رشمیکا مندانا کا فلمی سفر، مختلف زبانوں میں کام کیسے ملتا گیا؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)بھارتی اداکارہ رشمیکا مندانا کا فلمی کیریئر ایک زبان یا ایک فلمی صنعت تک محدود نہیں رہا۔ تیلگو، کناڈا، تامل اور ہندی سنیما میں کام کرنے والی اداکارہ کا کہنا ہے کہ مختلف زبانوں کی فلموں میں قدم رکھنے کے پیچھے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں تھی بلکہ حالات اور کام کے مواقع انہیں ایک صنعت سے دوسری صنعت تک لے جاتے رہے۔

زبان کبھی رکاوٹ نہیں بنی

کرناٹک کے ضلع کوڈاگو سے تعلق رکھنے والی رشمیکا کا کہنا ہے کہ زبان ان کے لیے کبھی پیشہ ورانہ رکاوٹ نہیں رہی۔ ان کی مادری زبان کوڈاوا ٹک ہے، جس کی کوئی باقاعدہ بڑی فلمی صنعت موجود نہیں۔

اداکارہ کے مطابق اسی پس منظر نے انہیں مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے مانوس ہونے میں مدد دی۔ وہ مختلف زبانوں کو اپنے لیے اجنبی سمجھنے کے بجائے انہیں قبول کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

کوڈاوا شناخت پر فخر

رشمیکا نے بتایا کہ وہ خود کو ایک کوڈاوا سمجھتی ہیں اور کوڈاوا ٹک زبان بولتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کا تعلق ایسے ثقافتی پس منظر سے ہے جہاں ایک ہی زبان کی فلمی دنیا موجود نہ ہونے کے باعث مختلف زبانوں میں کام کرنا ان کے لیے غیر معمولی تجربہ نہیں تھا۔

اسی وجہ سے جب انہیں دوسری زبانوں کی فلموں میں کام کرنے کے مواقع ملے تو انہوں نے انہیں ایک چیلنج کے بجائے نئے تجربے کے طور پر لیا۔

تیلگو فلموں سے آغاز

اداکارہ کے مطابق ان کے فلمی سفر میں ایک زبان کے بعد دوسری زبان شامل ہوتی چلی گئی۔ ابتدا میں ان کے مداح، جنہیں وہ اپنا خاندان قرار دیتی ہیں، انہیں مشورہ دیا کرتے تھے کہ انہیں تیلگو فلموں میں بھی کام کرنا چاہیے۔

بعد میں یہی صورتحال ہندی فلموں کے حوالے سے پیدا ہوئی۔ اس طرح ایک کے بعد دوسرا موقع سامنے آتا گیا اور رشمیکا کا فلمی سفر مختلف زبانوں اور فلمی صنعتوں تک پھیلتا چلا گیا۔

ہندی سنیما میں بھی قدم

رشمیکا نے جنوبی بھارتی فلمی صنعتوں میں کام کرنے کے بعد ہندی سنیما میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ ان کے لیے یہ تبدیلی کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھی بلکہ مختلف مواقع اور کرداروں نے انہیں نئے ناظرین تک پہنچایا۔

اداکارہ کے مطابق وہ اپنے کیریئر کو کسی ایک زبان تک محدود رکھنے کے بجائے ہر اس کردار کو اہمیت دیتی ہیں جس میں انہیں اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کا موقع ملے۔

لہجے پر تنقید کی پروا نہیں

مختلف زبانوں میں کام کرنے کے دوران اداکارہ کے لہجے پر بھی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ تاہم رشمیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر اہمیت نہیں دیتیں۔

ان کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر ان سے کسی مخصوص زبان میں سوال کیا جائے تو وہ اسی زبان میں جواب دینے کی کوشش کریں۔ ان کے خیال میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ناظرین کے احترام کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔

اصل توجہ کردار پر

رشمیکا کے مطابق وہ فلم میں اپنے لہجے یا زبان سے متعلق ہونے والی بحث سے زیادہ اپنے کردار اور اداکاری پر توجہ دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اداکارہ کی بنیادی ذمہ داری سیٹ پر کہانی کو اچھی طرح پیش کرنا ہے۔ ان کے نزدیک فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد ان کا کام ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ذاتی زندگی کی طرف واپس آ جاتی ہیں۔

ہر فلم ایک نئی کوشش

اداکارہ نے بتایا کہ ہر فلم شروع کرتے وقت انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ پوری ٹیم اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے کچھ اچھا تخلیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وہ اپنے حصے کا کام پوری توجہ سے کرنے پر یقین رکھتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ہر کردار میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں۔

کامیابی اجتماعی کوشش

رشمیکا کے مطابق کسی فلم کا حتمی نتیجہ کسی ایک فرد کی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ فلم سے وابستہ اداکار، ہدایت کار، مصنف، ٹیکنیکل ٹیم اور دیگر افراد مل کر ایک منصوبے کو مکمل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اسی لیے وہ دوسروں کے کام میں غیر ضروری مداخلت کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔

کئی زبانوں کا سفر جاری

رشمیکا مندانا کا فلمی سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک اداکارہ کس طرح مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان کام کرتے ہوئے اپنے دائرہ کار کو وسیع کر سکتی ہے۔ تاہم ان کے اپنے بیان کے مطابق یہ سفر کسی طویل مدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرے ملنے والے مواقع کا سلسلہ رہا ہے۔

رشمیکا کے لیے زبان سے زیادہ اہم کہانی، کردار اور اپنی اداکاری ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف فلمی صنعتوں میں کام کے تجربے کو اپنے کیریئر کا اہم حصہ سمجھتی ہیں۔

ہمیں فالو کریں