خلا میں چین کا بڑا کارنامہ، 14 اقسام کے پودے کامیابی سے اگا لیے  

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چین نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مدار میں پودوں کی 14 مختلف اقسام کامیابی سے اگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں خلائی اسٹیشنز پر بڑے پیمانے پر فصلوں کی پیداوار اور طویل مدتی انسانی قیام کے لیے اہم بنیاد ثابت ہوسکتی ہے۔

تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر ’خلائی باغ‘

چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر کیے جانے والے تجربات کے دوران مختلف پودوں اور فصلوں کو خلائی ماحول میں اگایا گیا۔ ان تجربات کی تصاویر اور ویڈیوز شمالی چین کی تیانجن میونسپلٹی میں منعقد ہونے والی ایرو اسپیس میڈیکل انجینئرنگ کانفرنس میں پیش کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق شینزہو 21 مشن کے عملے سے تعلق رکھنے والے خلاباز ژانگ ہونگ ژانگ نے خلائی اسٹیشن پر قائم ایک تجرباتی ’’خلائی باغ‘‘ کی جھلکیاں بھی شیئر کیں، جہاں گاجر، لیٹوس اور دیگر فصلیں نشوونما پاتی دکھائی دیں۔

خلا میں فصلیں اگانے کا مقصد کیا ہے؟

چینی ماہرین کے مطابق خلا میں پودے اگانے کا مقصد صرف تازہ سبزیاں پیدا کرنا نہیں بلکہ مستقبل کے طویل مدتی خلائی مشنز کے لیے ایک ایسا نظام تیار کرنا ہے جو خلابازوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکے۔

طویل عرصے تک خلا میں رہنے والے انسانوں کے لیے خوراک، پانی اور آکسیجن کی مسلسل فراہمی ایک بنیادی چیلنج ہے۔ اگر خلائی اسٹیشن یا کسی دوسرے سیاروی اڈے پر خوراک کا کچھ حصہ خود پیدا کیا جاسکے تو زمین سے سامان پہنچانے پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔

’زمین پر انحصار کم کرنا ہوگا‘

چین کے آسٹروناٹ سینٹر کے ماہر کیانگ کے مطابق خلا میں طویل مدتی قیام کے لیے زمین پر انحصار کم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کنٹرولڈ ماحولیاتی زندگی کے تجربات کا مقصد خلا میں ایسا ماحولیاتی نظام تیار کرنا ہے جو پانی، ہوا اور خوراک کو دوبارہ پیدا کرنے میں مدد دے سکے۔ طویل مدت میں اس تحقیق کا ہدف خلائی ماحول میں زیادہ خود کفیل نظام تشکیل دینا ہے۔

پودے مستقبل کے خلائی مشنز میں کیوں اہم ہیں؟

پودے مستقبل کے طویل خلائی مشنز میں کئی حوالوں سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ خوراک فراہم کرنے کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن کی پیداوار میں بھی مدد دیتے ہیں۔

اسی وجہ سے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف فصلیں مصنوعی روشنی، محدود وسائل اور خلائی ماحول میں کس طرح نشوونما پاتی ہیں۔ ان تجربات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں مزید پیچیدہ حیاتیاتی نظام تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اہم پیش رفت

خلا میں فصلوں کی کامیاب کاشت کو مستقبل میں چاند یا مریخ پر طویل مدتی انسانی قیام کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ زمین سے انتہائی دور مقامات پر ہر خوراک اور ضروری وسیلہ بھیجنا مشکل اور مہنگا ہوسکتا ہے، اس لیے مقامی سطح پر خوراک پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی مستقبل کے مشنز میں اہم بن سکتی ہے۔

اگر ایسے نظام مزید ترقی کرتے ہیں تو مستقبل کے خلائی اڈوں میں محدود وسائل کو ری سائیکل کرتے ہوئے انسانوں کے لیے زیادہ خود کفیل ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

چین کی خلائی تحقیق کا نیا مرحلہ

چین کے طویل مدتی عملے کی خلائی پروازوں کا موجودہ دور اکتوبر 2021 میں شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد تیانگونگ خلائی اسٹیشن مختلف سائنسی تجربات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

پودوں کی کاشت سے متعلق تحقیق اسی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ انسان اور دیگر حیاتیاتی نظام طویل عرصے تک زمین سے باہر کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں۔

14 اقسام کے پودوں کی کامیاب کاشت چین کے لیے ایک اہم تجرباتی پیش رفت ہے، تاہم بڑے پیمانے پر خلائی زراعت اور مکمل خود کفیل ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے مزید تحقیق اور تجربات درکار ہوں گے۔

ہمیں فالو کریں