امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کردی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد معمولی فرق سے مسترد کردی۔ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں قرارداد کے حق میں 49 سینیٹرز نے ووٹ دیا جبکہ 50 نے مخالفت کی، جس کے بعد قرارداد سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

قرارداد کا مقصد

ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا بنیادی مقصد صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے اختیارات کو محدود کرنا تھا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اس وقت تک روکی جائیں جب تک امریکی کانگریس ان کی باضابطہ اجازت نہ دے۔

اس اقدام کے ذریعے کانگریس کے اس آئینی کردار کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی جس کے تحت جنگ اور فوجی کارروائیوں سے متعلق بڑے فیصلوں میں قانون ساز ادارے کی منظوری کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

ایوان نمائندگان سے منظوری

یہ قرارداد جولائی میں امریکی ایوان نمائندگان سے بھی منظور ہوچکی تھی۔ تاہم سینیٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اسے وہ حمایت حاصل نہ ہوسکی جو اسے منظور کرانے کے لیے ضروری تھی۔

سینیٹ میں 49 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 50 ارکان نے اسے مسترد کردیا۔ یوں ایک ووٹ کے فرق سے قرارداد ناکام ہوگئی اور صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی یہ کوشش آگے نہ بڑھ سکی۔

پارٹی بنیادوں پر ووٹنگ

ووٹنگ بڑی حد تک پارٹی وابستگی کی بنیاد پر ہوئی۔ زیادہ تر ریپبلکن سینیٹرز نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ تقریباً تمام ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اس کی حمایت کی۔

چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی پارٹی کی اکثریتی پوزیشن سے ہٹ کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ ان میں سوزن کولنز، لیزا مرکوسکی، رینڈ پال اور تھام ٹِلِس شامل تھے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمن نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ سینیٹر اینجلا السو بروکس ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئیں۔

کانگریس کے کردار پر بحث

قرارداد کی حمایت کرنے والے قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں جیسے اہم فیصلوں میں کانگریس کو اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق فیصلہ صرف انتظامیہ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ قانون ساز ادارے کو بھی اس عمل میں شامل ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا کینیڈا کو بڑا جھٹکا، بیلاروس سے سستی پوٹاش خریدنے کا منصوبہ

اس مؤقف کے برعکس ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ صدر کو ملک کے کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اختیارات حاصل ہیں۔ ان کے نزدیک قومی سلامتی اور فوجی حالات میں صدر کو فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت برقرار رہنی چاہیے۔

ٹرمپ کے اختیارات برقرار

سینیٹ سے قرارداد مسترد ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے اختیارات کو کانگریسی منظوری سے مشروط کرنے کی یہ کوشش فی الحال ناکام ہوگئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سینیٹ نے اس مرحلے پر ایسا اقدام منظور نہیں کیا جس کے تحت ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی نئی باضابطہ منظوری ضروری قرار دی جاتی۔

جنگ کے دوران اہم ووٹنگ

یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے باعث واشنگٹن میں صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار پر بحث جاری ہے۔

ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں نے امریکی سیاسی حلقوں میں یہ سوال دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ بیرون ملک فوجی طاقت استعمال کرنے کے فیصلے میں صدر اور کانگریس کے اختیارات کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔

معمولی فرق سے فیصلہ

سینیٹ میں قرارداد کی ناکامی کا فیصلہ انتہائی معمولی فرق سے ہوا۔ اگر ایک اضافی سینیٹر قرارداد کے حق میں ووٹ دیتا تو نتیجہ مختلف ہوسکتا تھا، تاہم موجودہ ووٹنگ میں مخالفت کرنے والے سینیٹرز کی تعداد ایک ووٹ سے زیادہ رہی۔

49 کے مقابلے میں 50 ووٹ آنے کے بعد قرارداد مسترد ہوگئی اور ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے متعلق فوجی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش سینیٹ کی سطح پر آگے نہ بڑھ سکی۔

بحث بدستور جاری

قرارداد کی ناکامی کے باوجود صدر کے جنگی اختیارات اور کانگریس کے کردار سے متعلق بحث ختم نہیں ہوئی۔ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران یہ معاملہ واشنگٹن میں سیاسی اور آئینی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔

تازہ ووٹنگ نے ایک مرتبہ پھر صدر کے فوجی اختیارات، کانگریس کی منظوری اور جنگ سے متعلق آئینی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کے سوال کو امریکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

ہمیں فالو کریں