اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں، لیکن موجودہ بڑھتی ہوئی آبادی، پیچیدہ انتظامی مسائل اور حکمرانی کی کمزور ہوتی صلاحیت نے اس بحث کو ایک بار پھر قومی سطح پر اہم بنا دیا ہے۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں چار صوبے کم ہیں یا روس میں 89 وفاقی اکائیاں زیادہ، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی نظام عوام تک کتنی مؤثر انداز میں پہنچ رہا ہے۔
روس اور پاکستان کا تقابلی جائزہ
روس دنیا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے اور تقریباً 14 کروڑ 61 لاکھ آبادی کے باوجود 89 وفاقی اکائیوں کے ذریعے انتظامی امور چلاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، مگر ملک بنیادی طور پر چار بڑے صوبوں میں تقسیم ہے۔
یہاں تقابل کا مقصد روس کی نقل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کا جغرافیہ، تاریخ، سیاسی نظام اور وفاقی ڈھانچہ مختلف ہے۔ تاہم روس کا انتظامی ماڈل یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ بڑے ملک کو نسبتاً چھوٹی اور قابلِ انتظام اکائیوں میں تقسیم کرنا لازماً وفاق کو کمزور نہیں کرتا۔
پنجاب کی آبادی ایک بڑا سوال
پاکستان میں سب سے زیادہ توجہ پنجاب کی آبادی پر جاتی ہے، جہاں 2023 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ افراد آباد ہیں۔ یہ تعداد پورے روس کی آبادی کے انتہائی قریب ہے۔
ایک ہی صوبائی حکومت کے تحت اتنی بڑی آبادی کو صحت، تعلیم، پولیس، زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی اور دیگر شعبوں میں یکساں معیار کی سہولت فراہم کرنا آسان کام نہیں۔ یہی مسئلہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف جغرافیائی حالات میں بھی اپنی اپنی شکل میں موجود ہے۔
بڑے صوبے، بڑا انتظامی بوجھ
موجودہ نظام کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت اور دور دراز اضلاع کے درمیان انتظامی فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ کسی علاقے کے شہری کو معمولی سرکاری کام کے لیے بھی کئی مراحل اور دفاتر سے گزرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کی کوششیں تیز، چین، روس، ترکیہ اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری میں دلچسپی
اگر انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی ہوں تو حکومت کی رسائی بہتر ہوسکتی ہے، فیصلے تیزی سے ہوسکتے ہیں اور مقامی مسائل کو مقامی سطح پر سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔
لیکن صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر نئے صوبے بھی وہی مرکزیت اختیار کرلیں جو موجودہ صوبوں میں نظر آتی ہے تو عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔
محسن نقوی کا بیان کیوں اہم ہے؟
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام حکمرانی کو مؤثر بنانے اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی دعوت اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ معاملہ دوبارہ قومی سیاسی بحث میں آیا ہے۔
تاہم اس بحث کو سیاسی نعروں کے بجائے اعداد و شمار، معاشی استعداد، جغرافیہ، آبادی اور عوامی ضرورت کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔ کسی بھی صوبے کی تشکیل صرف سیاسی مفاد یا انتخابی حساب کتاب کے تحت ہوئی تو اصلاح کے بجائے ایک نیا انتظامی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز
پاکستان میں یہ تجویز بھی سامنے آتی رہی ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ اس تصور میں ایک خوبی یہ ہے کہ نئی انتظامی اکائیوں کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
تاہم ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا بھی لازماً درست فارمولا نہیں۔ بعض ڈویژن معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہوسکتے، بعض کا رقبہ بہت بڑا جبکہ آبادی کم ہوسکتی ہے اور بعض علاقوں میں قدرتی وسائل، پانی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔اس لیے ایک ہی فارمولا پورے پاکستان پر لاگو کرنا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔
نئے صوبے یا مضبوط بلدیاتی نظام؟
اس بحث کا سب سے اہم پہلو بلدیاتی نظام ہے۔ اگر نئے صوبے بنا کر تمام اختیارات نئے دارالحکومتوں میں منتقل کردیے گئے تو عام شہری کو شاید کوئی خاص فرق محسوس نہ ہو۔
اصل اصلاح اس وقت ہوگی جب ضلع، تحصیل، شہر اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب حکومتوں کو حقیقی اختیارات اور مالی وسائل دیے جائیں۔ پانی، صفائی، مقامی سڑکیں، بنیادی صحت، پرائمری تعلیم اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہییں۔
صوبے بنیں تو اخراجات بھی دیکھنے ہوں گے
نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ایک بڑا خطرہ سرکاری اخراجات میں اضافے کا ہے۔ اگر ہر صوبے کے لیے نیا گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، اسمبلی کمپلیکس، وزرا، مشیر، سرکاری گاڑیاں اور نئی بیوروکریسی بنائی گئی تو انتظامی اصلاح ایک مہنگا منصوبہ بن سکتی ہے۔
اس کے برعکس موجودہ سرکاری عمارتوں کو استعمال کرتے ہوئے محدود کابینہ، مختصر اسمبلی اور جدید ڈیجیٹل نظام اپنایا جائے تو نئے صوبوں کے اخراجات کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔
قومی کمیشن ہی بہتر راستہ
میرے نزدیک پاکستان کو فوری طور پر آٹھ، دس یا بارہ صوبے بنانے کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے ایک بااختیار قومی کمیشن قائم ہونا چاہیے جو آبادی، رقبے، معیشت، وسائل، انتظامی فاصلے اور عوامی رائے کی بنیاد پر مختلف ماڈلز تیار کرے۔
آٹھ، دس اور بارہ صوبوں کے ماڈلز کے ساتھ ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز کا بھی مالی اور انتظامی جائزہ لیا جائے۔ پھر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے مکمل اعداد و شمار رکھے جائیں۔
اصل مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا ہے
نئے صوبوں کی بحث کو لسانی یا نسلی سیاست سے نکال کر گورننس کی بحث بنانا ہوگا۔ مقصد کسی موجودہ صوبے کو کمزور کرنا یا کسی سیاسی جماعت کو نیا اقتدار دینا نہیں، بلکہ ریاستی نظام کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔
پاکستان کو روس کی طرح 89 وفاقی اکائیوں کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ سوال ضرور سنجیدگی سے پوچھنا ہوگا کہ کیا 24 کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچہ مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہے؟
اگر نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، منصفانہ وسائل کی تقسیم، محدود انتظامی اخراجات اور واضح آئینی طریقہ کار اپنایا جائے تو انتظامی تقسیم پاکستان کو کمزور کرنے کے بجائے وفاق کو مزید مضبوط کرسکتی ہے۔ اصل کامیابی صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہوگی کہ عام شہری کو ریاست پہلے سے زیادہ قریب، تیز اور جواب دہ محسوس ہو۔
