اسلام آباد کی طرف یہ پی ٹی آئی کی آخری کوشش ہوگی، خواجہ آصف

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو سومنات کے مندر سے تشبیہ دی جا رہی ہے، تاہم ان کے مطابق اسلام آباد کی طرف پی ٹی آئی کی یہ آخری کوشش ہوگی اور اس کے بعد وہ دوبارہ اسی انداز میں وفاقی دارالحکومت کا رخ نہیں کرسکیں گے۔

خواجہ آصف نے یہ گفتگو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے وفد میں شامل ہونے کے دوران ایک حالیہ انٹرویو میں کی۔

اسلام آباد سے متعلق سوال

انٹرویو کے دوران خواجہ آصف سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کو سومنات کے مندر سے تشبیہ دینے کے حوالے سے سوال کیا گیا۔

وزیر دفاع نے اس حوالے سے کہا کہ اگر پی ٹی آئی والے اسلام آباد کو سومنات سے تشبیہ دے رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے عزائم بھی اسی نوعیت کے ہیں۔

بڑی اسلامی ریاست کا دارالحکومت

خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے۔ ان کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ہونے والی کسی بھی بڑی سیاسی سرگرمی کے اثرات صرف شہر تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ملک کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔

آخری کوشش کا دعویٰ

وزیر دفاع نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو اسلام آباد کی طرف یہ پی ٹی آئی کی آخری کوشش ہوگی۔ ان کے مطابق اس کے بعد تحریک انصاف کے لوگ اسی طرح دوبارہ وفاقی دارالحکومت کی طرف رخ نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔

پی ٹی آئی نہ آنے کا امکان

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ شاید پی ٹی آئی والے اسلام آباد آئیں ہی نہ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف اسلام آباد نہ آنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ بھی ایک فیصلہ کن بات ہوگی۔ وزیر دفاع کے مطابق اب وفاق یا پاکستان اس طرح کی چیزوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

سیاسی کشیدگی برقرار

خواجہ آصف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی اختلافات اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔

تحریک انصاف مختلف مواقع پر اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کرتی رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران امن و امان اور معمولات زندگی متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف

وزیر دفاع کے تازہ بیان سے واضح ہے کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں کسی بڑی سیاسی سرگرمی کو حساس معاملہ سمجھتی ہے۔ خواجہ آصف نے اپنے بیان میں وفاقی دارالحکومت کی اہمیت اور ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک مزید ایسی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا جس سے وفاقی دارالحکومت کے معاملات متاثر ہوں۔

فیصلہ کن مرحلے کی بات

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں بار بار موجودہ صورتحال کو فیصلہ کن مرحلے سے جوڑا۔ ان کے مطابق اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کا رخ کرتی ہے تو یہ اس کی آخری کوشش ہوسکتی ہے، جبکہ اگر تحریک انصاف اسلام آباد نہ آنے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ بھی ایک اہم اور فیصلہ کن بات ہوگی۔

اسلام آباد کی حساسیت

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ملک کے اہم ترین ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور حکومت کا مرکز ہے۔ اسی وجہ سے یہاں ہونے والی بڑی سیاسی سرگرمیاں ملکی سیاست میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

خواجہ آصف کے بیان میں بھی اسلام آباد کی اسی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی ریاست ہے اور اس کے دارالحکومت میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے جس سے ریاستی امور متاثر ہوں۔

سیاسی منظرنامہ

وزیر دفاع کے بیان کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی اختلافات کے تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج اور اس پر حکومتی ردعمل ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ حکومت موجودہ حالات میں مزید ایسی صورتحال کی گنجائش نہیں سمجھتی، جبکہ اسلام آباد کی جانب ممکنہ سیاسی پیش قدمی کو انہوں نے فیصلہ کن مرحلے سے تعبیر کیا ہے۔

ہمیں فالو کریں