اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان نئے گورڈی ہووے انٹرنیشنل برج کے افتتاح میں غیر یقینی صورتحال کے دوران ڈیٹرائٹ ریور پر واقع نجی ملکیت کے ایمبیسیڈر برج نے ٹرکنگ کمپنیوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے مبینہ طور پر جارحانہ انداز میں رابطے کیے۔
اونٹاریو ٹرکنگ ایسوسی ایشن کے پالیسی ڈائریکٹر لیک شوان کے مطابق ان کی تنظیم کو رواں سال موسم بہار کے دوران متعدد ٹرکنگ کمپنیوں کی جانب سے معلوم ہوا کہ ایمبیسیڈر برج انتظامیہ کاروباری اداروں سے رابطہ کر رہی ہے۔
ٹرک کمپنیوں سے رابطے
لیک شوان نے بتایا کہ ابتدا میں چند کمپنیوں نے غیر رسمی گفتگو کے دوران اس بارے میں بتایا کہ ایمبیسیڈر برج ان سے دوبارہ رابطہ کر رہا ہے۔ بعد میں مزید کمپنیوں سے بھی ایسی ہی اطلاعات ملیں۔
ان کے مطابق ایسوسی ایشن کو یہ معلوم نہیں کہ ایمبیسیڈر برج کی جانب سے ہر کمپنی کو کس نوعیت کی پیشکش کی گئی، تاہم ان کا خیال ہے کہ مقصد ٹرکنگ فلیٹس کو ایمبیسیڈر برج کے استعمال پر برقرار رکھنا یا نئی کمپنیوں کو اپنی جانب راغب کرنا تھا۔
کینیڈین میڈیا نے متعدد ایسی ٹرکنگ کمپنیوں سے رابطہ کیا جو سرحد پار تجارت کرتی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا انہیں ٹول ریٹس میں خصوصی رعایت کی پیشکش کی گئی ہے یا نہیں۔ جن کمپنیوں نے جواب دیا انہوں نے نجی کاروباری معاہدوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
24 کروڑ ڈالر؟ نہیں، 2 لاکھ 40 ہزار ڈالر ماہانہ بچت
ایک امریکی ٹرکنگ یونین عہدیدار کی جانب سے جولائی کے آخر میں سوشل میڈیا پر کی جانے والی ایک پوسٹ، جسے بعد میں حذف کردیا گیا، میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک معاہدے کے باعث ایک کمپنی ایمبیسیڈر برج استعمال کرکے ماہانہ تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر ٹولز کی مد میں بچا رہی ہے۔
یو اے ڈبلیو لوکل 212 کے چیئرمین جے ٹی بیریٹ، جو ایف سی اے ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کی نمائندگی کرتے ہیں، نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر کمپنی گورڈی ہووے برج استعمال کرنا چاہتی ہے تو پہلے ایمبیسیڈر برج کو موجودہ معاہدہ ختم کرنے کے ارادے سے آگاہ کرنا ہوگا۔
ماہانہ فکس ٹول ریٹ
بیریٹ کے مطابق ایف سی اے ٹرانسپورٹ کا ایمبیسیڈر برج کے ساتھ ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت کمپنی ہر ماہ مقررہ 160,000 ڈالر ادا کرتی ہے، چاہے مہینے میں کتنی ہی مرتبہ پل عبور کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے پہلے کمپنی کو ہر کراسنگ کی بنیاد پر ماہانہ 400,000 ڈالر سے زیادہ ادا کرنا پڑتے تھے۔
تاہم بیریٹ نے مزید تبصرے کے لیے میڈیا کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ اسٹیلانٹس نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ایف سی اے ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز ایمبیسیڈر برج کے ساتھ خصوصی ٹول معاہدے کے پابند ہیں۔
گورڈی ہووے برج کی تاخیر
گورڈی ہووے انٹرنیشنل برج کا افتتاح طویل عرصے تک سیاسی اور تجارتی تنازع کا شکار رہا۔ 6.4 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس پل کی مکمل لاگت کینیڈین حکومت نے برداشت کی ہے۔
پل کو ابتدائی طور پر جون میں کھولا جانا تھا، تاہم وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق امریکی حکومت کی درخواست پر افتتاح مؤخر کردیا گیا۔ بالآخر 27 جولائی 2026 کو گورڈی ہووے برج کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :ٹورنٹو کے لیسائیڈ برج پر حفاظتی باڑ کی تعمیر جولائی سے شروع ہوگی
اس نئے پل کے افتتاح سے ایمبیسیڈر برج کو شمالی امریکا کی اہم ترین سرحدی تجارتی گزرگاہوں میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے نئے مسابقتی دباؤ کا سامنا ہے۔
ٹول ریٹس اہم معاملہ
دونوں پلوں کے درمیان ٹول ریٹس اور آمدنی گورڈی ہووے برج کے افتتاح سے قبل کئی ماہ تک جاری رہنے والی سیاسی بحث کا اہم حصہ رہے۔نئے پل کے افتتاح سے متعلق معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امریکی حکومت گورڈی ہووے برج کے ٹول کو علاقائی طور پر موازنہ کیے جانے والے دیگر پلوں کی اوسط شرح سے کم کرنے کی صورت میں مداخلت کرسکتی ہے۔
دوسری جانب ایمبیسیڈر برج کی ویب سائٹ پر کمرشل صارفین کے لیے ایک خصوصی پروگرام کا ذکر موجود ہے۔ اس کے مطابق ماہانہ 150 سے زیادہ کراسنگ کی توقع رکھنے والی ٹرکنگ کمپنیوں کو مخصوص اے پاس سبسکرپشن اکاؤنٹس کی سہولت دی جاسکتی ہے، جس میں متوقع کراسنگ کی تعداد کے حساب سے مقررہ ماہانہ شرح طے کی جاتی ہے۔
کاروباری اداروں کے لیے مقابلہ فائدہ مند
لیک شوان کے مطابق دونوں پلوں کے درمیان صحت مند مسابقت ٹرکنگ کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے ٹول اخراجات کم ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے گورڈی ہووے برج کے افتتاح کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار تھی، جس کے باعث ایمبیسیڈر برج کی جانب سے پیش کی جانے والی کوئی بھی طویل مدتی یا مقررہ قیمت والی پیشکش ٹرکنگ کمپنیوں کے لیے پرکشش ہوسکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی معاشی ماحول میں کاروباری ادارے اپنے اخراجات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ یقین دہانی چاہتے ہیں اور اگر کسی کمپنی کو ٹول اخراجات کے معاملے میں مستقل لاگت مل جائے تو یہ اس کے لیے ذہنی اطمینان کا باعث بن سکتی ہے۔
اسٹیلانٹس کا مؤقف
اسٹیلانٹس نے اپنے بیان میں گورڈی ہووے انٹرنیشنل برج کے افتتاح کو شمالی امریکا کی اہم ترین سرحدی گزرگاہ کو مزید مضبوط کرنے والا قدم قرار دیا۔کمپنی کے مطابق نیا پل دونوں ممالک میں اس کے مینوفیکچرنگ آپریشنز کے لیے اضافی راستہ فراہم کرے گا اور سامان کی نقل و حرکت بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ کمپنی نے تاہم اپنے تجارتی معاہدوں اور ٹول ریٹس سے متعلق مخصوص معلومات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
گورڈی ہووے برج کے کھلنے کے بعد اب دونوں پلوں کے درمیان مقابلہ مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے، جبکہ ٹول ریٹس اور بڑے ٹرکنگ فلیٹس کے ساتھ معاہدے مستقبل میں اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کہ سرحد پار مال برداری کا کتنا حصہ کس پل کی جانب منتقل ہوتا ہے۔
