یورپی یونین کی کینیڈا کو ’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ بنانے کی خواہش،نئے تعاون کی تجویز

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یورپی یونین نے کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسے 27 رکنی بلاک کا پہلا ’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ بنانے کی خواہش ظاہر کردی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے کئی ممالک امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کی نئی تجویز

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ یورپی یونین اور کینیڈا کو اپنی شراکت داری پر فوری طور پر نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دونوں فریقوں کے تعلقات کو صرف آزاد تجارتی معاہدے تک محدود رکھنے کے بجائے تعاون کے مزید وسیع مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ تجویز کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان مستقبل میں زیادہ گہرے اقتصادی، دفاعی اور تکنیکی روابط کی بنیاد بن سکتی ہے۔

کارنی نے بھی حمایت کردی

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ یورپی پارلیمنٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنی کھلی منڈیوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے زیادہ لچک اور مضبوطی چاہتا ہے۔

کارنی نے دونوں خطوں کے درمیان تعاون کو کئی اہم شعبوں تک وسعت دینے کی تجویز پیش کی، جن میں اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت، دفاع، توانائی، تحقیق اور مالیاتی شعبے شامل ہیں۔

خودمختاری پر زور

مارک کارنی نے اپنے خطاب میں خودمختاری کو مجوزہ شراکت داری کا اہم پہلو قرار دیا۔ ان کے مطابق کسی ملک کی خودمختاری کا تعلق اس کی اس صلاحیت سے ہے کہ وہ عالمی بحرانوں اور اچانک آنے والے معاشی یا سیاسی جھٹکوں کا مقابلہ کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اور یورپ کے درمیان زیادہ مضبوط تعلقات دونوں فریقوں کو مختلف عالمی حالات میں زیادہ لچک پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :یورپی یونین کا بڑا منصوبہ، کینیڈا کو پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کی تجویز

’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ کی حیثیت کیا ہے؟

اس تجویز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ اس وقت یورپی یونین کے قانونی ڈھانچے میں باقاعدہ رکنیت کی کوئی موجودہ حیثیت نہیں ہے۔

یورپی یونین کے موجودہ قوانین کے مطابق مکمل رکنیت کے لیے صرف یورپی ممالک درخواست دے سکتے ہیں۔ اس لیے کینیڈا کے لیے جس نئی حیثیت کی بات کی جا رہی ہے، اس کے لیے ایک الگ انتظام یا نیا فریم ورک درکار ہوگا۔

اس مجوزہ شراکت داری کی عملی شکل، اختیارات، ذمہ داریوں اور کینیڈا کی مالی و ادارہ جاتی شرکت سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

تجارت کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش

کینیڈا اور یورپ کے درمیان تجارتی روابط پہلے ہی موجود ہیں، تاہم موجودہ عالمی اقتصادی ماحول نے دونوں فریقوں کو تعلقات مزید وسیع کرنے کی جانب متوجہ کیا ہے۔

کینیڈا کے لیے یورپی منڈیوں تک رسائی بڑھانا اور یورپی ممالک کے ساتھ سپلائی چینز کو مضبوط بنانا اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین بھی عالمی تجارت میں مختلف شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

اہم معدنیات اور مصنوعی ذہانت

مجوزہ تعاون میں اہم معدنیات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوسکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بیٹریوں، دفاعی سازوسامان اور توانائی کے شعبوں میں استعمال ہونے والی معدنیات عالمی معیشت میں اہم حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور جدید تحقیق بھی کینیڈا اور یورپ کے درمیان تعاون کے ممکنہ بڑے شعبے ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی، دفاع اور مالیاتی شعبوں میں بھی مشترکہ منصوبوں اور تعاون کے امکانات تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

کینیڈا کی معیشت اور یورپ

کینیڈا کی معیشت کا یورپی ممالک کے ساتھ تقابلی جائزہ اس ممکنہ شراکت داری کی اقتصادی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ فی کس مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی فی کس کسی ملک کی معیشت میں فی فرد دستیاب مجموعی اقتصادی پیداوار اور آمدنی کی وسیع تصویر پیش کرتی ہے۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے یورپی یونین کے ممالک کے مقابلے میں درمیانی سطح پر ہے۔

فرانس، اٹلی اور اسپین سے آگے

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا فی کس جی ڈی پی کے معاملے میں یورپی یونین کے بعض بڑی معیشتوں والے ممالک سے آگے ہے، جن میں فرانس، اٹلی اور اسپین شامل ہیں۔

یورپی یونین کی بڑی معیشتوں میں جرمنی بھی شامل ہے، تاہم تمام یورپی ممالک اقتصادی اعتبار سے ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔ کئی ممالک OECD کی اوسط سطح سے بھی نیچے ہیں۔

آسٹریلیا اور آئس لینڈ کا موازنہ

کینیڈا کے مقابلے میں بعض غیر یورپی یونین ممالک بہتر فی کس اقتصادی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ان میں آسٹریلیا اور آئس لینڈ قابل ذکر ہیں۔

اس تقابلی تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا کی اقتصادی پوزیشن یورپی ممالک کے درمیان کسی انتہائی سطح پر نہیں بلکہ مجموعی طور پر درمیانی دائرے میں آتی ہے۔

تعلقات کا نیا مرحلہ

کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان ’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ کی تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی قانونی و عملی تفصیلات پر مزید بات چیت درکار ہوگی۔ تاہم کارنی حکومت کی جانب سے تجارت، دفاع، توانائی، تحقیق، مصنوعی ذہانت اور اہم معدنیات سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش واضح ہے۔

اگر دونوں فریق اس شراکت داری کے لیے قابلِ عمل فریم ورک تشکیل دے لیتے ہیں تو کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات موجودہ آزاد تجارتی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ وسیع اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں