بیجنگ (ویب نیوز): دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دوران چین میں گاڑیوں کی حفاظت سے متعلق ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے۔ چینی حکام نے ٹیسلا سمیت متعدد گاڑیوں کی بڑی تعداد میں واپسی کا عمل شروع کیا ہے، جس کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کے حفاظتی نظام اور ہنگامی صورتحال میں مسافروں کے تحفظ پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ریکال کا بنیادی تعلق ایسے حفاظتی خدشے سے ہے جس میں بجلی کا نظام ناکام ہونے کی صورت میں گاڑی کے دروازے کھولنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں حادثے یا ایمرجنسی کے دوران گاڑی میں موجود افراد کے لیے باہر نکلنا مشکل ہوسکتا ہے۔ (Reuters)
الیکٹرک گاڑیوں کی نئی نسل کے لیے بڑا حفاظتی سوال
الیکٹرک گاڑیوں میں روایتی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ جدید الیکٹرانک اور سافٹ ویئر سسٹمز استعمال ہوتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی گاڑی کو زیادہ خودکار اور جدید بنانے میں مدد دیتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اگر گاڑی کی بجلی مکمل طور پر بند ہوجائے تو مسافروں کے لیے بنیادی حفاظتی نظام کس حد تک مؤثر رہتے ہیں۔
چین میں سامنے آنے والا تازہ معاملہ اسی مسئلے کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔
ٹیسلا سمیت مختلف گاڑیاں متاثر
ریکال کا معاملہ صرف ایک مخصوص گاڑی تک محدود نہیں بتایا جارہا۔ چین میں الیکٹرک اور جدید گاڑیوں کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے اور متعدد کمپنیوں کو اپنے گاڑیوں کے حفاظتی نظام کا جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔
ٹیسلا سمیت جدید گاڑیوں کے حوالے سے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دنیا بھر میں صارفین الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی ٹرانسپورٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹوں میں شامل ہے، جہاں مقامی اور عالمی کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
چین نے گاڑیوں کی حفاظت پر سخت توجہ کیوں دی؟
تازہ ریکال کو چین میں آٹو سیفٹی کے بڑھتے ہوئے معیار کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
چینی حکام جدید گاڑیوں میں سافٹ ویئر، بیٹری، خودکار ڈرائیونگ اور ہنگامی حفاظتی نظام سے متعلق قواعد کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جیسے جیسے گاڑیاں زیادہ جدید اور کمپیوٹرائزڈ ہورہی ہیں، ویسے ویسے گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے لیے یہ ضروری ہوتا جارہا ہے کہ وہ صرف ڈرائیونگ کی کارکردگی نہیں بلکہ ایمرجنسی میں گاڑی سے محفوظ انخلا کو بھی اولین ترجیح دیں۔
بجلی بند ہونے کی صورت میں کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟
عام حالات میں گاڑی کے دروازے الیکٹرانک نظام کے ذریعے آسانی سے کھل جاتے ہیں، لیکن بجلی کے نظام میں خرابی پیدا ہونے کی صورت میں صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔
اگر کسی گاڑی میں ہنگامی طور پر دروازہ کھولنے کا متبادل طریقہ واضح، آسان اور مؤثر نہ ہو تو حادثے کے بعد مسافروں کے لیے گاڑی سے نکلنا مشکل ہوسکتا ہے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر اس وقت زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے جب گاڑی کسی حادثے کے بعد آگ، پانی یا کسی دوسری ہنگامی صورتحال میں پھنس جائے۔
دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے اہم سبق
چین میں ہونے والی یہ پیش رفت صرف چینی مارکیٹ تک محدود نہیں رہ سکتی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
امریکا، کینیڈا، یورپ اور ایشیا میں حکومتیں بھی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئے حفاظتی قوانین اور معیار متعارف کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید گاڑیوں کی ٹیکنالوجی جتنی تیزی سے ترقی کرے گی، اتنی ہی اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ہنگامی حالات میں بنیادی حفاظتی سہولتیں مکمل طور پر قابل اعتماد رہیں۔
صارفین کے لیے کیا اہم ہے؟
گاڑیوں کی ریکال کا مقصد عام طور پر کسی ممکنہ خرابی کو بڑے حادثے میں تبدیل ہونے سے پہلے درست کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے متاثرہ گاڑیوں کے مالکان کو کمپنی کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
اگر کسی گاڑی کے حوالے سے حفاظتی ریکال جاری ہو تو مالک کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اس کی گاڑی متاثرہ ماڈلز میں شامل ہے یا نہیں اور کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ مرمت یا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ بروقت مکمل کرانی چاہیے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے اہم موڑ
چین میں سامنے آنے والا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
بیٹری ٹیکنالوجی، خودکار ڈرائیونگ، جدید سینسرز اور مصنوعی ذہانت نے گاڑیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ جدید بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ حفاظتی معیار بھی مزید سخت کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
تازہ ریکال ایک بار پھر یہ سوال سامنے لاتی ہے کہ مستقبل کی گاڑیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بنیادی انسانی حفاظت کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔
چین میں جاری کارروائی پر دنیا بھر کی آٹو انڈسٹری کی نظریں ہیں، کیونکہ اس کے اثرات مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کے حفاظتی معیار اور ڈیزائن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
