22
تحریر: شازیہ ملک
بھارت نے اپنی آزادی کے بعد 5 اگست 2019 کی صبح بھارتی تاریخ کے سب سے متنازع اور سخت فیصلوں میں سے ایک دیکھنے کو ملا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کئی دہائیوں پر محیط سیاسی ایجنڈے اور انتخابی وعدے کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں (یونین ٹیریٹریز) میں تقسیم کر دیا گیا۔
اس فیصلے کے حامیوں نے اسے بھارت کے مکمل قومی انضمام کی جانب آخری اور فیصلہ کن قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں گی، علیحدگی پسندی پر قابو پایا جا سکے گا، سکیورٹی مضبوط ہوگی اور جموں و کشمیر بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح یکساں آئینی ڈھانچے کے تحت آ جائے گا۔
اہم جدید بھارتی تاریخ کے اس انتہائی متنازع سیاسی فیصلے پر آئینی ماہرین، حزب اختلاف کے بھارتی رہنماوَں، انسانی حقوق کی تنظیموں، سابق اعلیٰ سرکاری افسران اور ماہرین تعلیم نے مسلسل یہ موَقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے اس طرح کا اپنایا گیا طریقہ کاربھارت کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے، جمہوری اداروں کو نقصان پہنچاتا ہے اور شہری آزادیوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
آئینی سوالات
اس فیصلے پر ہونے والی سب سے مضبوط تنقید اس بات پر مرکوز رہی کہ آرٹیکل 370 کو کس طریقے سے منسوخ کیا گیا، نہ کہ اس پرکہ آیا مستقبل میں اس میں ترمیم کی جا سکتی تھی یا نہیں۔
جموں اور کشمیر کے آ رٹیکل370 اے ، کی آئینی تاریخ کے مصنف ٓینی ماہر اے جی نورانی کاموقف تھا کہ حکومت نے آرٹیکل 370 می اے میں موجود آئینی تحفظات کو نظر انداز کیا۔ ان کے مطابق، جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی رضامندی کی جگہ، ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے دوران پارلیمنٹ کی منظوری کو بنیاد بنانا آئینی طور پر قابلِ اعتراض ہے۔ْ
قانونی ماہر گوتم بھاٹیا نے بھی اس ضمن میں دلیل دی ہے کہ حکومت نے عملاً صدر راج کا استعمال کرتے ہوئے وفاق اور ایک ریاست کے درمیان آئینی تعلقات کو تبدیل کیا، جس سے ایک ایسی ثال قائم ہوئی کہ مرکز، ایک ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے، اسی ریاست کی آئینی حیثیت میں بنیادی تبدیلی کر سکتا ہے۔
آئینی ماہر فیضان مصطفیٰ نے بھی اس بات پر سوال اٹھایا کہ آیا پارلیمنٹ قانونی طور پر ریاستی آئینی خودمختاری سے متعلق معاملات میں منتخب ریاستی اسمبلی کی جگہ لے سکتی ہے یا نہیں۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے جو آئینی طریقہ ار اختیار کیا، اس نے آئینی دفعات کو ان کے اصل مقصد سے بڑھ کر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کا وفاقی ڈھانچہ کمزور ہوا۔
وفاقی نظام د باوَکا شکار
بھارت کا آئین ایک وفاقی نظام قائم کرتا ہے جس کے تحت ریاستوں کو آئینی طور پر متعین اختیارات حاصل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 اے کی منسوخی نے اس توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔سابق بھارتی وزیرِ خزانہ پی۔ چدمبرم نے اس اقدام کو ایک خطرناک نظیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مرکز کسی ایک ریاست کو اس کی رضامندی کے بغیر یونین ٹیریٹری میں تبدیل کر سکتا ہے تو نظریاتی طور پر یہی اختیار مستقبل میں دیگر ریاستوں پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کانگریس کے ایک اور سینئر رہنما کپل سبل اور متعدد آئینی ماہرینِ قانون کے ساتھ مل کر خبردار کیا کہ اگر مرکزی حکومت کو منتخب ریاستی حکومت کی منظوری کے بغیر کسی ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا اختیار دیا گیا تو اس سے تمام بھارتی ریاستوں کو حاصل آئینی تحفظ کمزو ر ہو سکتا ے۔سیاسیات کے ماہر کرسٹوف جیفرلو کے مطابق یہ فیصلہ مودی حکومت کے دور میں سیاسی اختیارات کے بڑھتے ہوئے ارتکاز ( مرکزیت) کی عکاسی کرتا ہے۔
جمہوری طورپر نقصان
اس فیصلے پر ایک اور اہم تنقید اس کے سیاسی پس منظر سے متعلق ہے۔اعلان سے قبل کشمیر بھر میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے گئے۔ سیاسی رہنماوَں فاروق عبداللہ، جموں و کشمیر کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو حراست میں لے لیا گیا۔ انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی، کرفیو نافذ کیا گیا اور مواصلاتی نظام کئی ماہ تک بند رکھا گیا۔ناقدین کے مطابق ان وسیع پابندیوں نے بھارت کی آزادی کے بعد ہونے والی اہم ترین آئینی تبدیلیوں میں سے ایک پر جمہوری بحث و مباحثے کو عملاً ناممکن بنا دیا۔ریٹائرڈ سول سرونٹس کے گروپ "کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ” سے تعلق رکھنے والے سابق اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی سوال اٹھایا کہ جب کسی ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کی جا رہی ہو اور اسی دوران اس کے منتخب نمائندوں کو حراست میں رکھا جائے تو کیا ایسی صورتحال میں آئینی جمہوریت موَثر انداز میں کام کر سکتی ہے؟
انسانی حقوق سے متعلق خدشات
انسانی حقوق کی تنظیموں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد عائد کی جانے والی پابندیوں پر بارہا تنقید کی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ طویل عرصے تک مواصلاتی نظام کی بندش، احتیاطی بنیادوں پر گرفتاریاں اور پُرامن اجتماع پر
پابندیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔اسی طرح ہیومن رائٹس واچ نے بھی من مانی گرفتاریوں، ذرائع ابلاغ کی آزادی پر قدغن اور انٹرنیٹ کی طویل بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر کے دفتر نے بھی اظہارِ رائے، نقل و حرکت اور سیاسی عمل میں شرکت کی آزادی پر عائد پابندیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ دی نیویارک ٹائمز، دی واشنگٹن پوسٹ، دی گارڈین اور بی بی سی نیوز نے بھی تفصیلی رپورٹس شائع کیں جن میں مواصلاتی پابندیوں کے عام کشمیریوں پر اثرات کو اجاگر کیا گیا۔مودی حکومت نے ان میں سے بیشتر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے موَقف اختیار کیا کہ حساس عبوری مرحلے کے دوران تشدد اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے یہ عارضی پابندیاں ضروری تھیں۔
معاشی فوائد کے امکانات
بھارتی حکومت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 ۔ اے کے خاتمے سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بدعنوانی میں کمی آئے گی اور جموں و کشمیر بھارت کی معیشت میں مزید موَثر انداز میں ضم ہو جائے گا۔ناقدین اگرچہ بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور سیاحت میں اضافے کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ معاشی فوائد ان بڑے وعدوں کے مطابق نہیں رہے جو 2019 میں کیے گئے تھے۔ماہرینِ معاشیات اور علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق بے روزگاری بدستور برقرار ہے، نجی شعبے کی سرمایہ کاری محدود ہے اور خطہ اب بھی سرکاری مالی معاونت پر خاصا انحصار کرتا ہے۔کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال اب بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔بعض ناقدین کا یہ بھی موَقف ہے کہ معاشی ترقی سیاسی نمائندگی اور جمہوری شرکت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ْ
سیاسی نمائندگی
جوں و کشمیر کو ایک مکمل ریاست سے تبدیل کرکے یونین ٹیریٹری بنانا بھی ایک متنازع معاملہ رہا ہے اس سلسلہ میںاپوزیشن رہنماوَں کا موَقف ہے کہ ایک تاریخی ریاست کی حیثیت کم کرکے اسے براہِ راست مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں تبدیل کرنے سے جمہوری احتساب کمزور ہوا۔ریاست کی تنظیمِ نو کے بعد طویل عرصے تک منتخب قانون ساز اسمبلی کا وجود نہ ہونا بھی تنقید کا باعث بنا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دوران خطہ عوامی نمائندوں کے بجائے زیادہ تر بیوروکریسی کے ذریعے چلایا جاتا رہا، جس سے نمائندہ حکومت کا تصور متاثر ہوا۔حکومت کا موَقف رہا ہے کہ حلقہ بندیوںاور انتخابات کے بعد مناسب وقت پر جموں و کشمیر کا مکمل ریاست ہونے کا درجہ دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
آرٹیکل 370 ۔اے کی منسوخی کی آئینی حیثیت کو بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ آرٹیکل 370 ایک عارضی آئینی شق تھی اور صدرِ جمہوریہ کو منسوخی کے یہ احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل تھا جن کے ذریعے اس کی منسوخی ممکن ہوئی۔عدالت نے حکومت کو یہ ہدایت بھی دی کہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد دوبارہ ریاست کا درجہ دیا جائے اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرائے جائیں۔اگرچہ اس فیصلے سے قانونی تنازع کا خاتمہ ہو گیا، تاہم متعدد آئینی ماہرین اب بھی سپریم کورٹ کے استدلال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق قانونی جواز مل جانے سے آئینی روایات، جمہوری جواز اور وفاقی نظام سے متعلق وسیع تر بحث ختم نہیں ہو جاتی۔
بحث جاری ہے
سات سال گزرنے کے باوجود آرٹیکل 370 ۔ اے بھارت اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے سیاسی و آئینی معاملات میں شامل ہے۔مودی حکومت کے حامی بعض علاقوں میں عسکریت پسندانہ تشدد میں کمی، بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے اخراجات، فلاحی پروگراموں کے دائرہ کار میں توسیع اور ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ اس فیصلے کے باعث قومی یکجہتی مضبوط ہوئی ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آئینی طریقہ کار، جمہوری شرکت اور شہری آزادیوں پر سمجھوتہ کیا گیا۔ان کے مطابق آرٹیکل 370 ۔ اے کی منسوخی نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے، جس سے وفاقی نظام، انتظامی اختیارات اور آئینی تحفظات کے بارے میں اہم سوالات نے جنم لیاہے۔ ان کے نزدیک، خواہ اس اقدام کو قومی انضمام کی ایک تاریخی پیش رفت سمجھا جائے یا بھارت کی آئینی روایات سے انحراف، آرٹیکل 370 کی منسوخی آج بھی سیاسی مباحثے کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کا موَقف
پاکستان نے آرٹیکل 370 ۔ اے کی منسوخی کو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی ایک "غیر قانونی اور یکطرفہ” کوشش قرار دیا۔ پاکستانی حکومت نے مودی حکومت پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام جنوبی ایشیا میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔پاکستان کا مو¿قف رہا ہے کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع علاقہ ہے، لہٰذا حتمی تصفیے سے قبل کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اس کی آئینی یا قانونی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔اس فیصلے کے ردِعمل میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کر دیا، دوطرفہ تجارت معطل کر دی، بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور نئی دہلی سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لیا۔پاکستان نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر ایک وسیع سفارتی مہم بھی شروع کی، جس میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ خطے میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے متعلق اقدامات کا نوٹس لے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بارہا یہ مو¿قف اختیار کیا کہ بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن، 1972 کے شملہ معاہدے اور کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مختلف قراردادوں کے منافی ہیں۔اسلام آباد نے آئینی تبدیلیوں کے بعد مواصلاتی ابلاغی نظام کی طویل بندش، کشمیری سیاسی رہنماو¿ں کی گرفتاریوں اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں پر بھی شدید تنقید کی۔پاکستانی حکومتوں بشمول وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت والی حکومتے بھارت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مسلسل یہ مو¿قف برقرار رکھا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر ہے۔دوسری جانب بھارت مسلسل پاکستان موَقف کو مسترد کرتا آیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ آئینی تبدیلیاں اس کا داخلی معاملہ ہیں جبکہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔
بھارتی حکومت کا یہ بھی موَقف ہے کہ آرٹیکل 370 ۔ اے ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا اور اس کے خاتمے سے خطے میں بہتر طرزِ حکمرانی، سکیورٹی اور معاشی مواقع کو فروغ ملا ہے۔
چونکہ انتخابات، آئینی مباحث اور جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے سے متعلق بحث جاری ہے، آرٹیکل 370 ،اے کی منسوخی سیاسی، قانونی اور آئینی مباحث کا محور رہے گی جوبھارت کی آئینی تاریخ میں فیصلہ کن اور قطعی باب رہے گا ۔