پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی وابستگی صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، دفاعی اور عوامی روابط پر مبنی ایک وسیع شراکت داری موجود ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی

عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر مکمل طور پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا عزم سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مسلمانوں کے دونوں مقدس ترین مقامات کے تحفظ تک پھیلا ہوا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کو کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع فراہم کرتا رہے گا اور سعودی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔

کسی بھی حد تک جانے کا عزم

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے عوام، مسلح افواج اور قیادت کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات اس عزم کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض ریاستی سطح کے سفارتی روابط نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی اور برادرانہ تعلقات سے جڑے ہوئے ہیں۔

مقدس مقامات کا تحفظ

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کو بھی خصوصی اہمیت دی۔

ان کے بیان کے مطابق پاکستان کی ذمہ داری اور وابستگی سعودی عرب کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ ان مقدس مقامات کی حفاظت کے عزم سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر مؤقف کو دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ تعلقات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔

سعودی قیادت سے مسلسل رابطہ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال کے دوران پاکستان مختلف حکومتوں کے ساتھ مشاورت اور رابطے کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کی حکومتوں کے ساتھ مل کر مذاکرات اور پُرامن حل کے امکانات تلاش کررہا ہے تاکہ موجودہ کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ ہونے سے روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں :دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنا ہونگے،مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات کو راستہ قرار دیا

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو موجودہ پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک اہم اور حقیقی راستہ قرار دیا۔

ان کے مطابق پاکستان مذاکرات کے ذریعے اختلافات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی کوششوں پر یقین رکھتا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو اور ایسے نکات تلاش کیے جائیں جن پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے اور پاکستان مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت کے لیے ممکنہ راستے تلاش کررہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں فوجی اور سفارتی صورتحال پیچیدہ ہے اور مختلف ممالک اپنے اپنے سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کررہے ہیں۔

پاکستان کا سفارتی کردار

پاکستان نے موجودہ صورتحال میں اپنے آپ کو صرف ایک فریق کے طور پر محدود رکھنے کے بجائے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوششوں پر بھی زور دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خطے میں سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

دفاعی تعلقات کی تاریخی بنیاد

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تربیت، مشقوں اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مختلف سلسلے جاری رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے فوجی اور حکومتی رابطے بھی باقاعدگی سے ہوتے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں نمایاں رہی ہے۔

پُرامن حل کی کوشش

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک طرف سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے غیر مشروط عزم کو واضح کیا، تو دوسری جانب مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو بھی موجودہ صورتحال سے نکلنے کا راستہ قرار دیا۔

ان کے مطابق پاکستان سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک سے بھی مشاورت کررہا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کی بنیاد تلاش کی جاسکے۔

یوں پاکستان کا موجودہ مؤقف دو پہلوؤں پر مشتمل دکھائی دیتا ہے: ایک جانب سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے واضح اور مضبوط عزم، جبکہ دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کو مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کم کرنے کی کوشش۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور موجودہ پیچیدہ صورتحال میں سفارتی راستے تلاش کرنے کا عمل بھی جاری رکھے گا۔

ہمیں فالو کریں