کینیڈین نیٹو انٹرن پر جاسوسی کے الزامات، پارلیمانی کمیٹی نے سکیورٹی اسکریننگ کی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی پارلیمانی کمیٹی نے ملک کے سکیورٹی اسکریننگ نظام کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ بیلجیئم میں گرفتار ہونے والی کینیڈین شہری اور نیٹو کی سابق انٹرن پر جاسوسی اور مجرمانہ تنظیم کا حصہ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے نے کینیڈا میں حساس سرکاری اور دفاعی عہدوں کے لیے سکیورٹی کلیئرنس کے طریقہ کار پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پارلیمانی تحقیقات کا فیصلہ

ہاؤس آف کامنز کی پبلک سیفٹی اینڈ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے پیر کو اجلاس میں تمام جماعتوں کی حمایت سے معاملے کی تحقیقات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس ستمبر میں دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے کم از کم تین اجلاس ترجیحی بنیادوں پر منعقد کیے جائیں گے۔

تحقیقات کے دوران پبلک سیفٹی کے وزیر گیری اننداسنگاری کو بطور گواہ طلب کیا جائے گا، جب کہ کمیٹی ضرورت کے مطابق دیگر متعلقہ افراد اور حکام کو بھی طلب کرسکے گی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کمیٹی اپنی سفارشات اور نتائج ایوان میں پیش کرے گی۔

بیلجیئم میں گرفتاری

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بیلجیئم کے حکام نے نیٹو کے سپریم ہیڈکوارٹر الائیڈ پاورز یورپ میں انٹرن شپ کرنے والی کینیڈین خاتون کو گرفتار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گورڈی ہو انٹرنیشنل برج کا افتتاح نہیں ہونے دیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی

بیلجیئم کے قوانین کے تحت زیرِ تفتیش ملزمان کی شناخت مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے عام طور پر ظاہر نہیں کی جاتی، تاہم ایک تحقیق کے مطابق گرفتار خاتون کی قانونی شناخت بائی وی ژانگ ہے۔

وہ پیشہ ورانہ طور پر کلیئر ژانگ کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں جبکہ ان کے فیس بک پروفائل پر کیٹینا ژانگ کا نام استعمال کیا گیا۔

بیلجیئم کے حکام کو شبہ ہے کہ ژانگ نے کسی تیسرے ملک کے لیے جاسوسی کی اور ایک مجرمانہ تنظیم کا حصہ بھی رہیں۔ ان الزامات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ بیلجیئم کی عدالت کرے گی۔

سکیورٹی کلیئرنس پر سوالات

اس کیس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ نیٹو کے حساس فوجی ہیڈکوارٹر میں انٹرن شپ کے لیے ژانگ کو جامع سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنا پڑی تھی۔

کینیڈین شہری ہونے کی وجہ سے ان کے پس منظر کی سکیورٹی جانچ میں کینیڈین حکام، خصوصاً رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس اور کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس کا کردار ہونے کی توقع تھی۔

اب پارلیمانی کمیٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ اگر ان کے خلاف جاسوسی کے الزامات سامنے آئے ہیں تو حساس نوعیت کی انٹرن شپ حاصل کرنے سے قبل ان کی سکیورٹی جانچ کس انداز میں کی گئی تھی اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کس سطح پر ہوا۔

اپوزیشن کا مطالبہ

کنزرویٹو پارٹی کے پبلک سیفٹی کے ترجمان فرینک کیپوٹو نے کمیٹی کے چیئرمین کو خط لکھ کر معاملے کی پارلیمانی نگرانی کا مطالبہ کیا تھا۔

کیپوٹو کے مطابق الزامات انتہائی سنگین ہیں اور یہ فوری طور پر جانچنے کی ضرورت ہے کہ جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک شخص کو کینیڈا کے اہم ترین فوجی اتحاد کے حساس ادارے میں انٹرن شپ کیسے حاصل ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں سکیورٹی اسکریننگ، معلومات کے تبادلے اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کہیں نظام میں کوئی اہم خلا تو موجود نہیں تھا۔

حکومت نے جواب دینے کا وعدہ کردیا

کینیڈا کے پبلک سیفٹی وزیر گیری اننداسنگاری نے گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ حکومت اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔وزیر کے مطابق ژانگ کے خلاف عائد الزامات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور حکومت اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرے گی۔

وزیراعظم مارک کارنی نے بھی کہا کہ کینیڈین حکام اس تحقیقات میں ابتدا ہی سے شامل رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ یہ ایک فعال قانونی تحقیقات ہے، اس لیے وہ اس کے بارے میں زیادہ تفصیلات بیان نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا اور امریکا میں تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ،ٹیرف سے بچنے کی کوشش تیز

کینیڈین اداروں میں سابقہ ملازمتیں

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ژانگ نے ماضی میں کینیڈا کے مختلف سرکاری اداروں میں بھی کام کیا۔ان کے آن لائن ریزیومے کے مطابق وہ شماریات کینیڈا میں ماہرِ اقتصادیات کے طور پر کام کرچکی ہیں جبکہ کینیڈین اسپیس ایجنسی میں بھی سسٹمز انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔

اس کے علاوہ ان کے پیشہ ورانہ ریکارڈ میں عالمی تجارتی تنظیم اور یورپی خلائی ایجنسی میں کام کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ژانگ نے یونیورسٹی آف اوٹاوا سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس میں مصنوعی ذہانت میں خصوصی توجہ شامل تھی۔

ماضی میں بھی تنازع

ژانگ کے ماضی سے متعلق ایک اور اہم معاملہ بھی تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے۔2023 میں کینیڈا کے پبلک سروس کمیشن نے قرار دیا تھا کہ ژانگ نے کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی میں ملازمت کے لیے دو مختلف ناموں اور ای میل پتے استعمال کرکے درخواستیں جمع کرانے کے معاملے میں دھوکا دہی کی تھی۔

انہوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالتی نظرثانی کی درخواست دائر کی، تاہم 2024 میں وفاقی عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔

یہ معاملہ اب اس لیے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ حساس سرکاری اور دفاعی ذمہ داریوں کے لیے سکیورٹی کلیئرنس دیتے وقت امیدوار کے سابقہ ریکارڈ اور مختلف اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو کس حد تک جانچا جاتا ہے۔

نیٹو انٹرن شپ اور حساس معلومات

ژانگ نے بیلجیئم کے شہر مونس میں قائم نیٹو کے سپریم ہیڈکوارٹر الائیڈ پاورز یورپ میں انٹرن شپ کی تھی۔ یہ ادارہ نیٹو کے فوجی ڈھانچے میں انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔

بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق مشتبہ خاتون کی گرفتاری سے ایک روز قبل ان کی رہائش گاہ اور نیٹو کے ہیڈکوارٹر میں ان کے کام کی جگہ پر تلاشی لی گئی تھی۔بعد ازاں انہیں جاسوسی اور مجرمانہ تنظیم میں شرکت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

سکیورٹی نظام کا امتحان

یہ کیس اب محض ایک فرد کے خلاف جاسوسی کے الزامات تک محدود نہیں رہا بلکہ کینیڈا کے سکیورٹی کلیئرنس نظام کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔

پارلیمانی تحقیقات میں یہ دیکھا جائے گا کہ کینیڈا کے حساس اداروں میں کام کرنے والے افراد کے پس منظر کی جانچ کتنی مؤثر ہے، مختلف حکومتی اداروں کے درمیان معلومات کس طرح شیئر کی جاتی ہیں اور سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد بھی اہلکاروں کی نگرانی کس حد تک جاری رہتی ہے۔

ستمبر میں پارلیمنٹ کی واپسی کے بعد ہونے والی کمیٹی کی کارروائی سے ممکنہ طور پر یہ واضح ہوگا کہ موجودہ نظام میں کوئی خامی موجود تھی یا نہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کن اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ہمیں فالو کریں