اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر وون کی ایک خاتون نے اپنے شوہر کے قتل کے بعد درپیش ذہنی اور جذباتی مشکلات کو دیکھتے ہوئے جرائم کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے مزید مدد کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔ ہیدر جونز پارکس کا کہنا ہے کہ کسی عزیز کو جرم میں کھونے کے بعد بحالی کا سفر بہت طویل ہوتا ہے، جبکہ دستیاب کونسلنگ متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔
ایک فون کال نے زندگی بدل دی
ہیدر جونز پارکس کے شوہر ڈیلروئے ’’جارج‘‘ پارکس کو 2 جون 2024 کو نارتھ ایٹو بیکو کے ایک ہائی اسکول کے باہر فائرنگ کے واقعے میں قتل کردیا گیا تھا۔
وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فٹبال میچ کے بعد وہاں موجود تھے کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ہیدر کے مطابق اس رات آنے والی ایک فون کال نے ان کے خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
فائرنگ کا نشانہ بن گئے
ہیدر کا کہنا ہے کہ دو علاقوں کے درمیان گینگ تنازع موجود تھا اور متعلقہ افراد ایک دوسرے تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ ان کے مطابق اسی صورتحال میں اچانک فائرنگ کی گئی اور ان کے شوہر اس فائرنگ کی زد میں آگئے۔ڈیلروئے پارکس اس تنازع کا حصہ نہیں تھے، تاہم فائرنگ کے دوران وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
دو سال بعد بھی غم برقرار
شوہر کی موت کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ہیدر اور ان کا خاندان اس صدمے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔
ان کے مطابق کسی قریبی شخص کا اچانک اور پُرتشدد انداز میں قتل ہوجانا ایسا تجربہ ہے جس کے اثرات صرف ابتدائی دنوں یا ہفتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ طویل عرصے تک خاندان کے افراد کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ابتدائی مدد تو ملی
واقعے کے فوراً بعد ہیدر کو اونٹاریو کے متاثرینِ جرم کے لیے قائم سروسز کے ذریعے مدد فراہم کی گئی۔ یہ سرکاری معاونتی نظام جرائم کا شکار ہونے والے افراد اور ان کے خاندانوں کو کونسلنگ سمیت مختلف خدمات فراہم کرتا ہے۔تاہم ہیدر کے مطابق ابتدائی مدد کے باوجود ان کے لیے دستیاب ذہنی صحت کی معاونت کافی نہیں تھی۔
کونسلنگ کے محدود سیشن
ہیدر کا کہنا ہے کہ انہیں صرف چند کونسلنگ سیشن فراہم کیے گئے اور ان کے پاس کونسلر کے انتخاب کے بھی محدود اختیارات تھے۔
ان کے مطابق کسی عزیز کے قتل جیسے شدید صدمے سے نمٹنے کے لیے چند سیشن کافی نہیں ہوتے، کیونکہ متاثرہ خاندان کے ذہن میں واقعے کے کئی سال بعد بھی سوالات موجود رہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہر کی موت کے بارے میں آج بھی ایسے سوالات پریشان کرتے ہیں جن کے جواب شاید کبھی نہ مل سکیں۔
یہ بھی پڑھیں :ڈگ فورڈ نے اولیویا چو کی حمایت کی یا نہیں؟ ٹورنٹو میئر الیکشن سے پہلے نیا تنازع
’’مجھے مزید مدد کی ضرورت ہے‘‘
ہیدر کے مطابق وہ ذاتی طور پر مزید پیشہ ورانہ مدد چاہتی ہیں لیکن نجی تھراپسٹ کی فیس برداشت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سوال بار بار پریشان کرتے ہیں کہ ان کے شوہر کے آخری لمحات کیسے گزرے ہوں گے، ان کی موت کے وقت ان کے پاس کون موجود تھا اور اس وقت وہ کیا محسوس کررہے تھے۔ان کے مطابق ایسے سوالات ذہنی طور پر بہت مشکل ہوتے ہیں اور متاثرین کے لیے طویل مدتی مدد ضروری ہے۔
دیگر متاثرین بھی ساتھ آگئے
شوہر کے قتل کے بعد ہیدر کی ملاقات ایسے دیگر افراد سے بھی ہوئی جو جرائم کے باعث اپنے قریبی رشتہ داروں کو کھو چکے ہیں۔
ان تجربات نے انہیں متاثرین کے لیے مزید بہتر نظام کے مطالبے کی طرف متوجہ کیا۔ اب وہ دیگر متاثرین کے ساتھ مل کر حکومتی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کررہی ہیں۔
سیاسی قیادت سے ملاقاتیں
ہیدر اور دیگر متاثرین نے حال ہی میں ٹورنٹو کی میئر اولیویا چو سے ملاقات کرکے اپنے مسائل بیان کیے۔ہیدر کی کم از کم ایک اونٹاریو رکن صوبائی اسمبلی کے ساتھ بھی ملاقات طے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش کا مقصد مالی معاوضہ یا چیک حاصل کرنا نہیں بلکہ حکام کو یہ بتانا ہے کہ جرائم سے متاثرہ خاندانوں کو ذہنی اور جذباتی بحالی کے لیے زیادہ مؤثر مدد درکار ہے۔
حکومت کی جانب سے 62 ملین ڈالر
متاثرین کی خدمات کی نگرانی کرنے والی وزارت کے مطابق حکومت جرائم کے متاثرین، بچ جانے والے متاثرین اور گواہوں کی مدد کے لیے 62 ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کررہی ہے۔
اس رقم میں تقریباً 22 ملین ڈالر وکٹم کرائسز اسسٹنس اونٹاریو پروگرام کے لیے مختص ہیں، جو متاثرین کی ضروریات کو مرکز میں رکھتے ہوئے مختلف معاونت فراہم کرتا ہے۔
مطالبہ طویل مدتی مدد کا
حکومتی سرمایہ کاری کے باوجود ہیدر کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے دستیاب مدد اب بھی ان کی حقیقی ضروریات کے مقابلے میں کم ہے۔
وہ اپنے ذاتی غم اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ دوسرے خاندانوں کے لیے بھی آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق جرم میں کسی عزیز کو کھونے والے خاندانوں کو صرف واقعے کے فوراً بعد مدد نہیں بلکہ طویل عرصے تک ایسی کونسلنگ اور ذہنی معاونت درکار ہوتی ہے جو انہیں اپنے سوالات، صدمے اور غم سے نمٹنے میں مدد دے سکے۔
