اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)شام میں ایک ایئربیس پر اسرائیلی حملے نے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے پیچیدہ صورتحال میں ایک نئی کشیدگی پیدا کردی ہے۔ اس بار معاملہ صرف اسرائیل اور شام تک محدود نہیں رہا بلکہ ترکیہ بھی براہ راست اس تنازع کے مرکز میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ترکیہ شام کے ایک فوجی اڈے پر اپنے فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا، جسے تل ابیب نے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ دوسری جانب انقرہ نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔
اس واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ شام اس وقت خطے کی مختلف طاقتوں کے مفادات کا میدان بنا ہوا ہے۔ اسرائیل، ترکیہ، ایران، امریکا اور دیگر علاقائی قوتیں شام کی سکیورٹی اور مستقبل کے سیاسی و فوجی ڈھانچے میں اپنے اپنے مفادات رکھتی ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ایک ملک کی فوجی موجودگی بھی دوسرے فریق کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیل کا سکیورٹی مؤقف
اسرائیل نے حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے ساتھ سکیورٹی معاملات میں موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق حلب کے قریب ایک ایئربیس پر ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی اس سمجھوتے کی روح کے خلاف جاتی تھی۔
اسرائیل کا بنیادی خدشہ یہ ہے کہ شام میں ترکیہ کی مستقل یا طویل مدتی فوجی موجودگی اس کی شمالی سمت میں ایک نئی سکیورٹی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ تل ابیب پہلے ہی شام میں ایرانی اثر و رسوخ اور مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ اب اگر ترکیہ بھی کسی اہم فوجی تنصیب پر موجودگی مضبوط کرتا ہے تو اسرائیل کے لیے شام کے اندر طاقت کا توازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
ترکیہ کے لیے اہم معاملہ
ترکیہ نے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرکے واضح کیا ہے کہ وہ شام کے کسی ایئربیس پر ایسی فوجی تعیناتی کی تیاری نہیں کررہا تھا جس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو۔
انقرہ کے لیے شام محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ براہ راست قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ شام میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر ترکیہ کی سرحدی سلامتی، مہاجرین، کرد عسکری گروہوں اور خطے میں اس کے سیاسی اثر و رسوخ پر پڑتا ہے۔ اسی لیے ترکیہ شام میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرتا آیا ہے۔
اگر اسرائیل ترکیہ کی کسی ممکنہ فوجی موجودگی کو اپنے خلاف خطرہ سمجھتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
امریکا کا مؤقف اہم کیوں؟
اس واقعے میں امریکا کا ردعمل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسرائیل امریکا کا اہم اتحادی ہے، تاہم اس حملے پر امریکی تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اقدامات کو ہر صورتحال میں غیر مشروط طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکا ایک طرف اسرائیل کی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے تو دوسری جانب خطے میں ایسی کارروائیوں سے بھی گریز چاہتا ہے جو بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہیں۔ ترکیہ بھی نیٹو کا رکن ہے، اس لیے واشنگٹن کے لیے اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک حساس سفارتی مسئلہ بن سکتی ہے۔
شام ایک بار پھر میدان جنگ؟
شام میں برسوں کی جنگ کے بعد اگر مختلف طاقتیں دوبارہ اپنے فوجی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں تو ملک ایک مرتبہ پھر علاقائی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بن سکتا ہے۔
اسرائیل اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی مخالف فوجی طاقت کو محدود رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ترکیہ شام میں اپنی سلامتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے مفادات جہاں ٹکراتے ہیں، وہاں شام کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
کشیدگی کہاں تک جاسکتی ہے؟
فی الحال سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعہ ایک محدود اسرائیلی فوجی کارروائی تک رہتا ہے یا اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی کا آغاز بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان فی الوقت انتہائی سنگین صورتحال پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ ترکیہ خطے کی ایک بڑی فوجی طاقت اور نیٹو کا رکن ہے جبکہ اسرائیل خطے کی مضبوط ترین عسکری قوتوں میں شمار ہوتا ہے۔
اگر دونوں ممالک سفارتی ذرائع سے معاملات کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہتے ہیں تو شام میں کسی بھی فوجی واقعے کے اثرات شام کی حدود سے باہر نکل سکتے ہیں۔
خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی
اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی دراصل مشرق وسطیٰ میں طاقت کے نئے توازن کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ شام میں اقتدار اور سکیورٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی نے کئی علاقائی طاقتوں کو اپنے مفادات دوبارہ متعین کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اسرائیل کے لیے ترکیہ کی شام میں ممکنہ فوجی موجودگی ایک نئی تشویش ہے، جبکہ ترکیہ اسرائیلی کارروائیوں کو اپنی علاقائی پالیسی اور شام کے مستقبل میں مداخلت کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ اگر یہ باہمی بداعتمادی بڑھتی رہی تو شام میں کسی بھی معمولی واقعے کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔
موجودہ صورتحال میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان سکیورٹی معاملات کو براہ راست فوجی تصادم کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ امریکا سمیت دیگر طاقتوں کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خطے میں مزید محاذ آرائی کو کیسے روکتے ہیں۔ شام میں امن اور استحکام کی کوششیں پہلے ہی کئی چیلنجز کا شکار ہیں، ایسے میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان نئی کشیدگی پورے خطے کے لیے ایک خطرناک موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔
