیت محسوس ہو یا ٹائر پر ایک جانب زیادہ گھساؤ نظر آئے تو اس کی بروقت جانچ ضروری ہے۔

تحقیق کا اہم پیغام

برطانیہ کے 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد MOT ٹیسٹوں کے تجزیے سے سامنے آنے والے نتائج الیکٹرک گاڑیوں کی دیکھ بھال کے ایک اہم پہلو کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق پہیوں اور ٹائروں سے متعلق مسائل کی زیادہ شرح کو بنیادی طور پر بیٹری کے اضافی وزن اور الیکٹرک موٹر کے فوری کم رفتار ٹارک سے جوڑا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

برطانیہ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں پر ڈسکائونٹ اسکیم کا آغاز

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر الیکٹرک گاڑی میں ٹائروں کے مسائل لازماً زیادہ ہوں گے۔ گاڑی کا ماڈل، استعمال، ڈرائیونگ کا انداز، ٹائر کا انتخاب اور دیکھ بھال جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ان کی دیکھ بھال اور طویل مدتی کارکردگی سے متعلق تحقیق بھی اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ موجودہ تحقیق نے خاص طور پر ٹائروں اور پہیوں کی حالت پر توجہ دینے کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے، جس سے مالکان کو گاڑی کی باقاعدہ جانچ اور مناسب دیکھ بھال کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ہمیں فالو کریں