اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے پیش نظر عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی نگرانی اور ممالک کے درمیان بہتر تعاون کے لیے ایک نئے بین الاقوامی ادارے کی تجویز پیش کی ہے۔
کارنی کے مطابق دنیا کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت سمیت تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے خطرات اور چیلنجز پر عالمی سطح پر رابطہ کاری کرسکے۔
کارنی نے ایک ایسے "ٹیکنالوجی اسٹیبلٹی بورڈ” کے قیام کی تجویز دی ہے جو عالمی مالیاتی نظام کی نگرانی کرنے والے فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ کی طرز پر کام کرے۔ ان کے خیال میں مختلف ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور معلومات کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکی حکام توہین آمیز گفتگو بند کریں،مذاکرات سنجیدگی سے کریں، مارک کارنی کا واشنگٹن کو دوٹوک پیغام
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار، اس کے ممکنہ نقصانات اور اسے ریگولیٹ کرنے کے طریقہ کار پر شدید بحث جاری ہے۔ بعض AI ماہرین اور کمپنیوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ جدید ماڈلز کی صلاحیتیں اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ حفاظتی نظام کو بھی اسی رفتار سے ترقی دینا ضروری ہے۔
دوسری جانب AI کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بہت زیادہ پابندیاں ٹیکنالوجی کی ترقی کو متاثر کرسکتی ہیں اور ان ممالک کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جو مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
مارک کارنی عالمی تعاون کے حامی
مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جیسے شعبے میں صرف انفرادی ممالک کی کوششیں کافی نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی عالمی نوعیت کے باعث اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر رابطہ کاری ضروری ہے۔
ان کی تجویز کردہ ٹیکنالوجی اسٹیبلٹی تنظیم کا تصور عالمی مالیاتی نظام کے لیے قائم فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ سے ملتا جلتا ہے۔ فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے درمیان مالیاتی نظام سے متعلق تعاون اور سفارشات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کا ریفرنڈم، مارک کارنی کی موجودگی نے مہم میں نئی بحث چھیڑ دی
کارنی کا کہنا ہے کہ اسی نوعیت کا تعاون ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں۔
کینیڈا میں AI سیفٹی کو ترجیح
کینیڈین حکومت نے بھی مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے AI اور ڈیجیٹل انوویشن ایوان سولومن کے مطابق حکومت کی اولین ترجیحات میں کینیڈین شہریوں کو ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا شامل ہے۔
کینیڈا نے AI سیفٹی سے متعلق تحقیق اور اقدامات کے لیے 150 ملین کینیڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے ریگولیٹری طریقہ کار کی ضرورت ہوگی جس کے ذریعے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حفاظتی تقاضوں کے حوالے سے جواب دہ بنایا جاسکے۔
