اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ ایسے راستے پر نہ جائے جہاں سے واپسی مشکل ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج یا دھاوے کی کوشش کرنے والوں کو اس مرتبہ سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد کی طرف مارچ یا دارالحکومت کو بند کرنے کی کوشش سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا کہ احتجاجی کارکن اسلام آباد پہنچیں اور اس کے نتیجے میں ملک کئی روز تک مختلف نوعیت کی مشکلات کا شکار رہے۔
پی ٹی آئی کو واپسی کا مشورہ
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے بیشتر لوگ بھی لانگ مارچ کے حق میں نہیں ہیں، اس لیے پارٹی قیادت کو صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ابھی وقت ہے اور پی ٹی آئی کو ایسے راستے کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے جہاں سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے۔ ان کے مطابق احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے مطالبات سامنے رکھے جاسکتے ہیں، تاہم دارالحکومت کی جانب مارچ کرکے کشیدگی پیدا کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
سخت کارروائی کا عندیہ
محسن نقوی نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف مارچ کرتی ہے تو حکومت کی جانب سے اس بار انتظامات میں کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں احتجاج کے باعث اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے، لیکن اب حکومت اس صورتحال کو دوبارہ پیدا نہیں ہونے دے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کارکنوں اور پارٹی قیادت کو کسی نقصان سے بچائے اور احتجاج کے معاملے پر محتاط فیصلہ کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
محسن نقوی نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی دھرنے یا احتجاج کے لیے اسلام آباد آتی ہے تو حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے حوالے سے قانونی اور عدالتی احکامات موجود ہیں، اس لیے حکومت اپنی ذمہ داری کے مطابق کارروائی کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس احتجاج کا بنیادی مطالبہ کیا ہے اور وہ حکومت سے کس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہے۔
عمران خان کے چیک اپ کا معاملہ
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کا مطالبہ عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق ہے تو ان کا چیک اپ گزشتہ رات بھی ہوا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کے لیے قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے مطالبے یا دباؤ کی بنیاد پر طبی عمل نہیں ہوگا، بلکہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تمام معاملات قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق دیکھے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :عمران خان لانگ مارچ میں دوبارہ شامل ہونے کیلئے آج راولپنڈی پہنچیں گے
سیاسی بیانات پر ردعمل
وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے بعض سخت بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف بلند آواز دعووں یا دھمکی آمیز بیانات سے حکومتی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق اپنا لائحہ عمل تیار کرلیا ہے اور اگر کوئی گروپ اسلام آباد کی طرف آتا ہے تو انتظامیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
ہنگو کے شہداء کا ذکر
پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی شہادت کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہنگو کے شہداء کی نماز جنازہ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا یا صوبائی حکومت کے کسی وزیر کی شرکت نہ کرنا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ ہوسکتا ہے، لیکن شہداء کے جنازے میں شرکت ایک الگ معاملہ ہے۔
محسن نقوی نے سوال اٹھایا کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ قومی سطح کے سانحات اور شہداء کے احترام کے معاملات بھی سیاسی اختلاف کی زد میں آجائیں۔
پیٹرول کی قیمتوں پر وضاحت
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی مارکیٹ کی صورتحال سے منسلک ہوتا ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور دیگر متعلقہ عوامل پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
نئے صوبوں کی حمایت
محسن نقوی نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے سوال پر بھی گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں اور اگر اللہ نے چاہا تو ملک میں نئے صوبے ضرور بنیں گے۔
یہ معاملہ پاکستان میں ایک عرصے سے سیاسی اور انتظامی بحث کا حصہ رہا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حامیوں کی جانب سے انتظامی سہولت اور حکمرانی بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے، جبکہ اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔
مارچ سے پہلے کشیدگی
محسن نقوی کے تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ دارالحکومت میں امن و امان خراب کرنے یا معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دونوں جانب سے سخت بیانات کے باعث آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید اہم ہوگئی ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اپنے اعلان کردہ احتجاج کے لیے تیاری کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت نے اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی قسم کا رابطہ یا مذاکرات ہوتے ہیں یا نہیں، اور احتجاج کی صورت میں انتظامیہ اور پارٹی قیادت اپنے اپنے اعلانات پر کس طرح عمل کرتی ہے۔
