اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو نئی سطح پر لے جانے کی کوششوں کے دوران وزیراعظم مارک کارنی نے یورپ کے معروف تعلیمی و تبادلہ پروگرام Erasmus+ میں کینیڈا کی شمولیت میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔ کارنی نے کہا ہے کہ اس پروگرام میں کینیڈا کی شرکت سے دونوں خطوں کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے تعلیمی اداروں، معاشروں اور ثقافتوں کو سمجھنے کے مزید مواقع ملیں گے۔
یورپی پارلیمنٹ میں کارنی کا خطاب
مارک کارنی نے فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان مستقبل کی شراکت داری پر تفصیلی بات کی۔ انہوں نے واضح طور پر Erasmus+ میں کینیڈا کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کیا۔
کارنی کے مطابق کینیڈا کی Erasmus+ میں شمولیت سے دونوں خطوں کے طلبہ کو دنیا کی معروف جامعات میں تعلیم حاصل کرنے، اپنے تجربات وسیع کرنے اور ایسے دیرپا تعلقات قائم کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں جو مستقبل میں کینیڈا اور یورپ کے درمیان اتحاد کو مضبوط کریں گے۔
طلبہ کے لیے نئے مواقع
Erasmus+ یورپی یونین کا ایک اہم تعلیمی اور تربیتی پروگرام ہے، جس کے ذریعے طلبہ اور نوجوانوں کو مختلف یورپی ممالک میں تعلیم اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ پروگرام صرف یونیورسٹی طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ اس میں پیشہ ورانہ تربیت، کام کا تجربہ، اپرنٹس شپ، کھیل اور دیگر شعبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
کارنی کی جانب سے کینیڈا کو اس پروگرام کے دائرے میں لانے کی خواہش کو دونوں خطوں کے درمیان عوامی اور تعلیمی روابط بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی نئی پیشکش
کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ شراکت داری کا معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے کینیڈا کو یورپی یونین کا ممکنہ ’’ایسوسی ایٹ ممبر‘‘ بنانے کی راہ کھولنے کا عندیہ دیا۔
تاہم اس ممکنہ انتظام کی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ کینیڈا مکمل طور پر یورپی یونین کا رکن بننے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ دونوں فریق ایک ایسا نیا فریم ورک تلاش کر رہے ہیں جس کے ذریعے کینیڈا کو یورپی یونین کے بعض پروگراموں اور مواقع میں زیادہ گہری شرکت مل سکے۔
برطانیہ کا تجربہ مثال بن سکتا ہے
Erasmus+ میں کینیڈا کی ممکنہ شمولیت کے لیے برطانیہ کا حالیہ معاہدہ ایک مثال بن سکتا ہے۔ برطانیہ یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، تاہم اپریل میں اس نے Erasmus+ میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے عارضی معاہدہ کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت برطانیہ سے 2027 میں پروگرام کے لیے تقریباً 570 ملین پاؤنڈ، یعنی ایک ارب کینیڈین ڈالر سے زیادہ، کی مالی شراکت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :یورپی یونین کا بڑا منصوبہ، کینیڈا کو پہلا ایسوسی ایٹ ممبر بنانے کی تجویز
کینیڈا کے لیے بھی ممکنہ معاہدے میں مالی تعاون، طلبہ کی تعداد، پروگرام کے دائرہ کار اور شرکت کی شرائط جیسے معاملات پر مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
پروگرام کی تاریخ
Erasmus کا آغاز 1987 میں ہوا تھا۔ ابتدا میں اس کا بنیادی مقصد یورپی یونیورسٹیوں کے درمیان طلبہ کے تبادلے کو فروغ دینا تھا، تاہم بعد میں اس کا دائرہ وسیع کردیا گیا۔
2014 میں پروگرام کو Erasmus+ کا نام دیا گیا اور اس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت، نوجوانوں، کھیل اور دیگر شعبوں کو بھی شامل کیا گیا۔
پروگرام کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق آغاز سے اب تک 16 ملین سے زیادہ افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
اربوں یورو کا بجٹ
Erasmus+ کے موجودہ 2021 سے 2027 کے دورانیے کے لیے مجموعی بجٹ تقریباً 28.5 ارب یورو ہے، جو تقریباً 45 ارب کینیڈین ڈالر بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بجٹ کا تقریباً 60 فیصد حصہ تعلیمی اور دیگر قسم کی نقل و حرکت، یعنی طلبہ اور شرکا کے مختلف ممالک میں جانے کے مواقع پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ باقی رقم تعاون کے منصوبوں اور پالیسی سازی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مختص ہے۔
کینیڈا کی تحقیق میں بھی دلچسپی
مارک کارنی نے صرف Erasmus+ تک محدود دلچسپی کا اظہار نہیں کیا بلکہ یورپ کے تحقیق اور جدت کے بڑے پروگرام Horizon کے اگلے مرحلے میں بھی کینیڈا کی شرکت کی خواہش ظاہر کی۔
کینیڈا پہلے ہی موجودہ Horizon فریم ورک میں شریک ہے، جو 2021 سے 2027 تک جاری ہے اور اس کے لیے 140 ارب کینیڈین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ مختص ہے۔
نوجوانوں سے تعلق مضبوط بنانے پر زور
یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے بھی کینیڈا اور یورپ کے نوجوانوں کے درمیان تعلیمی اور عملی روابط بڑھانے کے امکانات پر بات کی۔
انہوں نے Erasmus+ کو یورپی نوجوانوں کے لیے یورپی یونین سے وابستہ نمایاں مواقع میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ تعاون سے ایسے مواقع مزید وسیع ہوسکتے ہیں۔
یوں کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ نئی شراکت داری میں تجارت اور سفارت کاری کے ساتھ تعلیم، تحقیق، نوجوانوں کے تبادلے اور انسانی روابط بھی اہم ستون بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم Erasmus+ میں کینیڈا کی باضابطہ شمولیت کے لیے ابھی شرائط اور عملی طریقہ کار طے ہونا باقی ہیں۔
