اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اگلے مرحلے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور امریکا اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے بڑے حملوں کی طرف دوبارہ جانے پر غور کر رہا ہے۔
جنگ اہم مرحلے میں داخل
امریکی صدر نے ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں پہنچ چکی ہے جہاں واشنگٹن کو اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا کے سامنے مختلف راستے موجود ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنا بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ایران کے خلاف کارروائی کے اگلے مرحلے پر غور کر رہی ہے، تاہم ساتھ ہی ایران کے ساتھ رابطوں کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ تہران براہ راست امریکا سے رابطے میں ہے۔
ایران سے معاہدے کا امکان
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایرانی فریق اب بھی امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی راستہ بھی واشنگٹن کے زیر غور ہے۔
امریکی صدر نے ماضی میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کی بات کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ان کے بیانات میں فوجی دباؤ اور ممکنہ مذاکرات دونوں پہلو نمایاں ہیں۔
خلیجی ممالک سے مشاورت
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے سے متعلق خلیجی اتحادیوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کا کینیڈا کو الٹا فائدہ؟ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اربوں ڈالر کا امکان
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے جب خلیج میں جاری کشیدگی نے توانائی، بحری آمدورفت اور تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ان ممالک کے رہنماؤں سے آئندہ حکمت عملی پر بات کریں گے۔
تیل کی برآمدات متاثر
امریکی صدر نے ایران کی تیل کی برآمدات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے لیے تیل برآمد کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے اس صورتحال کے باوجود تیل برآمد کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران امریکی فوج نے بعض جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل بھی امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ راستہ خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تجارتی اور توانائی کے جہازوں کی نقل و حرکت بھی معمول سے کم رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔
فوجی کارروائی یا مذاکرات؟
ٹرمپ کے تازہ بیان میں ایک طرف بڑے پیمانے پر حملوں کی دھمکی موجود ہے تو دوسری جانب ایران کے ساتھ براہ راست رابطے اور ممکنہ معاہدے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے بڑے حملوں کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے، تاہم خلیجی اتحادیوں سے مشاورت بھی آئندہ فیصلے کا حصہ ہوگی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن جنگ کے اگلے مرحلے کے بارے میں علاقائی اتحادیوں کے موقف کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی محاذ آرائی پہلے ہی خلیجی ممالک، بحری راستوں اور عالمی توانائی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ حالیہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کے علاوہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستوں پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایسے حالات میں امریکا کی جانب سے مزید بڑے حملوں کا فیصلہ خطے میں فوجی دباؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیے جانے کی صورت میں جنگ بندی یا کسی نئے معاہدے کی کوششیں بھی آگے بڑھ سکتی ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق اب اگلے مرحلے کا فیصلہ اہم ہے اور وہ خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایران کے معاملے پر اپنی حکمت عملی کے حوالے سے مزید اقدامات پر غور کریں گے۔
