اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سائنس دانوں نے انسانی دماغ کی ابتدائی تشکیل سے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے جس کے مطابق انسانی دماغ ممکنہ طور پر ایک ہی بنیادی خلیاتی نظام سے تشکیل پانے والا عضو نہیں بلکہ دو الگ خلیاتی نظاموں کے امتزاج سے وجود میں آتا ہے۔
یہ اہم تحقیق اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کی، جنہوں نے جنین کی ابتدائی نشوونما کے دوران دماغ کے مختلف حصوں کی تشکیل کے عمل کا جائزہ لیا۔
دماغ کے دو حصے، دو مختلف خلیاتی نظام
محققین اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ دماغ کے پچھلے حصے، بالخصوص برین اسٹیم، کے اسٹیم سیلز کو لیبارٹری میں پروان چڑھانا نسبتاً مشکل کیوں ہوتا ہے، جبکہ دماغ کے اگلے حصے سے تعلق رکھنے والے خلیات نسبتاً آسانی سے نشوونما پاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے جنین کی نشوونما کے انتہائی ابتدائی مرحلے، جسے گسٹریولیشن کہا جاتا ہے، کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دماغ کے اگلے اور پچھلے حصے مختلف خلیاتی گروہوں سے تشکیل پاتے ہیں۔
یہ دریافت روایتی تصور سے مختلف ہے، جس کے مطابق پورا دماغ ایک ہی بنیادی یا ’’ماسٹر‘‘ خلیاتی ماخذ سے تشکیل پاتا ہے۔
برین اسٹیم جسم کے بنیادی افعال سنبھالتا ہے
دماغ کا پچھلا حصہ، جس میں برین اسٹیم شامل ہے، انسانی جسم کے کئی انتہائی بنیادی اور خودکار افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان میں دل کی دھڑکن، سانس لینے اور نیند جیسے اہم جسمانی عمل شامل ہیں۔
اس کے مقابلے میں دماغ کے درمیانی اور اگلے حصے زیادہ پیچیدہ ذہنی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن میں سوچ، ادراک اور دیگر اعلیٰ دماغی افعال شامل ہیں۔
محققین کے مطابق دماغ کے ان حصوں کی مختلف خلیاتی بنیادیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ دماغ کے مختلف حصے نشوونما کے دوران کس طرح الگ الگ خصوصیات اختیار کرتے ہیں۔
حیران کن مماثلت ایکورن وارمز میں بھی ملی
تحقیق کی ایک دلچسپ جہت اس وقت سامنے آئی جب سائنس دانوں نے اسی نوعیت کے دو الگ خلیاتی نظام ایکورن وارمز میں بھی دیکھے۔
ایکورن وارمز سمندری جاندار ہیں اور انسانوں کے ساتھ ایک قدیم مشترک ارتقائی تعلق رکھتے ہیں۔ محققین کے مطابق ان جانداروں میں بھی ملتی جلتی خلیاتی تنظیم کا مشاہدہ اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ دماغ کی مختلف حصوں پر مبنی یہ تنظیم ارتقائی اعتبار سے بہت قدیم ہو سکتی ہے۔
دماغ کی ارتقائی تاریخ سمجھنے میں مدد
محققین کے مطابق یہ نتائج صرف انسانی دماغ کی تشکیل کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کی ارتقائی تاریخ پر بھی نئی روشنی ڈال سکتے ہیں۔
اگر دماغ کے اگلے اور پچھلے حصے واقعی مختلف خلیاتی نظاموں سے تشکیل پاتے ہیں تو اس سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ پیچیدہ دماغی ساخت وقت کے ساتھ کس طرح ارتقا پذیر ہوئی۔
یہ نقطہ نظر مستقبل میں دماغ کی نشوونما سے متعلق بیماریوں اور خلیاتی خرابیوں کے مطالعے کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتا ہے، اگر مزید تحقیق ان نتائج کی تصدیق کرتی ہے۔
اسٹیم سیل تحقیق کے لیے بھی اہم پیش رفت
اس دریافت کا ایک ممکنہ عملی پہلو اسٹیم سیل تحقیق سے متعلق ہے۔ چونکہ محققین پہلے ہی مشاہدہ کر چکے تھے کہ دماغ کے مختلف حصوں کے اسٹیم سیلز لیبارٹری میں مختلف انداز سے نشوونما پاتے ہیں، اس لیے ان کی مختلف خلیاتی ابتدا کو سمجھنا تجربہ گاہ میں دماغی بافتوں کی تیاری کے طریقوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مستقبل میں سائنس دان ان نتائج کی بنیاد پر دماغ کے مخصوص حصوں کے خلیات تیار کرنے اور ان کی نشوونما کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
نئی تحقیق نے پرانے تصور کو چیلنج کردیا
انسانی دماغ کو ایک واحد خلیاتی نظام سے تشکیل پانے والا عضو سمجھنے کے بجائے دو الگ خلیاتی نظاموں کے تناظر میں دیکھنے کا یہ تصور دماغی نشوونما کے مطالعے میں ایک نئی سمت فراہم کرتا ہے۔
تاہم اس دریافت کے ارتقائی اور طبی اثرات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔ سائنس دانوں کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ یہ مختلف خلیاتی نظام دماغ کی تشکیل کے دوران کس طرح باہم مربوط ہوتے ہیں اور بالغ دماغ کی ساخت و کارکردگی پر ان کے اثرات کس حد تک برقرار رہتے ہیں۔
