اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی، تاہم اگر یہ اہم بحری راستہ بند رہا تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر خلیج کی صورتحال، تیل کی عالمی منڈی اور امریکا ایران تعلقات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کا سخت پیغام
امریکی صدر نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا ایران کے معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن انتہائی سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم تہران کی جانب سے مذاکرات کی درخواست سامنے آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور صورتحال کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی پر فوری نظر آتے ہیں۔
اگر یہ راستہ طویل عرصے تک بند رہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
مذاکرات یا تصادم؟
ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہونا ضروری ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ امریکا طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر بات چیت ناکام ہوئی تو صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
عالمی منڈی کی نظریں خلیج پر
خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ سرمایہ کار اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کسی بھی نئی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران کو کمزور کرنے اور آبنائے ہرمز میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا: ایرانی فوج
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کی معیشت، تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایران کے لیے بڑھتا دباؤ
امریکی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر سفارتی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کئی سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔
ایران بھی ماضی میں واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گا۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی غلط فہمی کے خطرناک نتائج سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
سیاسی محاذ پر ٹرمپ کا بیان
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے امریکی داخلی سیاست پر بھی گفتگو کی اور ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی نظریات امریکا کے بڑے شہروں کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔
ٹرمپ نے سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نظریات کے زیر اثر چلنے والے بعض شہر بدحالی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا اہم موضوع رہے گا۔ اگر امریکا اور ایران مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے تک پہنچتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کانیا ٹیرف عدالت میں چیلنج، 25 ڈیموکریٹک ریاستیں حکومت کے خلاف میدان میں آگئیں
خلیج کی صورتحال پر نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی توانائی اور معاشی استحکام سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔