اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر سمرلینڈ میں ایک ہفتے سے زائد عرصے تک خوف اور بے یقینی کے بعد بیشتر شہریوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بالڈ رینج جنگلاتی آگ کے باعث 7 اگست کو 12 ہزار سے زائد آبادی والے اس شہر کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا تھا۔ آگ کے دوران ایک 80 سالہ خاتون بھی جان کی بازی ہار گئی تھیں۔
3380 جائیدادوں سے انخلا ختم
سمرلینڈ کے میئر ڈگ ہومز کے مطابق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق 7 بجے 3380 جائیدادوں سے انخلا کا حکم ختم کردیا گیا، جسے انہوں نے شہر کی اکثریتی آبادی کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے انتظار کی جانے والی خبر قرار دیا۔
میئر کا کہنا تھا کہ شہریوں کی واپسی کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا گیا بلکہ حفاظتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ باقی علاقوں تک بھی محفوظ رسائی بحال کی جائے۔
اوکاناگن سِمِلکامین ریجنل ڈسٹرکٹ کے حکام نے بھی کہا ہے کہ باقی سمرلینڈ تک رسائی آئندہ چند روز میں بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جمعرات تک مزید علاقوں کی بحالی
ڈسٹرکٹ آف سمرلینڈ کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر گراہم اسٹاٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں جیو ٹیکنیکل جائزے اور بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ پوری کوشش کررہی ہے کہ جمعرات تک شہر کے باقی علاقوں سے بھی انخلا کا حکم ختم کردیا جائے۔ تاہم پہاڑی ڈھلوانوں کے استحکام اور بجلی کی فراہمی سے متعلق کام مکمل ہونا ضروری ہے تاکہ لوگوں کی واپسی محفوظ انداز میں ممکن ہوسکے۔
شہریوں نے سکھ کا سانس لیا
گھروں کو واپس آنے والے شہریوں نے کئی دن کی پریشانی کے بعد خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ رہائشی جان شوماکر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے آگ کو اپنے گھر کے پیچھے بڑھتے دیکھا تھا اور انہیں یقین ہوگیا تھا کہ ان کا گھر تباہ ہوچکا ہے۔
تاہم جب وہ واپس پہنچیں تو گھر کو تقریباً محفوظ دیکھ کر انہیں شدید خوشی ہوئی۔ ان کے مطابق نقصان بہت کم تھا اور گھر بڑی حد تک اپنی اصل حالت میں موجود تھا۔
ایک اور رہائشی کوری لی مائرز نے کہا کہ گزشتہ کئی دن اپنے گھر کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی پریشانی میں گزرے۔ گھر محفوظ ہونے کی تصدیق پر وہ جذباتی ہوگئیں اور کہا کہ اب وہ دوبارہ اپنے گھر جاسکتی ہیں۔
بجلی بند، فریج صاف کرنا پڑا
مائرز نے بتایا کہ ان کے گھر کی بجلی تقریباً 44 گھنٹے تک بند رہی تھی، جس کے باعث گھر واپس پہنچتے ہی انہیں فریج میں موجود خراب ہونے والی اشیا نکالنا پڑیں۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اب وہ اس مرحلے کو ختم کرکے نئی شروعات کرنا چاہتی ہیں۔
فائر فائٹرز نے شہر بچا لیا
سمرلینڈ کے فائر چیف روب رابنسن نے بتایا کہ کارٹ رائٹ کے علاقے میں ہیرن روڈ جنگلاتی آگ کے خلاف کارروائی کا ایک اہم محاذ تھا۔ان کے مطابق فائر فائٹرز نے انتہائی مشکل حالات میں آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ گھر آگ کی نذر ہوئے، تاہم شہر کے مرکزی کاروباری علاقے کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
روب رابنسن نے فائر فائٹرز کی کوششوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی میں محنت کے ساتھ کچھ خوش قسمتی نے بھی کردار ادا کیا۔
530 جائیدادیں اب بھی خالی
منگل تک گارنیٹ ویلی، پریری ویلی اور میڈو ویلی کے علاقوں میں 530 جائیدادیں اب بھی انخلا کے حکم کے تحت تھیں۔ ان علاقوں کے رہائشی فی الحال اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکتے۔
سمرلینڈ کے دیگر تمام رہائشیوں کو اگرچہ واپسی کی اجازت مل گئی ہے، تاہم وہ اب بھی انخلا کے الرٹ پر ہیں۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ صورتحال دوبارہ خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار رہیں۔
میئر ڈگ ہومز نے بتایا کہ کچھ علاقوں کو اس لیے محفوظ قرار نہیں دیا گیا کیونکہ وہاں رہائشی علاقوں کے اوپر موجود پہاڑی ڈھلوانوں کے استحکام کا ماہرین کی جانب سے جائزہ لینا باقی ہے۔ گارنیٹ ویلی میں بجلی کی فراہمی بھی بحال نہیں ہوئی۔
پانی ابال کر استعمال کرنے کی ہدایت
شہریوں کی واپسی کے باوجود سمرلینڈ میں معمول کی زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔ انخلا کے دوران واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بند ہونے کے باعث شہریوں کے لیے پانی ابال کر استعمال کرنے کی ہدایت برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں ؍سمرلینڈ کے قریب تباہ کن جنگلاتی آگ، بی سی کے پریمیئر کا ہنگامی ردعمل کا جائزہ لینے کا اعلان
حکام کے مطابق پانی کی فراہمی کے نظام کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے، اس لیے رہائشیوں کو پانی کے حوالے سے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
شہر کا لینڈ فل بھی اب تک آگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث شہریوں کے کچرے کو ریجنل ڈسٹرکٹ کے زیر انتظام ایک دوسری تنصیب تک منتقل کرنا پڑے گا۔
150 عمارتیں متاثر
اوکاناگن سِمِلکامین ریجنل ڈسٹرکٹ کے ابتدائی جائزے کے مطابق بالڈ رینج فائر سے تقریباً 150 عمارتیں متاثر یا تباہ ہوئی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 40 عمارتیں سمرلینڈ میونسپلٹی کی حدود میں واقع تھیں۔
میئر ہومز کے مطابق جن افراد کے گھر یا املاک تباہ ہوئیں، انتظامیہ نے ان سے سماجی کارکنوں اور کونسلرز کے ذریعے رابطہ کیا۔ متاثرہ افراد کو عام شہریوں کی واپسی سے پہلے اپنی املاک دیکھنے کا موقع بھی دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سمجھتی تھی کہ جن لوگوں نے اپنے گھر کھوئے ہیں، انہیں سب سے پہلے اپنی جائیداد کی صورتحال دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
آگ اب بھی قابو سے باہر
حکام کے مطابق منگل تک 220 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی بالڈ رینج جنگلاتی آگ کو اب بھی ’’آؤٹ آف کنٹرول‘‘ قرار دیا گیا تھا۔فائر فائٹرز نے آگ کو جنوبی اور مشرقی سمت میں قائم کنٹرول لائنز کے پیچھے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے، تاہم اب توجہ آگ کے مغربی حصے پر مرکوز ہے جہاں شعلے اب بھی جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سمرلینڈ کے بیشتر شہریوں کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت مل گئی ہے، لیکن جنگلاتی آگ پر مکمل قابو پانے تک صورتحال کو مکمل طور پر معمول پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ متاثرہ اور الرٹ والے علاقوں کے رہائشیوں کو کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
