اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان آج سے اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھالنے جا رہا ہے، جسے عالمی سطح پر پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو ایسے وقت میں کانفرنس کی صدارت مل رہی ہے جب دنیا کو جوہری ہتھیاروں، نئی دفاعی ٹیکنالوجی، خلا میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں اور عالمی سطح پر تیزی سے تبدیل ہوتی سکیورٹی صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
طاہر اندرابی کانفرنس کے نئے صدر ہوں گے
سفارتی ذرائع کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے نئے صدر ہوں گے۔ طاہر اندرابی کانفرنس کے اجلاس کی صدارت کے لیے جنیوا میں موجود ہیں، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف اہم اجلاسوں کی کارروائی کی نگرانی کریں گے۔
پاکستان کی صدارت کو اس اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک تخفیفِ اسلحہ، جوہری عدم پھیلاؤ اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق معاملات پر مذاکرات کرتے ہیں۔
سالانہ رپورٹ کی تیاری بھی پاکستان کی ذمہ داری
سفارتی ذرائع کے مطابق کانفرنس کی صدارت کے دوران پاکستان سالانہ رپورٹ بھی تیار کرے گا، جسے بعد ازاں رکن ممالک کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
یہ ذمہ داری پاکستان کو کانفرنس کے اہم معاملات میں نہ صرف انتظامی بلکہ سفارتی کردار بھی فراہم کرے گی۔ پاکستان مختلف ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے اور اختلافی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سہولت کاری بھی کرے گا۔
2027 کے ایجنڈے پر مشاورت
پاکستان اپنی صدارت کے دوران کانفرنس کے 2027 کے ایجنڈے کی تیاری کے لیے مشاورت اور مذاکرات میں بھی سہولت فراہم کرے گا۔ اس عمل میں مختلف رکن ممالک کی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ سال کے لیے اہم موضوعات کا تعین کیا جائے گا۔
اس حوالے سے پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ مختلف ممالک کے درمیان موجود اختلافات کے باوجود ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں تخفیفِ اسلحہ اور عالمی سلامتی سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکے۔
خلا میں اسلحے کی دوڑ روکنے پر اہم بحث
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اپنی صدارت کے دوران رواں ہفتے خلا میں اسلحے کی دوڑ کی روک تھام، یعنی PAROS کے معاملے پر اہم مباحثہ بھی منعقد کرائے گا۔
خلا میں عسکری ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے باعث یہ معاملہ عالمی سکیورٹی کے لیے مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک سیٹلائٹس اور دیگر خلائی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ ان نظاموں کو فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس موضوع کو اہمیت دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد تخفیفِ اسلحہ کے روایتی معاملات کے ساتھ ساتھ نئی ابھرتی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی کے خطرات پر بھی عالمی سطح پر بحث کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ بھی ایجنڈے میں شامل
کانفرنس میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خاتمے اور جوہری جنگ کی روک تھام سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ موجودہ عالمی صورتحال میں جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے جوہری خطرات کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے جوہری جنگ کی روک تھام کے معاملے کو اہمیت دینا اس کی مجموعی سفارتی پالیسی کے تناظر میں بھی اہم ہے، کیونکہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن، تزویراتی استحکام اور ذمہ دارانہ جوہری رویے کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
منفی سلامتی کی ضمانتیں زیر غور آئیں گی
کانفرنس میں منفی سلامتی کی ضمانتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ اس تصور کے تحت جوہری طاقت رکھنے والی ریاستوں کی جانب سے بعض غیر جوہری ریاستوں کو اس بات کی یقین دہانیوں سے متعلق بات کی جاتی ہے کہ ان کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
یہ معاملہ طویل عرصے سے عالمی تخفیفِ اسلحہ مذاکرات کا حصہ ہے اور مختلف ممالک اس حوالے سے اپنی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔
فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت پر توجہ
پاکستان کی صدارت کے دوران فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت یعنی AI کے استعمال کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ جدید ٹیکنالوجی نے جنگی صلاحیتوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کردی ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کے دفاعی نظام میں مزید اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
خودکار ہتھیاروں، نگرانی کے نظام، ہدف کے تعین اور دفاعی فیصلہ سازی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے عالمی سطح پر نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تخفیفِ اسلحہ کے فورمز پر اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر بحث کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
عالمی امن اور تزویراتی استحکام
کانفرنس میں عالمی اور علاقائی امن، سکیورٹی اور تزویراتی استحکام سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ پاکستان کی صدارت ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہے جب مختلف خطوں میں کشیدگی، مسلح تنازعات اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں عالمی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کررہی ہیں۔
ایسے ماحول میں پاکستان کو مختلف ممالک کے درمیان مذاکرات اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے اہم سفارتی موقع
اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کی صدارت پاکستان کو عالمی سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اہم مباحث میں نمایاں سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
پاکستان کے لیے یہ موقع اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
کانفرنس کی صدارت کے دوران پاکستان کی اصل کامیابی اس بات سے جڑی ہوگی کہ وہ اختلافات کا شکار عالمی ماحول میں مذاکرات کا عمل کس حد تک آگے بڑھاتا ہے اور تخفیفِ اسلحہ، جوہری جنگ کی روک تھام، خلا میں اسلحے کی دوڑ اور مصنوعی ذہانت جیسے حساس معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کتنا مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
