حکومت اور جماعت اسلامی میں بڑا بریک تھرو؟ عوامی ریلیف پیکیج پر اہم پیش رفت

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو ایک بڑے عوامی ریلیف پیکیج کی پیشکش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے کے لیے مزید مشاورت اور جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری ضروری ہوگی۔

ریلیف پیکیج کی پیشکش

حکومتی وفد کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت کو مبینہ طور پر بتایا گیا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک پیکیج پر کام کر رہی ہے۔

مذاکرات سے باخبر ذرائع کے مطابق اس پیکیج کی تفصیلات پر مزید غور کیا جائے گا اور جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی اس کا جائزہ لے گی۔ اگر کمیٹی نے حکومتی تجاویز کو قابل قبول قرار دیا تو مذاکرات کسی حتمی پیش رفت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

وزیراعظم بھی آن بورڈ

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم شہباز شریف کو عوامی ریلیف کے مجوزہ پیکیج کے معاملے پر اعتماد میں لیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت سے ان کی ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس میں پیکیج کی تفصیلات، پیٹرولیم لیوی اور دیگر مطالبات پر براہ راست بات چیت ہوسکتی ہے۔

لیوی کا معاملہ اہم

جماعت اسلامی کے لیے مذاکرات میں سب سے اہم مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ صرف محدود یا عارضی ریلیف کافی نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو ختم کیا جانا چاہیے۔

پانچویں مذاکراتی دور کے بعد بھی جماعت اسلامی نے واضح کیا تھا کہ لیوی کے خاتمے تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔

لانگ مارچ میں وقفے کا امکان

ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کو یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں تو سپر لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا جاسکتا ہے۔

تاہم جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کو بنیادی مطالبہ قرار دیا گیا ہے۔ یعنی مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود احتجاجی تحریک مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ ریلیف پیکیج کی نوعیت اور لیوی کے معاملے پر ہونے والی پیش رفت سے منسلک رہے گا۔

حکومت کی مارچ مؤخر کرنے کی درخواست

اس سے قبل پانچویں مذاکراتی دور میں حکومت نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی سے اسلام آباد کی جانب مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔

حکومتی وفد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ حالات میں بڑے اجتماع اور مارچ سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ تاہم جماعت اسلامی نے لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

مذاکرات میں کون شریک تھا؟

مذاکرات کے پانچویں دور میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور پنجاب کے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شریک ہوئے۔

جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ دیگر سینئر رہنما بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔ فریقین کے درمیان پیٹرولیم لیوی، عوامی ریلیف اور احتجاجی لائحہ عمل سمیت مختلف معاملات پر گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان کو لانگ مارچ اور توڑ پھوڑ کے دو مقدمات میں بری کر دیا گیا

چھ نکاتی مؤقف

جماعت اسلامی اس سے قبل حکومت کے سامنے پیٹرولیم مصنوعات اور عوامی ریلیف سے متعلق چھ نکاتی مؤقف پیش کرچکی ہے۔

جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنا ہے جبکہ پارٹی کی جانب سے توانائی، ٹیکس اور معیشت سے متعلق دیگر تجاویز بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ حکومت نے ان تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کا عمل بھی شروع کیا تھا۔

ایک ماہ سے جاری احتجاج

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی سرگرمیاں کئی ہفتوں سے جاری ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی نے گورنر ہاؤس کے باہر طویل دھرنا بھی دیا، جسے بعد میں سپر لانگ مارچ کی تیاری کے لیے ختم کردیا گیا۔

جماعت اسلامی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج اور دھرنے کیے گئے، جبکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش بھی ساتھ ساتھ جاری رہی۔

کراچی سے مارچ شروع

جماعت اسلامی نے مذاکرات میں حتمی اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد کراچی سے اسلام آباد کی جانب سپر لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں قافلہ کراچی کینٹ اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے روانہ ہوا۔ مارچ میں سندھ سمیت دیگر علاقوں سے کارکنوں اور قافلوں کی شرکت کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملتان میں اہم مرحلہ

جماعت اسلامی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق کراچی سے روانگی کے بعد مارچ کا اگلا اہم مرحلہ ملتان ہوگا۔ اس کے بعد قافلے لاہور پہنچیں گے جہاں مزید کارکنوں کی شمولیت متوقع ہے۔

بعد ازاں لاہور سے قافلہ جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے کا پروگرام بتایا گیا ہے۔

حکومتی ارکان بھی لیوی پر متفق؟

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کے بعض ارکان بھی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے یا عوام کو مزید ریلیف دینے کے خواہاں ہیں۔

حکومتی ٹیم کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت میں شامل افراد بھی عوامی نمائندے ہیں اور اگر عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی قابل عمل فیصلہ ہوتا ہے تو وہ اس پر خوش ہوں گے۔

فیصلہ کن مرحلہ شروع

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات اب ایسے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں کسی بھی پیش رفت کا براہ راست اثر سپر لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل پر پڑ سکتا ہے۔

ایک طرف حکومت عوامی ریلیف پیکیج کے ذریعے احتجاجی صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف جماعت اسلامی نے واضح کر رکھا ہے کہ اس کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔

اب وزیراعظم کی جماعت اسلامی قیادت سے ممکنہ ملاقات، ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سے حکومتی پیکیج کا جائزہ اور پیٹرولیم لیوی پر کسی قابل عمل فارمولے کی تشکیل مذاکرات کے آئندہ مرحلے کے اہم نکات ہوں گے۔ اگر فریقین ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو سپر لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں