اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت پارلیمنٹ کے خزاں اجلاس میں نسبتاً بہتر مالی پوزیشن کے ساتھ داخل ہورہی ہے۔ معاشی نتائج توقعات سے بہتر رہنے کے باعث حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی آپریٹنگ بجٹ پہلے طے شدہ مدت سے ایک سال پہلے متوازن ہونے کی راہ پر ہے۔
کارنی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد وفاقی بجٹ کی ترجیحات میں تبدیلی کرتے ہوئے سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے والے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔
بجٹ ایک سال پہلے متوازن ہوگا
وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ کے دوران اعلان کیا کہ حکومت اپنا آپریٹنگ بجٹ پہلے مقرر کیے گئے وقت سے ایک سال پہلے متوازن کرسکتی ہے۔
کارنی نے 2025 میں عہدہ سنبھالتے وقت وعدہ کیا تھا کہ حکومت تین سال کے اندر آپریٹنگ اخراجات کو آمدنی کے برابر لانے کی کوشش کرے گی، تاکہ وفاقی حکومت کا قرض بنیادی طور پر ایسے منصوبوں کے لیے استعمال ہو جو مستقبل میں سرمایہ اور معاشی صلاحیت پیدا کریں۔
اب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ہدف مالی سال 2028 کے بجائے اگلے سال حاصل ہوسکتا ہے۔
اخراجات میں 60 ارب ڈالر کمی
وفاقی حکومت نے پہلے ہی پانچ سال کے دوران تقریباً 60 ارب ڈالر کے موجودہ سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔اس منصوبے کا ایک اہم حصہ وفاقی پبلک سروس کے حجم میں کمی کرنا بھی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سرکاری اخراجات میں کارکردگی بہتر بنا کر مالی دباؤ کم کیا جاسکتا ہے۔
وزارت خزانہ کے ترجمان جان فراگوس کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط، اخراجات میں کارکردگی اور محتاط مالی پالیسی نے آپریٹنگ بجٹ متوازن کرنے کے عمل کو ایک سال آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔
آمدنی میں نمایاں اضافہ
تاہم بعض معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی مالی پوزیشن بہتر ہونے کی وجہ صرف اخراجات میں احتیاط نہیں بلکہ معیشت سے حاصل ہونے والی زیادہ آمدنی بھی ہے۔
ڈیژارڈن کے ڈپٹی چیف اکانومسٹ رینڈل بارٹلیٹ کے مطابق اپریل سے جون کے دوران وفاقی حکومت کی آمدنی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ رہی۔یہ شرح حکومت کے موسم بہار کے معاشی اپ ڈیٹ میں پورے سال کے لیے متوقع تقریباً 3.5 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔
صارفین اور کمپنیوں کا کردار
بارٹلیٹ کے مطابق صارفین کے اخراجات میں مضبوطی اور کمپنیوں کے بہتر منافع نے وفاقی حکومت کی ٹیکس آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی توقع سے زیادہ عرصے تک بلند رہیں، جس سے کینیڈا کی معیشت اور حکومتی آمدنی کو اضافی سہارا ملا۔
حکومت نے تیل سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کا ایک حصہ شہریوں کو پٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا۔ وفاقی فیول ایکسائز ٹیکس میں عارضی وقفہ کیا گیا تھا جسے اب 2027 تک بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
100 ارب ڈالر کے نئے اخراجات
زیادہ آمدنی کے باوجود حکومت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر نئے اخراجات کا بھی اعلان کیا ہے۔بارٹلیٹ کے اندازے کے مطابق موسم بہار کے معاشی اپ ڈیٹ کے بعد وفاقی حکومت نے اگلے 10 برسوں کے لیے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات کا اعلان کیا ہے۔
اس میں البرٹا سے برٹش کولمبیا کے ساحل تک مجوزہ آئل پائپ لائن کی مالی معاونت کے لیے ممکنہ سرکاری رقم بھی شامل ہے۔
ان کے مطابق اضافی آمدنی اور نئے اخراجات ایک دوسرے کے اثرات کو بڑی حد تک متوازن کرسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں وفاقی خسارے کا مجموعی راستہ موسم بہار کے اندازوں کے قریب رہ سکتا ہے۔
پیداواری سرمایہ کاری پر ٹیکس رعایت
حکومت کی نئی ’’پروڈکٹیوٹی میگا ڈڈکشن‘‘ بھی وفاقی مالیات پر اثر ڈالے گی۔یہ ٹیکس رعایت کاروباری اداروں کو نئی سرمایہ کاری، مشینری اور دیگر پیداواری اثاثوں پر اخراجات بڑھانے کی ترغیب دینے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔اس اقدام سے اگلے پانچ سال کے دوران تقریباً 36 ارب ڈالر کی لاگت متوقع ہے۔
تاہم بارٹلیٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت اسے سرمایہ کاری سے متعلق اقدام قرار دیتی ہے، لیکن سرکاری حساب کتاب میں اسے آپریٹنگ اخراجات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹورنٹو میں 5,600 نئے کرائے کے گھر، کینیڈین حکومت کا 2.7 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان
سرکاری تعریفوں پر بحث
بعض مالیاتی ماہرین اور پارلیمانی بجٹ افسر نے حکومت کی جانب سے کیپٹل اور آپریٹنگ اخراجات کی وسیع تعریفوں پر سوال اٹھائے ہیں۔
بارٹلیٹ کے مطابق حقیقی سرمایہ کاری وہ اثاثہ ہوتی ہے جو حکومت کی بیلنس شیٹ پر ظاہر ہو، جبکہ نئی ٹیکس رعایت اس نوعیت کے اثاثے کی شکل میں سامنے نہیں آتی۔دوسری جانب وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آپریٹنگ اخراجات کو کنٹرول کرنا وفاقی مالیات کے لیے ایک مؤثر حفاظتی اصول ہے۔
قرض اور جی ڈی پی
یونیورسٹی آف اوٹاوا کے انسٹی ٹیوٹ فار فسکل اسٹڈیز اینڈ ڈیموکریسی کے ایگزیکٹو نائب صدر ساحر خان کے مطابق حکومت کی جانب سے کیپٹل اور آپریٹنگ اخراجات کی تعریفیں لازماً غلط نہیں، اگرچہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہ کچھ وسیع ہوسکتی ہیں۔ان کے مطابق حکومت کی مالی پوزیشن میں بہتری کا بڑا سبب زیادہ ٹیکس آمدنی ہے۔
خان کا کہنا ہے کہ کارنی حکومت کی سرمایہ کاری پر توجہ سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت سے مختلف ہے، جس نے پالیسی اہداف کے حصول کے لیے پروگرام اخراجات اور براہ راست منتقلیوں پر زیادہ توجہ دی تھی۔
امریکی تجارت بڑا خطرہ
معاشی ماہرین کے مطابق کینیڈا کی معیشت کے لیے سب سے بڑی غیر یقینی صورتحال امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں۔بارٹلیٹ کے مطابق حکومت کی نئی سرمایہ کاری مراعات کاروباری سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں بہتری لاسکتی ہیں، لیکن ٹیرف اور تجارتی غیر یقینی صورتحال معاشی ترقی پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ان کے مطابق حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی کے اثرات وقت کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں، تاہم فی الحال کینیڈین معیشت کو متعدد معاشی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
یوں کارنی حکومت ایک طرف بہتر ٹیکس آمدنی اور بجٹ توازن کی جانب پیش رفت کو نمایاں کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف بڑھتے سرکاری اخراجات، نئی ٹیکس مراعات، قرض اور امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی اس کی مالی حکمت عملی کے اہم چیلنجز برقرار ہیں۔
