اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا میں 19 اکتوبر کو ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے لیے ووٹرز کی غیر معمولی تعداد میں شرکت متوقع ہے، جس کے باعث صوبے بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر لمبی قطاریں لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انتخابات کے منتظم ادارے الیکشنز البرٹا کے اندازے کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 80 سے 85 فیصد تک افراد ریفرنڈم میں اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
یہ شرح صوبے میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والے عام انتخابات اور دیگر انتخابی مراحل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوسکتی ہے، جس کے باعث پولنگ کے دن انتظامی اور سیکیورٹی چیلنجز بڑھنے کا امکان ہے۔
تاریخی ٹرن آؤٹ کی توقع
19 اکتوبر کا ریفرنڈم البرٹا کی سیاسی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اسی وجہ سے انتخابی حکام بڑی تعداد میں ووٹرز کی پولنگ اسٹیشنز آمد کی تیاری کر رہے ہیں۔
الیکشنز البرٹا کے اندازے کے مطابق 80 سے 85 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز بیلٹ کاسٹ کرسکتے ہیں۔ اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
2025 کے میونسپل انتخابات کے دوران بھی بعض مقامات پر بڑی تعداد میں ووٹرز کے باعث طویل انتظار دیکھنے میں آیا تھا۔ آئندہ ریفرنڈم میں ٹرن آؤٹ اس سے بھی زیادہ رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی پلان پر کام جاری
بڑی تعداد میں ووٹرز کے ممکنہ اجتماع کے باعث پولنگ اسٹیشنز کے باہر سیکیورٹی کا معاملہ بھی اہم بن گیا ہے۔تاہم پولنگ کے دن قطاروں اور ممکنہ ہجوم سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی منصوبہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیا۔ الیکشنز البرٹا سے اس حوالے سے مزید معلومات طلب کی گئی ہیں۔ادارے کی جانب سے فوری طور پر تفصیلی جواب سامنے نہیں آیا۔
پولیس بھی تیار
کیلگری پولیس نے واضح کیا ہے کہ اگر حتمی منصوبہ سامنے آتا ہے تو پولیس اس کے مطابق سیکیورٹی انتظامات کے لیے تیار ہے۔ایڈمنٹن میں بھی پولیس حکام نے پولنگ کے دن ممکنہ صورتحال کے حوالے سے تیاری شروع کردی ہے۔ ایڈمنٹن پولیس سروس کے چیف وارن ڈریشل نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کے اندر ایک اہم اور جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
ہر پولنگ اسٹیشن پر پولیس ممکن نہیں
ایڈمنٹن پولیس چیف کے مطابق شہر کے ہر پولنگ اسٹیشن پر پولیس اہلکار تعینات کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ بدنظمی کو روکنا اور ایسے واقعات کی تحقیقات کرنا ہوگا جو جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ان میں دھمکیاں، حملے اور ووٹرز یا دیگر افراد کو ہراساں یا خوف زدہ کرنے کے واقعات شامل ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کتنی مہنگی پڑے گی؟ نئی رپورٹ میں 170 ارب ڈالر تک اخراجات کا انکشاف
جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے
وارن ڈریشل کے مطابق پولیس اس بات پر توجہ دے رہی ہے کہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر میں ایک جامع منصوبہ کیسے نافذ کیا جائے۔
پولیس کی توجہ صرف پولنگ اسٹیشنز پر اہلکار کھڑے کرنے تک محدود نہیں بلکہ کسی بھی ایسے واقعے کی روک تھام پر بھی ہوگی جو انتخابی عمل میں خلل ڈال سکتا ہو۔طویل قطاروں کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنا اور ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی پولیس کے منصوبے کا حصہ ہوگا۔
خصوصی بیلٹ کی ریکارڈ درخواستیں
دوسری جانب ریفرنڈم سے قبل خصوصی بیلٹ کے لیے درخواستوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔الیکشنز البرٹا کے مطابق اب تک 5 لاکھ 20 ہزار خصوصی بیلٹس کے لیے درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ ان میں سے 3 لاکھ سے زیادہ بیلٹس ووٹرز کو بھیجے جاچکے ہیں۔
یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑی تعداد میں البرٹا کے شہری پولنگ اسٹیشن جانے کے بجائے خصوصی بیلٹ کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
صرف 24 ہزار بیلٹ واپس آئے
اب تک بھیجے گئے خصوصی بیلٹس میں سے تقریباً 24 ہزار ہی واپس موصول ہوئے ہیں اور ان کی منظوری بھی ہوچکی ہے۔انتخابی حکام کے مطابق خصوصی بیلٹ واپس بھیجنے کے لیے مقررہ آخری تاریخ کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ ووٹ بروقت موصول ہوکر انتخابی عمل میں شامل ہوسکے۔
300 پیکجز میں بیلٹ موجود نہیں
الیکشنز البرٹا نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 300 خصوصی بیلٹ پیکجز ایسے تھے جن میں بیلٹ موجود نہیں تھے۔حکام کی جانب سے خصوصی بیلٹ کے پورے عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
درخواست کی آخری تاریخ
خصوصی بیلٹ کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ آئندہ جمعہ مقرر کی گئی ہے۔درخواست کے بعد بیلٹ کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل کرکے 9 اکتوبر تک الیکشنز البرٹا کو واپس بھیجنا ہوگا۔
19 اکتوبر کو اصل امتحان
19 اکتوبر کا ریفرنڈم اب انتخابی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں دونوں کے لیے بڑا انتظامی امتحان بن چکا ہے۔ایک طرف غیر معمولی ٹرن آؤٹ کے باعث پولنگ اسٹیشنز پر طویل قطاروں کا امکان ہے، جبکہ دوسری جانب خصوصی بیلٹس کی ریکارڈ تعداد میں درخواستیں انتخابی عمل پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہیں۔
پولیس اور انتخابی حکام کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو منظم، محفوظ اور پُرامن ماحول میں اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
